بین الافغان مذاکرات کے لیے حکومتی وفد کا اعلان خوش آئند اقدام ہے: زلمے خلیل زاد

  • ہفتہ 28 / مارچ / 2020
  • 5070

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے طالبان سے مذاکرات کے لیے ٹیم تشکیل دینے پر افغان حکومت کو مبارک باد دی ہے۔ ان کے بقول بین الافغان مذاکرات کی طرف ی اہم  پیش رفت ہے۔

زلمے خلیل زاد کا یہ بیان افغانستان کی حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے لیے 21 رکنی ٹیم کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ مذاکراتی ٹیم کی قیادت افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ معصوم استنکزئی کریں گے۔

خلیل زاد نے ایک ٹوئٹ میں بین الافغان مذاکرات کے لیے اتفاق رائے سے ٹیم کی تشکیل کو بامعنی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں افغان حکومت، سیاسی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو اتفاق رائے سے مذاکراتی وفد تشکیل دینے پر مبارک باد دیتا ہوں۔ انہوں نے طالبان سے بات چیت کے لیے ایک ایسی ٹیم تشکیل دی ہے جس میں سب فریقین کی نمائندگی ہے۔ زلمے خلیل زاد کا مزید کہنا تھا کہ طالبان سے بات چیت کے لیے افغانستان کے وفد میں خواتین کا بھی اہم کردار ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو افغانستان کی وزارت امن نے طالبان سے مذاکرات کے لیے 21 رکنی ٹیم کا اعلان کیا تھا جس کی قیادت افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ معصوم استنکزئی کریں گے۔ اس مذاکراتی وفد میں سیاسی رہنما، سابق عہدے داروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس ٹیم کو صدر اشرف غنی کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ کی بھی تائید حاصل ہے یا نہیں۔

یہ بھی واضح نہیں ہو سکا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کب شروع ہوں گے۔ طالبان کی طرف سے بھی اب تک اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ ادھر کابل میں امریکی سفارت خانے نے مذاکراتی ٹیم کی تشکیل کو اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان عوام کی توقعات پوری کرنے کی ذمہ داری اسی ٹیم پر ہے۔ امریکی سفارت خانے نے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت کروانے کے لیے تیار ہیں تاکہ افغانستان میں امن کا وعدہ پورا ہو سکے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والے امن معاہدے کے تحت بین الافغان مذاکرات کا آغاز رواں ماہ ہونا تھا۔ لیکن صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان پیدا ہونے والے سیاسی تنازع اور طالبان کے قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع نہ ہونے کے باعث بات چیت کا عمل اب تک شروع نہیں ہو سکا ہے۔ حال ہی میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہونے والی بات چیت میں فریقین نے قیدیوں کی رہائی پر اتفاق کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ یہ عمل 31 مارچ سے شروع ہو گا۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق طالبان اپنے قیدیوں کی شناخت کے لیے ایک وفد افغانستان بھیجیں گے جو افغان حکام سے بھی ملاقات کرے گا۔ خیال رہے کہ طالبان نے بین الافغان مذاکرات سے قبل پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن صدر اشرف غنی کی حکومت نے ابتدائی طور پر 1500 قیدیوں کی رہائی پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔