پاکستان میں کورونا کے مریض 1400 سے تجاوز، چینی ڈاکٹرز بھی پہنچ گئے

  • ہفتہ 28 / مارچ / 2020
  • 3980

کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے چین نے ڈاکٹر اور دوسرا سامان پاکستان بھیجا ہے۔ چین سے آںے والی امدادی کھیپ میں وینی لیٹرز، ماسک اور ٹیسٹنگ کٹس بھی شامل ہیں۔

آٹھ رُکنی طبی ماہرین کی ٹیم دو ہفتے تک پاکستان میں قیام کرے گی۔ اس دوران ملک میں کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے سے متاثرین کی مجموعی تعداد 1427 ہوگئی ہے۔ اس دوران وائرس کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں ایک اور پنجاب میں 2 اموات بھی ہوئیں۔ اب تک ملک میں  12 افراد کورونا وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

پنجاب میں کورونا وائرس سے پیدا شدہ حالات سے نمٹنے کے لیے 25 لاکھ گھرانوں کو ماہانہ چار ہزار روپے امداد دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسز کو ایک ماہ کی اضافی تنخواہ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے 18 ارب روپے کے صوبائی ٹیکسز بھی معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 82 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے معمولی جرائم میں سزا پانے والے قیدیوں کی رہائی کا بھی حکم دیا ہے۔

کورونا وائرس کا سب سے پہلا شکار بننے والے چین کے شہر ووہان میں اب حالات بتدریج معمول پر آ رہے ہیں۔ چین کی حکومت نے ووہان میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے شہر میں آمدورفت کے کچھ راستے کھول دیے ہیں جب کہ سب وے سروسز بھی بحالی کی جا رہی ہیں۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد دو ماہ سے ایک دوسرے سے دور خاندان دوبارہ اکٹھے ہو رہے ہیں۔ ووہان شہر میں دسمبر کے آخر میں پھوٹنے والی اس وبا نے تین ماہ میں اب دُنیا کے 200 کے لگ بھگ ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ہفتے کے روز تین ماہ بعد شہر میں ہائی اسپیڈ ٹرین پہنچی۔

کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بھارت میں لاک ڈاؤن جاری ہے۔ لیکن نئی دہلی کی سڑکوں پر کچھ لوگ سامان اٹھائے پیدل سفر کر رہے ہیں۔ یہ مزدور پیشہ افراد دور دراز کے علاقوں سے روزگار کمانے دہلی آئے تھے جو ٹرانسپورٹ کی بندش کے سبب پیدل ہی اپنے آبائی علاقوں کو روانہ ہو رہے ہیں۔  بھارت میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سماجی فاصلوں کی ہدایات اور لاک ڈاؤن نے لوگوں کے لیے سامان کی خریداری مشکل بنا دی ہے۔ لیکن کچھ ڈپارٹمنٹل اسٹورز نے شہریوں تک اشیائے خور و نوش اور دیگر چیزیں پہنچانے کا انتظام بھی کیا ہے۔