کورونا وائرس کے بارے میں سوشل میڈیا کی افواہیں جان لیوا ہوسکتی ہیں

  • اتوار 29 / مارچ / 2020
  • 4330

امریکی صدارتی انتخابات کے پیش نظر فیس بک سمیت سوشل میڈیا کمپنیوں کی ساکھ کو اندیشہ لاحق تھا اور وہ غلط معلومات کے تدارک کی کوشش میں مصروف تھیں۔ لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے اس چیلنج میں اضافہ ہوگیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق تاہم کورونا وائرس نے ایک نئی مشکل کھڑی کردی ہے اور ممکنہ علاج اور گمراہ کن دعوؤں، سازشی نظریات کے نتیجے میں عوام کی جانوں کو خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ایک خبر کے مطابق اب تک 200 سے زائد افواہیں اور کہانیاں سامنے آئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو آن لائن پھیلنے والی غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ایم آئی ٹی سلون اسکول آف مینیجمنٹ کے پروفیسر ڈیوڈ رانڈ کا کہنا تھا کہ عوام جسے سچ سمجھتے ہیں اور جو لوگ شیئر کرنا چاہتے ہیں، اس میں میں فرق ہے۔ صارفین مواد کے حوالے سے پسند یا شیئر میں جانبدار ہیں اور ان کا یہ فیصلہ سب سے زیادہ آن لائن سامنے آتا ہے۔

اس کی وجہ میں سے ایک سوشل میڈیا کا الگوریتھم ہے جو کسی شخص کی عادت اور پسند سے چلتا ہے جس میں زور اس کی پسند پر ہوتا ہے نا کہ صحیح ہونے پر۔ اس کے لیے فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر کمپنیوں کو یہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی کہ عوام اپنی اسکرین پر کیا دیکھیں گے۔

رواں ماہ شائع ہونے والی کورونا وائرس پر پھیلنے والی غلط معلومات پر تحقیق کرنے والے ڈیوڈ رانڈ کا کہنا تھا کہ صارفین کو دیکھنا چاہیے کہ وہ جو سوشل میڈیا پر مواد شیئر کر رہے ہیں وہ صحیح ہے بھی یا نہیں۔ تقریباً ایک ہزار 600 شرکا پر کنٹرولڈ ٹیسٹس کرتے ہوئے تحقیق میں معلوم ہوا کہ جھوٹے دعوے اس لیے شیئر کیے جاتے ہیں کیونکہ عوام نہیں جانتے کہ یہ قابل اعتبار بھی ہے یا نہیں۔

ایک دوسرے ٹیسٹ میں جب عوام کو بتایا گیا کہ وہ جو شیئر کر رہے ہیں اس کے صحیح ہونے پر بھی غور کریں تو صحیح آگاہی کا پھیلاؤ دوگنا ہوگیا۔ رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے غلط معلومات کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے اس کے صحیح ہونے کے حوالے سے ایک مداخلت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ڈیوڈ رانڈ کا کہنا تھا کہ اس طرح کی چیزیں جن سے لوگوں کے ذہن میں صحیح ہونے کا نظریہ پیدا ہوگا۔

کورونا وائرس کے حوالے سے غلط معلومات جان لیوا بھی ہوسکتی ہیں۔ امریکا، فرانس اور دیگر ممالک کے سائنسدان جہاں موثر علاج کے لیے کام کر رہے ہیں وہیں متعدد ممالک میں جھوٹی رپورٹس بھی پھیل رہی ہیں۔ ایران میں ایک میتھانول کو غلط طور سے علاج بتادیا گیا جس کی وجہ سے کئی افراد بیمار اور 300 کے قریب ہلاک ہوگئے۔