دنیا کو نئی جہت سے دیکھنا ہوگا
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 29 / مارچ / 2020
- 5230
دنیا میں بعض واقعات یا حادثات ایسے ہوتے ہیں جو عالمی دنیا میں اپنے اثرات چھوڑتے ہیں اور پوری دنیا نہ صرف ان معاملات سے متاثر ہوتی ہے بلکہ وہ خود کو ان سے علیحدہ نہیں رکھ سکتے۔
اس وقت عالمی دنیا ایک بڑی وبا کورونا وائرس کا شکار ہوئی ہے اس نے پوری دنیا کے سیاسی، سماجی،نفسیاتی، انتظامی او رمعاشی ڈھانچوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔پوری دنیا میں اس وقت موضوع بحث حالیہ وبا کورونا وائرس ہے کہ اس مرض سے کیسے اپنے اپنے ملکوں میں موجود لوگوں کو بچا یا جائے۔پہلی بار دنیا میں یہ مرض سامنے آیا ہے، لیکن یہ کہنا کہ مستقبل میں ایسا کچھ نہیں ہوسکے گا، ممکن نہیں۔کیونکہ امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفیکشن ڈیزیزکے سربراہ تحقیقی امو ر انتھونی فاؤچی کے بقول عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے والا کورونا وائرس ہر برس ٹھنڈ کے موسم میں حملہ کرسکتا ہے۔
اس کورونا وائرس کے حملہ نے دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کی صلاحیتوں کو بھی بری طرح بے نقاب کیا ہے کہ وہ بڑے حادثات سے نمٹنے کی کیا صلاحیت رکھتے ہیں او ران کی سماجی، انتظامی اور معاشی ڈھانچہ میں کتنی صلاحیت ہے کہ وہ ان بڑے حادثات سے خود کو بچاسکتے ہیں۔اس وقت دنیا کے سیاسی، سماجی او رمعاشی امور کے ماہرین میں جو بنیادی نکتہ زیر بحث ہے کہ مستقبل کی دنیا کیا ہوگی او رکیا اس وائرس کے بعد کی دنیا میں ہمیں کوئی بڑی تبدیلی عالمی ایجنڈے میں روائتی حکمرانی اور فیصلوں کے تناظر میں نظر آئے گی یا پھر ہم اس بحران کے بعدکچھ نیا سبق حاصل کرنے کی بجائے دوبارہ وہی غلطیاں دہرائیں گے، جو ہماری سیاست کا حصہ ہے۔
یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کورونا وائرس کی وبا نے عالمی دنیا سے جڑے بڑے فیصلے جن میں جنگیں، سیکورٹی، تنازعات، تضادات، امیری اور غریبی میں سیاسی، سماجی اور معاشی ناہمواریاں، سماجی شعبہ بالخصوص صحت کے ڈھانچوں اور انسانوں پر سرمایہ کاری کے مسائل کو بری طرح بے نقاب کیا ہے۔یہاں تو ہمارے جیسے ملکوں کی بات چھوڑیں بڑے ترقی او ردولت مند ممالک بھی ان معاملات میں بری طرح بے نقاب ہوئے ہیں۔کہا جارہا ہے کہ سرمایہ داری پر مبنی دنیا کے سامنے اب ایک بڑا چیلنج سیکورٹی یا جنگوں پر مبنی ریاستوں کی بجائے انسانوں سے جڑ ی ریاستوں کی بحث ہونی چاہیے۔ ایسی ریاستیں جن کو دنیا میں ہم فلاحی ریاستوں کا نام دیتے ہیں جہاں انسانوں کے بنیادی نوعیت یا حقوق و مسائل اہم ہوتے ہیں۔
عالمی مالیاتی ادارے جن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے ادارے بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ہمیں کورونا سے متاثر غریب ممالک کے لیے کچھ غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے جن میں قرضوں کی واپسی معطل کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے او ررعائتی قرضوں کے لیے بھی جی 20راہنماؤں سے رجوع کیا جائے گا۔ واقعی غریب ممالک اس وقت عالمی طاقت مالیاتی دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ خود بڑے ممالک بھی اس وبا کا شکار ہوئے ہیں او ران کی اپنی معیشت بھی تباہ ہوئی ہے۔ایسے میں بڑے مالیاتی ادارے کیا کچھ کرسکیں گے وہ خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اسی طرح اس وبا نے دنیا سمیت ہمارے جیسے ملکوں کی معیشت کو بھی ایک بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے کہ ہم اول کیسے اپنی معیشت کو بچاسکیں گے اور دوئم ان برے حالات میں جب دنیا لاک ڈاؤن پر کھڑی ہے تو کمزور لوگوں کو کیسے اورکتنا بڑا ریلیف دیا جاسکے گا۔بنیادی طور پر پوری دنیا کا سماجی،سیاسی او رمعاشی نظام اس وقت ایک بڑی تبدیلی کے لیے ناگزیر ہوگیا ہے اور یہ بڑی تبدیلی کیے بغیر ہم دنیا میں لوگوں کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط نہیں بناسکیں گے۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دنیا کے بڑے ممالک اوراداروں کی سیاسی اورمعاشی پالیسیوں نے لوگوں کو جنگوں، تنازعات، جھگڑوں کے نتیجے میں غریب او رمحرومی سمیت عدم تحفظ کے بڑے احساس میں مبتلا کردیا ہے، اب یہ نظام ایسے نہیں چل سکے گا ہمیں امن اور ترقی کے بیانیہ کو بنیاد بنانا ہوگا۔
کورونا وائرس جیسی وبا کا پوری دنیا کے لیے بڑا سبق یہ ہے کہ وہ انسانوں پر سرمایہ کاری کرے او راپنے اپنے معاشروں میں سماجی او رمعاشی شعبوں میں عوام سے جڑے معاملات میں ایسے ڈھانچے، انتظامات اور ادارے تشکیل دے جو لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرسکیں۔یہ سرمایہ دارانہ نظام جس کی بنیاد انسان کم او رمنافع زیادہ ہے اس نے غریب او رکمزور ملکوں کو جکڑ لیا ہے او ران غریب ملکوں کے سماجی سطح پر موجود ڈھانچے قابل رحم ہیں۔پاکستان جو خود کورونا وبا کا شکار ہوا ہے اس سے نمٹنے میں ہمارے سماجی او رمعاشی ڈھانچے ظاہر کرتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں او ریہاں تمام حکومتوں سمیت ریاست کی ترجیحات میں عام آدمی سے جڑے مسائل یا ان کو بااختیار کرنا بہت پیچھے نظر آتا ہے۔صرف صحت اور تعلیم کے شعبہ کو ہی دیکھ لیں کہ ہمارے طرز عمل نے ان دونوں بنیادی نوعیت کے شعبو ں کا کس بڑی بے دردی سے استحصال یا تباہ کیا ہے۔لوگوں کی معاشی حالت اس حد تک کمزور ہے کہ ہم تواتر کے ساتھ ان میں غریب او رمحرومی کی سیاست کو پختہ کرکے عملًا ریاست اور عوام میں خلیج پیدا کررہے ہیں۔
دنیا اس کورونا سے سبق سیکھتی ہے یا نہیں۔ کم ازکم جنوبی ایشیا یا برصغیر جن میں پاکستان او ربھارت دو اہم ممالک ہیں کو اپنے موجودہ طرز عمل پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان او ربھارت کو حالیہ بحران کے نتیجے میں سیکھنا ہوگا کہ نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ اس خطہ کی ترقی، سلامتی، خوشحالی او رعام طبقہ کی طاقت کا بڑا انحصار دو طرفہ سیاسی، انتظامی، سفارتی، معاشی اور سماجی تعلقات کی بہتر ی سے جڑا ہوا ہے۔ اس وقت بھارت بھی مکمل لاک ڈاؤن ہے او راس کی بڑی معیشت بھی اس بحران کا شکار ہوئی ہے او رایسے میں بھارت کی ریاست اورحکومت کو بھارت سمیت خطہ کے ممالک کے لوگوں کے لیے کچھ نیا سوچنا ہوگا۔اس وقت خطہ کی سیاست میں پاکستان او ربھارت پہل کرکے ایک بڑے سماجی چارٹر کی طرف بڑھیں جس میں مقصد عام لوگوں کو طاقت دینا او راپنے اپنے ملکو ں میں سیکورٹی یا جنگوں پر سرمایہ کاری کرنے کی بجائے سماجی او رمعاشی ڈھانچوں کو مضبوط کرنے کی جنگ لڑی جائے اور دوریوں کو بنیاد بنانے کی بجائے نزدیکیاں یا دوستی کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ہوگا۔
پاکستان او ربھارت دونوں آگے بڑھیں او رجو بھی تنازعات ہیں جن میں کشمیر بھی شامل ہے اسے دو طرفہ بات چیت کی مدد سے حل کرنا ہوگا اور دونوں ممالک داخلی اور خارجی مسائل کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کے ساتھ چلیں۔ یہ امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کا بھی ایجنڈا ہونا چاہیے کہ وہ پاکستان او ربھارت کے درمیان تعلقا ت کی بہتری میں عملی کردار ادا کرے۔اسی طرح دونوں ممالک کو سوچنا اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیسے دفاعی بجٹ میں تواتر کے ساتھ کٹوتی یا کمی کرے او ریہ پیسہ بنیادی ضرورتوں جس میں تعلیم،صحت او رروزگار پر لگا کر ایک ذمہ داری پر مبنی ریاست ہونے کا ثبوت دیا جائے۔حکمرانی کے حقیقی بحران کو حل کرنے کی طرف دونوں ممالک کو اپنے اپنے ملکوں میں غیر معمولی سطح کے اقدامات کی طرف توجہ دینی ہوگی۔بڑے بڑے ترقیاتی منصبوں کی جگہ ابتدائی طور پر ان منصوبوں کو فوقیت دی جائے جو عام آدمی کی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ہمیں لوگوں کو محض نجی شعبو ں پر چھوڑ کر ان کی زندگیوں میں بڑی مصیبتوں کو نہیں پیدا کرنا چاہیے بلکہ بنیادی ضرورتوں کی فراہمی میں ریاست او رحکومتوں کے کردار، نگرانی او رجوابدہی سمیت وسائل کی منصفانہ تقسیم کے فارمولے کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی بحث کو طاقت دینا ہوگی۔
لوگوں کو سماجی او رمعاشی تحفظ دے کر ہی ہم قابل قبول معاشرہ بن سکتے ہیں۔عالمی مالیاتی اداروں کو نئی پالیسی بنانی ہوگی کہ ان کی کمزور ملکوں کی پالیسی طاقت ور ملکوں کے مقابلے میں مختلف ہوگی۔ان کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کی موجودہ پالیسیوں نے کمزور ملکوں میں محرومی اور غربت کی سیاست کو مضبوط کیا ہے۔ایک جیسی پالیسی کی بنیاد پر دنیا سے نمٹنا درست حکمت عملی نہیں۔پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کورونا وبا کو بنیاد بنا کر اپنی داخلی سیاسی، سماجی، انتظامی، معاشی، معاشرتی سمیت حکمرانی کے نظام میں ایک بڑی سرجری کرے۔ یہ غیر معمولی کام ہوگا او ر اس کے لیے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اپنے سماجی ڈھانچوں کی ازسر نو تشکیل اور اپنی ترجیحات کے تعین میں منصفانہ اور شفاف پالیسی کو بنیاد بنا کر خود کو ایک بڑی ترقی سے جوڑنا ہوگا۔