کوونا وائرس: ایک اور طرح کے دریا کا سامنا
- تحریر
- اتوار 29 / مارچ / 2020
- 4340
سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کورونا وائرس کی وبا بہت تیزی سے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، اکثر لوگوں کی سوچ سے بھی تیز۔ کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد کنفرم مریضوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچنے میں 67 دن لگے، اگلے ایک لاکھ کی تعداد فقط گیارہ دنوں میں پوری ہوئی، اس سے اگلے لاکھ کی تعداد صرف چار دنوں میں پوری ہو گئی۔
یہ حیران کن اعداد و شمار ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈئریکٹر جنرل ڈاکٹر پیدروس نے 23 مارچ کو پیش کرکے ان سب لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا جن کا شروع شروع میں خیال تھا کہ کورونا وائرس چین کا مسئلہ ہے، چین کے بعد اس وائرس نے یورپ کو مرکز بنا لیا اور اب اندیشہ ہے کہ امریکہ اس کا نیا مرکز ہو سکتا ہے۔ بروزجمعہ دوپہر تک یہ تعداد ساڑھے پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہو چکی تھی۔دور کیا جانا، پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے کنفرم مریضوں کے بڑھنے کی تعداد بھی چونکا دینے والی ہے۔ پاکستان میں پہلا مریض 26 فروری کو سامنے آیا، دس مارچ تک مریضوں کی کل معلوم تعداد صرف سولہ تھی، پندرہ مارچ کو یہ تعداد اکتیس، بیس مارچ کو 454 اور 25 مارچ کو یہ تعداد 991 ہو چکی تھی۔ اگلے روز یہ تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی۔ گزشتہ کل یعنی 27 مارچ کو ساڑھے بارہ سوسے تجاوز کر چکی تھی۔
دو ہفتے قبل شٹ ڈاؤن اور لاک ڈاؤن بہت قبل از وقت اقدام لگتے تھے۔ سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو وفاقی حکومت نے برملا اپنے اختلاف کا اظہار کیا۔ ابھی اس اختلاف کی سیاہی تازہ تھی کہ پنجاب نے پہلے دو دن کے لئے رضاکارانہ شٹ ڈاؤن کی اپیل کی مگر 23 مارچ کو صوبے میں شٹ ڈاؤن کا فیصلہ کر ڈالا۔ اس کے ساتھ ہی بلوچستان اور گلگت بلتستان نے بھی لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔ اس دوران خطرے کی سنگینی کے باوجود شٹ ڈاؤن اور لاک ڈاؤن میں فرق پر موشگافیاں بھی زیرِ بحث رہیں۔ کورونا وائرس کس طرح اور کس تیزی سے ایک انسان سے دوسرے تک منتقل ہو تا ہے، یہ معلوم ہونے کا باوجود وزیر اعظم سمیت کچھ لوگ شٹ ڈاؤن یا لاک ڈاؤن سے خوف زدہ تھے کہ دیہاڑی دار مزدور اور وہ لوگ جن کا رزق روزمرہ کے معاشی معمولات پر موقوف ہے۔ ان کے ہاں فاقے ہو جائیں گے۔ تسلیم، یہ فیصلہ آسان نہیں، زندگی اور موت کے درمیان مدہم ہوتی لکیر کے اِدھر یا اُدھر کھڑے ہونے کا چوائس ہے۔
بھارت، پاکستان سے آبادی میں پانچ گنا بڑا ملک ہے۔ ابھی وہاں معلوم مریضوں کی تعداد کم ہے مگر دنیا بھر میں اس وبا کے سیلابی پھیلاؤ کے پیشِ نظر بھارت نے حیرت انگیز سرعت کے ساتھ اکیس دنوں کا مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا۔ خطرے کی سنگینی بھانپتے ہوئے کون کس قدر جلد اور فیصلہ کن اقدامات اٹھانے میں کامیاب ٹھہرتا ہے۔ اب تک کا تجربہ یہی ہے کہ یہ فیصلہ کامیابی کی پہلی سیڑھی ثابت ہوا۔ چین نے فوری طور پر ایسے قدامات کے ذریعے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی کڑیاں توڑیں۔ سعودی عرب نے اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے عمرے، طواف کے وقتی التوا سمیت ایسے تمام اقدامات اٹھائے جن سے انسانی اجتماعات روکے جا سکیں۔ دو روز قبل سعودی عرب نے پاکستان حکومت کو مطلع کیا کہ اس بار حج کے لئے رہائش اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کے معاہدے فی الحال نہیں ہو سکتے، صورت حال واضح ہونے کا انتظار بہتر ہوگا۔ امریکی صدر اور ری پبلکن ابھی تک خود انکاری کی کیفیت میں ہیں جبکہ مریضوں اور اموات کی تعداد میں خوفناک اضافہ جاری ہے۔
دنیا میں اسّی فی صد سے زائد پروازیں بند ہو چکیں، پاکستان میں بھی پروازیں، ٹرینیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے۔ لاک ڈاؤن روزمرہ کی انسانی زندگی کا انوکھا اور ششدر کر دینے والا تجربہ ہے۔ معاشرے کا ایک بڑا حصہ معیشت کے ان معمولات میں سے روزی روٹی کا بندوبست کرتا ہے جس کا تعلق بقول شخصے روز کے روز سے ہوتا ہے۔ اناج، فروٹ و سبزی منڈیوں سمیت درجنوں ایسی مارکیٹیں ہیں جہاں کاروبار دن چڑھے شروع ہوتا ہے۔تجارت اور انڈسٹریز میں مزدور، دوکاندار، ٹرانسپورٹ، ڈسٹری بیوشن، سیلزمین، پھیری لگانے والے اور نہ جانے کن کن صورتوں میں اقتصادی مشین کے کل پرزے کے طور پر اپنے اپنے حصے کا رزق کماتے ہیں۔ یہ دہائیوں سے شہری اور نیم شہری زندگی کا ایک لگا بندھا معمول رہا ہے۔ کورونا وائرس کی آمد نے شب و روز چلنے والی مشین کو یکدم جام کر دیا ہے۔ اس کے گھومتے پہیوں میں جیسے کسی نے ایلفی ڈال کر منجمد کر دیا ہے۔ ایسی صورت حال کبھی یوں عالمی اور ملکی سطح پر پیدا ہوئی ہو، یاد میں نہیں۔ اسی لئے بہت سے پالیسی ساز بھی ابھی تک اس شاک سے نہیں نکل پائے اور عوام کا ایک خاصہ بڑا حصہ بھی۔
چلتی زندگی کا پہیہ یکدم منجمد کرنے والی اس افتاد نے معاشی اور معاشرتی معمولات کو درہم برہم کر دیا ہے۔ گھر رہیں محفوظ رہیں، سماجی فاصلہ رکھیں، ملیں نہ ملنے جائیں جیسے نئے سماجی حکم نامے کو ماننے کے سوا چارہ کیا ہے۔ سب زندگی کے ایک نئے ڈھب سے آشنا ہو رہے ہیں۔ آسودہ حال طبقات کے اسکولوں کے بچے گھروں پر موجود آن لائن کلاسز لے رہے ہیں، باقی وقت گزاری اور بوریت کو دفان کرنے کے نت نئے طریقے آزما رہے ہیں۔ آن لائن پڑھانے والے اساتذہ اس نئے تدریسی نظام تلے تھکن کا شکار ہو چلے ہیں۔ خاوند اور کام پر جانے والے افرادِ خانہ سب گھر پر ہیں۔ کتنی دیر تک سوشل میڈیا کا سہارا لیں، ٹی وی دیکھیں تو خبروں سے پریشانی دو چند ہو جاتی ہے، ڈرامے دیکھیں تو حرام ہے کہ کوئی سین مسکراتے چہروں کے ساتھ ڈھونڈے سے بھی مل جائے۔ پڑھنے لکھنے کا ذوق پہلے ہی بالعموم متروک ہو چکا۔ گھروں میں بند ہو رہنے سے سب کو ایک انوکھے تجربے کا سامنا ہے۔ جو کشادہ دلی اور احساسِ ذمہ داری سے سامنا کر رہا ہے، وہ آسودہ ہے۔ جبکہ دیگر اس کیفیت کا شکار ہیں جو گلے پڑا ڈھول بجانے میں ہوتی ہے۔
اس افتاد میں ان لوگوں کی ایک کثیر تعداد ہے جو دیہاڑی دار مزدوری اور کام کاج سے اپنا رزق کمانے پر تکیہ کرتے تھے۔ ان کے لئے مشکل دوہری ہے کہ آمدن صفر، گھر تنگ اور خود تنگ دست۔ کریں تو کیا، کھائیں تو کیا، کھانے پینے کی دوکانیں کھلی ہیں مگر جیب خالی اور دامن میں چھید ہے۔ شنید ہے کہ بڑے شہروں اور دیگر شہروں میں بہت سی فلاحی تنطیمیں ضرورت مند گھرانوں میں راشن اور کھانا تقسیم کرنے کے لئے میدان میں سرگرم عمل ہیں۔ مخیر خواتین و حضرات کے دست ِتعاون کی درازی اور دلوں کی کشادگی کے بھی کئی قصے سننے کو مل رہے ہیں۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی کے مظاہر ایک بار پھر سامنے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے کشادہ دل مخیر خواتین و حضرات کو ہمت اور استقلال عطا فرمائے، ضرورت مندوں تک راشن اور خوراک کا وسیلہ بننے والوں کے حق میں دعا کے لئے بھی ہاتھ اٹھے ہوئے ہیں۔ الہیٰ ہم سب پر کرم فرما، ہم گناہ گار و سیاہ کار ہیں، ہمارے پاس سوائے تیری رحمت کی امید کے کچھ بھی نہیں۔ تو ہم سب پر اپنی رحمت اور کرم کا سائبان کردے تو یہ تیرا کرم ہے، تو کریم اور رحیم ہے اور ہم تیرے محتاج!