کورونا وائرس موت کا پروانہ نہیں ہے

  • سوموار 30 / مارچ / 2020
  • 7740

پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ کے ساتھ بہت سے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے موجودہ حالات میں حقیقی معلومات کو افواہوں اور گھریلو ٹوٹکوں سے علیحدہ کرکے دیکھنا  دردِ سر بن گیا ہے۔

آغا خان یونیورسٹی سے منسلک وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر فیصل محمود کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ نوول کورونا، انسان سے انسان کو منتقل ہونے والا مرض ہے جو کسی بھی تندرست شخص کو متاثرہ شخص کی آنکھ، ناک اور منہ کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔  وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ کورونا وائرس کی ابتدائی علامت میں بخار کا ہونا، خشک کھانسی اور جسم میں درد شامل ہیں۔ جب کہ بیماری شدید ہو جانے کی صورت میں سانس لینے میں دشواری دیکھنے میں آتی ہے۔ پہلے سے بیماریوں میں مبتلا افراد میں یہ علامات شدید ہو سکتی ہیں۔

ڈاکٹر فیصل محمود نے اس مفروضے کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ صرف زیادہ عمر کے افراد ہی اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ عمر کے افراد یقیناً متاثر ہو رہے ہیں۔ کیوں کہ ان میں قوتِ مدافعت کی کمی ہوتی ہے۔ اس لیے ایسا کوئی بھی فرد جس کی قوتِ مدافعت مضبوط نہیں، اس بیماری کا شکار ہو سکتا ہے۔ جس کے بعد کسی بھی عمر کے افراد کا یہ تصور کرنا کے وہ اس بیماری سے بغیر احتیاطی تدابیر اپنائے بچ سکتے ہیں، غلط سوچ ہے۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت کورونا وائرس کو مات دینے کے لیے سائنسی تحقیقات جاری ہیں۔ لیکن اس دوا کی تیاری میں وقت لگ سکتا ہے۔ اُن کے بقول یہ ویکسین کب تک حتمی طور پر تیار ہوکر قابل استعمال ہو گی۔ اس پر بات کرنا قبل از وقت ہے۔ موجودہ حالات میں یہ کہنا کہ زیر استعمال کوئی ایک دوا دوسری دوا سے بہتر ہے، درست رائے نہیں ہے۔

کورونا کے خلاف سائنسی بنیادوں پر واضح کردہ اصولوں کے مطابق چونکہ کوئی علاج موجود نہیں، اس لیے افواہوں نے سوشل میڈیا کا رخ کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ یقیناً اس بیماری کا علاج موجود نہیں۔ لیکن یہ تصور کر لینا کہ اس کا ہو جانا موت کا پروانہ ہے، مبالغہ آرائی سے کم نہیں۔ اُن کے مطابق انسانی جسم اوسطاً اتنی مدافعت رکھتا ہے کہ اگر پروٹینز فراہم کرنے والا کھانا کھایا جائے۔ جس میں گوشت، انڈہ اور دالیں شامل ہیں تو کسی دوائی کے بغیر بھی شفایاب ہوا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ مسئلہ زیادہ تر پہلے سے موجود بیماریوں سے پیدا شدہ پیچیدگیوں سے ہوتا ہے۔ جس میں قوتِ مدافعت میں کمی مزید پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔ بہتر خوراک اس بیماری سے بچنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ سات سے آٹھ گھنٹے روزانہ نیند پوری کرنا بھی جسمانی صحت کو ان حالات میں برقرار رکھنے کے لیے لازم ہے۔

ڈاکٹر فیصل محمود کا کہنا ہے کہ چونکہ دنیا بھر میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس لیے کچھ روز مرہ کی عادات کو بدلنا بے حد ضروری ہے۔ جس میں بات بے بات منہ، چہرے اور آنکھوں کو ہاتھ لگانا شامل ہے۔ کیونکہ اس بیماری کے جراثیم انہی راستوں سے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مہلک بیماری سے بچاؤ کے لیے صفائی کے علاوہ لوگوں سے کم سے کم چھ فٹ کا فاصلہ رکھ کر ملنا لازم ہے۔ کیونکہ انسان سے انسان کو وائرس کی منتقلی کا عمل ایسے ہی روکا جا سکتا ہے۔

اُن کے بقول سماجی فاصلہ یا لوگوں سے فاصلہ رکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ ہماری معاشرتی اقدار اور رہن سہن میں لوگوں سے ہاتھ ملانا یا سلام کرتے ہوئے گلے ملنا، ایک عام سا عمل ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں اس کو ترک کرنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر فیصل کا مزید کہنا تھا کہ مجبوری کی صورت میں ہی گھر سے نکلنا چاہیے تاکہ وائرس سے جس حد تک ممکن ہو، بچا جا سکے۔

خیال رہے کہ زیادہ تر طبی ماہرین اس نقطے پر متفق ہیں کہ کورونا وائرس سے گھبرانے اور ہیجانی کیفیت کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ جب کہ احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے اس بیماری سے لڑنا اور جیتنا دونوں ممکن ہیں۔