بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی سویڈن میں لاپتہ
- سوموار 30 / مارچ / 2020
- 5180
صحافی ساجد حسین بلوچ سویڈن کے شہر اوپسالا سے تقریباً ایک ماہ سے لاپتہ ہیں۔ اب تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
ساجد حسین بلوچ ایک آن لائن میگزین بلوچستان ٹائمز کے چیف ایڈیٹر ہیں جس کے ایڈیٹوریل بورڈ نے ہفتے کے روز یہ خبر دی کہ ساجد حسین 2 مارچ سے سویڈن کے شہر اوپسالا سے لاپتہ ہیں۔ اس سلسلے میں سویڈن پولیس کے پاس 3 مارچ کو مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔
پریس کو جاری کردہ بیان کے مطابق 28 مارچ تک ان کے ٹھکانے یا ان کی خیر و عافیت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں اور نہ ہی پولیس نے تحقیقات میں پیش رفت سے ان کے اہلِ خانہ یا دوستوں کو آگاہ کیا ہے۔ ان کے بھائی واجد بلوچ نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 14 روز تک اس شبے میں انتظار کیا کہ ساجد کو کہیں قرنطینہ نہ کردیا گیا ہو لیکن کافی وقت گزرنے کے بعد وہ اپنی خاموشی توڑنے پر مجبور ہوگئے۔
واضح رہے کہ ساجد حسین جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہونے کے بعد تقریباً 8 برس قبل ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ان کی اہلیہ شہناز نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے بلوچستان میں جبری طور پر لاپتہ افراد کے معاملے پر کام کیا تھا لیکن 2012 میں منشیات کے سرغنہ امام بھیل کو بے نقاب کرنے والی رپورٹ پر انہیں موت کی دھمکیاں ملی تھیں۔
اہلیہ نے مزید بتایا کہ وہ ستمبر 2012 میں ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے اور اس کے بعد وطن واپس نہیں آئے۔ سویڈن میں موجود ان کے دوست تاج بلوچ کا کہنا تھا کہ ساجد حسین کے لاپتہ ہونے سے ایک روز قبل ان کی ملاقات ہوئی تھی اور ہر چیز معمول کے مطابق لگ رہی تھی۔ تاہم اگلے روز ان کا فون بند پایا گیا اور انہوں نے کسی کال کا جواب بھی نہیں دیا۔ آخری مرتبہ انہیں اس وقت سنا گیا تھا جب وہ ہاسٹل آفس میں موجود تھے اور اپنے کمرے کی چابی مانگی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ دوبارہ کال کرتے ہیں۔
تاج بلوچ نے بتایا کہ جب انہوں نے اوپسالا پولیس سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ بعض اوقات لوگ تنہائی اختیار کرلیتے ہیں تا کہ کوئی ان کی پرائیویسی متاثر نہ کرسکے تاہم زور دینے پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔ اس کے بعد سے اب تک اس کیس سے متعلق کوئی پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔
اہلِ خانہ کو ان کی گمشدگی میں ملوث عناصر کے بارے میں کوئی علم نہیں لیکن ان کی جانب سے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ سویڈن جیسے ملک جو آزادی صحافت کی حمایت کرتا ہے، وہاں ایک صحافی کس طرح لاپتہ ہوسکتا ہے۔ اہلِ خانہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اب بھی یقین ہے کہ سویڈش حکام ہمیں انصاف دینے سے انکار نہیں کریں گے اور ہمیں جواب ضرور ملے گا۔
ساجد حسین اس سے قبل انگریزی اخبار دی نیوز کے ڈیسک ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔