کورونا سے ہلاکتیں 35 ہزار ہوگئیں، متاثرین 7 لاکھ سے متجاوز

  • سوموار 30 / مارچ / 2020
  • 5470

دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے 30 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 7 لاکھ 222 ہزار سے زائد ہوچکی تھی۔ جبکہ 35 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

پاکستان میں متاثرہ افراد کی تعداد 1664 ہوگئی ہے اور 21 افراد انتقال کرچکے ہیں۔ 28 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔ کراچی میں کورونا سے جاں بحق افراد کی تدفین کیلئے 5قبرستان مختص کئے گئے ہیں۔

دنیا بھر میں تیزی سے کورونا کے مریض سامنے آ رہے ہیں اور ہلاکتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور مرنے والے افرد کی تعداد 35 ہزار سے بڑھ گئی تھیں۔ دنیا کی 40 فیصد سے زائد آبادی کو کورونا وائرس کی وجہ سے گھروں تک محدود کردیا گیا ہے۔

اٹلی میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی آئی۔ سول پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز اٹلی میں 756 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد مجموعی تعداد 10 ہزار 779 ہوگئی ہے جو دنیا بھر میں وائرس سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کا ایک تہائی ہیں۔ اٹلی میں اگرچہ اب کورونا وائرس کے نئے سامنے آنے والے مریضوں کی رفتار کچھ سست ہوئی ہے تاہم اب بھی وہاں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جس وجہ سے اٹلی بھر میں خوف پھیلا ہوا ہے۔

اٹلی میں حیران کن طور پر دیگر ممالک سے زیادہ ہلاکتیں ہونے پر ماہرین صحت بھی پریشان ہیں جب کہ اٹلی کے حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ اب تک سامنے آنے والے کورونا کے مریض وہ ہیں جن کے شک کی بنیاد پر ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق تاحال اٹلی میں دیگر افراد کے ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے بلکہ ان علاقوں میں لوگوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، جہاں سے پہلے ہی کیس سامنے آ چکے ہیں۔

اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد میں کمی آئی ہے لیکن اسپین میں اتوار کے روز وبا کے پھیلاؤ سے اب تک ملک میں ایک روز کی سب سے زیادہ 838 ہلاکتیں ہوئیں۔ اسپین میں اٹلی کے بعد سب سے زیادہ 6 ہزار 838 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اسپین کے وزیر صحت نے اتوار کے روز 6 ہزار 500 نئے کیسز کا اعلان کیا جس کے بعد متاثرین کی تعداد 80 ہزار 110 ہوگئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں معمولات زندگی کی بحالی کے لیے پیش کیے گئے اپنے ٹائم ٹیبل کو تبدیل کرتے ہوئے کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے لگائی گئی پابندیوں میں مزید ایک مہینے کی توسیع کردی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا میں کاروبار زندگی جلد بحال ہونے کی اُمید تھی۔ اب انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں ہلاکتوں کی تعداد آئندہ دو ہفتوں میں مزید بڑھے گی۔ اس لئے سماجی فاصلے کی ہدایات اپریل کے آخر تک برقرار رہیں گی۔

امریکا میں کورونا وائرس کے کیسز میں اچانک بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ وہاں صرف دو روز میں کیسز کی تعداد دوگنا ہوئی ہے۔ سینئر امریکی سائنسدان اینتھونی فاؤچی نے اندازہ لگایا ہے کہ کورونا وائرس سے ایک لاکھ سے 2 لاکھ کے قریب جانیں ضائع ہوسکتی ہیں جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے ’خوفناک‘ اعداد و شمار بتایا۔ امریکا میں اس وقت تک دنیا میں سب سے زیادہ ایک لاکھ 43 ہزار سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں۔ جبکہ 2 ہزار 509 افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔

برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1200 سے تجاوز کرگئی ہے۔ وزیر اعظم بورس جونسن کہا ہے کہ آنے والے دن مزید مشکل ہوں گے۔  بورس جونسن کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ چیزیں بہتر ہونے سے قبل بدتر ہوں گی۔ ملک کے ڈپٹی چیف میڈیکل افسر نے خبردار کیا کہ معمولات زندگی کی بحالی میں 6 ماہ یا اس سے بھی زائد کا وقت لگ سکتا ہے۔ برطانیہ میں اب تک 19ہزار 784 کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے ایک ہزار 231 ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔

فرانس کے صحت حکام نے اتوار کے روز 292 ہلاکتیں رپورٹ کیں جو ہفتے کے روز ہونے والی 319 ہلاکتوں سے 13 فیصد کم تھیں۔ فرانس میں کورونا وائرس کے کل کیسز کی تعداد 40 ہزار 723 ہوگئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2 ہزار 611  ہے۔

ایران میں مزید 117 نئی اموات سامنے آئی ہیں۔ ملک میں کورونا وائرس کے باعث  اموات کی تعداد 2 ہزار 757 تک پہنچ گئی۔ وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ مزید 3 ہزار 186 کیسز میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں متاثرین کی تعداد 41 ہزار 495 ہوگئی۔

ابتدائی طور پر کورونا وائرس کا مرکز رہنے والے ملک چین میں اب مقامی سطح پر کیسز کی تعداد میں نہایت کمی آئی ہے وہیں ملک میں اب معمولات زندگی بحال بھی ہورہے ہیں۔

کورونا وائرس کی وجہ سےامیر ترین ممالک میں صحت کی سہولیات پر دباؤ ہے۔ دوسری طرف امدادی تنظیموں نے غریب ریاستوں اور شام و یمن جیسے جنگ زدہ علاقوں میں متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد لاکھوں میں جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں 3 ارب سے زائد لوگ پانی اور صابن جیسی سہولت سے محروم ہیں جو وائرس کے خلاف سب سے بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال ہورہے ہیں۔