قرنطینہ میں قیدِ خود احتسابی
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 30 / مارچ / 2020
- 15130
میں اُس معاشرے کا فرد ہوں جس کے افراد خُدا تعالیٰ ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اولی الامرسے زیادہ بیویوں اور پڑوسیوں سے ڈرتے ہیں ۔ خوفِ زوجہ تمام شادی زدہ مردوں کا سب سے بڑا فوبیا ہے جسے بیوی فوبیا کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔
ہم ہمیشہ اپنی ناک اُونچی رکھنے کی فکر میں غلطاں رہتے ہیں ، سیلفیاں بنانے کے لیے حج ، عمرے اور پارٹیاں کرتے ہیں اور پھر چار یاروں میں بیٹھ کر اپنی شان میں قصیدے پڑھ پڑھ کر اپنی پیٹھ آپ ٹھونکتے ہیں اور سننے والوں سے داد طلب ہوتے ہیں ۔ ہمیں اَنا کا پرچم بلند رکھنے کا چسکا ہے اور ہم بالعموم سیدھے مونہہ بات کرنے کو کسرِ شان سمجھتے ہیں ۔ ہم اس طبقاتی سماج میں رہتے ہیں جسے ہم نے منو سمرتی سے اُپدیش لے کر استوار کیا ہے ۔ اگر بھاتی سماج برہمنوں ، کھشتریوں ، ویشو ں اور شودروں کی چار جاتیوں کا مُربہ ہے تو ہم بھی چوہدری ، کمیں ، مراثی اور چوہڑے میں تقسیم ہیں ۔ ہم اللہ کی نظروں میں سب انسانوں کے تخلیقی طور پربرابر ہونے کی تھیوری کو نہیں مانتے ۔ ہم تو چودھری ، کمّیں ، مُلّا ، مراثی اور مُصلی کی تقسیم کو فطری مانتے ہیں ۔
ہمارا معاشرہ جاتی واد کی اس تقسیم کے اعتبار سے ایک نیم ہندو معاشرہ ہے اور ابھی کچھ دنوں پہلے کامیڈین امان اللہ کی تدفین کے معاملے پر جس قسم کے تعصبات کا اظہار ہوا وہ تکلیف دہ ہے کہ بعض اہلِ ایمان نے ایک مراثی کے مسلمانوں کے قبرستان میں تدفین کی شدت سے مخالفت کی مگر نہ جانے پھر کس طرح اُس میڈیا مراثی کی لاش کو زمین میں اُترنے کی اجازت ملی ۔ ہم نے جس قسم کا معاشرہ تعمیر کیا ہے وہ معاشرہ کم اور بے سمت قسم کی بھیڑ زیادہ ہے ۔ ایسے لگتا ہے یہ معاشرہ کسی فقیر کی گودڑی ہے جسے قسم قسم کی دھجیوں اور چیتھڑوں سے سیا گیا ہے ۔ اور اس کا رنگ روپ اور رکھ رکھاؤ اتنا بے ترتیب اور بے ہنگم ہے جیسے کسی اناڑی نے ڈیزائن کیا ہو ۔ ہم لوگ خود تنقیدی کے راستے کے مسافر نہیں ہیں ۔ ہم خود کو خُدا کے بعد سب سے بزرگ مذہبی جمعییت سمجھتے ہیں ۔ منیر نیازی نے کہا تھا :
سب سے بڑا ہے نام خُدا کا اُس کے بعد ہے میرا نام
چنانچہ ہم اس فلسفے کو اپنا ذاتی مرتبہ سمجھتے ہیں اور اس وہم میں رہتے ہیں کہ ہمچو ما دیگرے نیست ۔ یہ ہمارا سماجی رویہ ہے جس نے ہمارے معاشرے کو لاقانونیت اور بے راہروی کا شکار بنا رکھا ہے ۔ ہم نہیں جانتے کہ انسانی منصب تین طرح کے قوانین کی رسی سے بندھا ہوا ہے جو کچھ اس طرح ہیں:
۱ ۔ اللہ کی اطاعت یعنی اللہ کی کتاب میں اللہ کے وضع کیے ہوئے قوانین کو ماننا
۲۔ اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یعنی شریعت کے قوانین کو ماننا
۳ ۔ اطاعتِ اولی الامر یعنی حاکمِ وقت کے قوانین کو ماننا جو ملکی آئین اور فوجداری اور دیوانی قوانین پر مشتمل ہیں
اور ان تینوں طرح کے قوانین کے درمیان ہم آہنگی سے معاشرے کا نظام چلتا ہے ۔ لیکن ہم وہ بے تربیت بھیڑ ہیں جو قانون قانون کا ورد تو کرتے ہیں مگر قانون کی پابندی کر کے قانون کی بالا دستی کو رائج نہیں کرتے ۔ قانون ہمارے یہاں بازاری جنس ہے جسے ہم قابلِ خرید و فروخت سمجھتے ہیں لیکن اس کے باجود اخلاقیات کے اعلیٰ مثالوں کی شان میں قصیدے پڑھتے ہیں ، قانون کی بالا دستی کے بیانات جاری کرتے ہیں جبکہ میدانِ عمل میں ہماری اوقات یہ ہے کہ ہم اپنے شہروں ، قصبوں اور نواحی بستیوں کی گلیوں کو صاف نہیں رکھ سکتے ۔ ہماری جمہوریت کچرا کنڈیوں کی جمہوریت ہے اور ہمارے انصاف فراہم کرنے والے ڈپو پولدر جب بھی ملک میں جمہوریت پر عسکری حملہ ہو تو فوراً فوجی جرنیلوں کی جیب میں چلے جاتے ہیں اور یہ ہماری بہتر برس کی جمہوری تاریخ ہے جس میں ساڑھے چار مارشل لائیں ہم پر اتاری گئیں ۔
اور یہ ہماری فوجی وراثت کا اثر ہے کہ آئین ہو یا قانون اس کے ساتھ ہم وہی کرتے ہیں جو گلی کوچوں میں ہم کورونا کی روک تھام کے لیے لگے دفعہ ایک سو چوالیس کے ساتھ کرتے ہیں ۔ سڑکوں پر قانون شکنی کی پاداش میں مرغا بنے مہذب مسلمان شہریوں کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ہم لوگ بھی کیا لوگ ہیں جنہوں نے قانون کا احترام تک نہیں سیکھا ۔ ہمارے وہ مبلغین جو شہروں شہروں نیکی کی ہدایت دینے نکلے رہتے ہیں ، پولیس پر چاقو سے حملہ کر کے ایس ایچ او کو زخمی کردیتے ہیں کہ تم ہوتے کون ہو ہمیں قانون کی پابندی پر مجبور کرنے والے ۔ یہ تبلیغی جماعت کی تنظیم کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ دین کے راستے پر جن لوگوں کو لے کرچل رہے ہیں وہ اطاعت کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہیں ۔
کورونا اس وقت ایک بہت بڑا خطرہ ہے جس سے پوری انسانی جمعییت دوچارہے ۔ ملکوں ملکوں متعدد لوگ ہر روز اس وبا سے لقمہ اجل بن رہے ہیں اور احتیاطی تدابیر کا تقاضا ہے کہ حکومتِ وقت کی طرف سے جاری ہونے والی ہدایات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اُن تدابیر کو اختیار کیا جائے جنہیں طبی عملہ بیان کر رہا ہے ۔ ان ہدایات پر عمل ہر پاکستانی کی صحت کی حفاظت کا ضامن ہے مگر ہم یہ سوچ کر کہ جو رات قبر میں آنی ہے ، آ کے رہے گی ، حفاظتی تدابیر کے ضمن میں ملکی قانون کے پرخچے اُڑا رہےہیں ۔ یہ ایک سنگین صورتِ حال ہے جو بطور شہری ہماری جہالت کا مونہہ بولتا ثبوت ہے ۔ آج ہی مجھے نوم چومسکی کا ایک انٹرویو سننے کا موقعہ ملا جو کہہ رہے تھے کہ اس وقت صرف کورونا ہیں نہیں بلکہ گلوبل وارمنگ ، تیسری عالمی ایٹمی جنگ اور جمہوریت کا خاتمہ وہ خطرات ہیں جو انسانی نسل کے سر پر منڈلا رہے ہیں اور ہم اپنی ہٹ پر قائم ہیں کہ ابابیل ہمیں بچا لیں گے ۔ الا ماشا اللہ