کورونا سے ترقی پذیر ممالک کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی: رپورٹ
- منگل 31 / مارچ / 2020
- 5500
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اس نقصان سے نمٹنے کے لیے 25 کھرب ڈالر تک امداد کی ضرورت ہوگی۔
اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی سے متعلق کانفرنس (یو این سی ٹی اے ڈی) کی گزشتہ روز جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان، ارجنٹائن اور افریقہ کے صحرائی ممالک کو خوفناک بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں قرضوں کے اضافے شامل ہیں۔ صحت کے شعبے پر تباہ کن اثرات بھی رونما ہوں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیشتیں سرمایے کے بہاؤ سے بری طرح متاثر ہوں گی۔ اشیا کی گرتی ہوئی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے برآمدات کے منافع میں کمی ہوگی، جس کا مجموعی اثر 2008 کے بحران سے کہیں زیادہ خراب ہوگا۔ رپورٹ کی نگرانی کرنے والے یو این سی ٹی اے ڈی کے ترقیاتی حکمت عملی کے ڈائریکٹر رچرڈ کوزول رائٹ نے کہا کہ ’یہ واقعی بہت خراب ہو گا‘۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کو اس قسم کی تجاویز کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ یہ واحد راستہ ہے جس سے ہم پہلے ہی سے ہونے والے نقصان کو روکنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
کوزول رائٹ نے تخمینہ لگایا کہ اس سال اور اگلے سال میں کورونا وائرس 20 سے 30 کھرب ڈالر کے مالی خسارے کا سبب بنے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ترقی پذیر ممالک کو اس سال معاشی بحران کا سامنا کرنے کے لیے 25 کھرب ڈالر کے امدادی پیکیج کی ضرورت ہوگی۔
ان اقدامات میں 10 کھرب ڈالر کا لیکویڈیٹی انجکشن اور ایک کھرب ڈالر کا قرض سے نجات پیکیج شامل ہوگا اور ہنگامی صحت سروسز اور متعلقہ پروگراموں کے لیے حکومت کے کنٹرول میں بالترتیب مزید 50 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہوگی۔
’ترقی پذیر ممالک کو کووڈ - 19 کا جھٹکا‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پہلے تخمینے سے ملتے جلتے ہیں۔