لاک ڈاؤن کے دوران کیا کیا جائے؟
- تحریر آبیناز جان علی
- منگل 31 / مارچ / 2020
- 12000
حال میں دریافت شدہ کرونا وائرس ’کووڈ۔19‘ نامی وائرس بیماری پیدا کرتا ہے۔ یہ مہلک وائرس جسم میں داخل ہو کر انسانی سیلزپر حملہ کرتا ہے۔ جسم کے سیلز میں داخل ہوکر انہیں مارتا ہے اور آس پاس کے سیلز کو متاثر کر کے پھیلتا جاتا ہے۔
کووڈ۔19 سے متاثر کوئی شخص جب چھینکتا یا کھانستا ہے تو اس کی چھینک کی پھوار آس پاس موجود لوگوں کو متاثر کرسکتی ہے یا آس پاس کی جگہوں پر پھیل جاتا ہے۔ ان جگہوں پر وائرس تین دن تک رہ سکتا ہے۔ اس بیماری سے محفوظ رہنے کے لئے لوگوں سے ایک میٹر کا فاصلہ رکھنا ضروری ہے۔ بھیڑ بھاڑ سے گریز کرنا ضروری ہے اور جہاں تک ہوسکے گھر سے کام کرنا اور بلا وجہ باہر نہ نکلنا ہے۔ مانا جاتا ہے یہ وائرس چمگاڈروں میں پایا جاتا ہے۔ ان کو کھانے سے یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہوگیا اور انسانی میل جول سے ایک انسان سے دوسرے انسان میں پھیلتا گیا۔ دیکھتے دیکھتے یہ وبا پوری دنیا میں پھیل گئی اور دنیا میں خوف اور دہشت کا ماحول پیدا ہوگیا۔
افسوس جزیرۂ موریشس بھی اس کی زد میں آگیا۔ 20 مارچ کو موریشس کی سرکار نے اعلان کیا کہ ملک میں لاک ڈاؤن ہوگا۔ یعنی کہ سب لوگ اپنے اپنے گھر میں رہیں گے۔ بازار اور دکانیں بند کی جائیں گی۔ بجلی، پانی اور ٹیلی فون بل کی ادائیگی ملتوی کی گئی۔ اسکول کی چھٹی کو آگے بڑھایا گیا۔ دفتروں میں کم لوگ کام پر جائیں گے اور زیادہ تر کام انٹرنیٹ کے ذریعے انجام پذیر ہوں گے۔ انتیس مارچ سے اکتیس مارچ تک ایک سو اٹھائیس لوگ اس وائرس کا شکار ہوگئے ہیں اور تین افراد لقمہ اجل بن گئے۔
ملک گیرلاک ڈاؤن نے تذبذب کا عالم پیدا کیا۔ دھیرے دھیرے انسان ایک نئے معمول کا عادی ہو رہا ہے۔ اس کے احساسِ تحفظ پر حملہ ہوا ہے۔ جس جگہ میں وہ پرکیف سانس لے رہا تھا، اب اچانک ہر جگہ اسے خطرے کا احساس ہونے لگا ہے۔ اسے اپنے اہل خانہ کی فکر ہے۔ یہ وقت انسانی نفسیات کا امتحان لے رہا ہے۔ میڈیا پر چوبیس گھنٹے وائرس کا ہی چرچہ ہے۔ وہ احباب کی صحبت سے محروم ہوچلا ہے۔ نئی صورتِ حال نے اس میں ایک بے چینی پیدا کردی ہے جس سے تناؤ بڑھتا جارہا ہے۔ گھر میں کھانے کا سامان بھی محدود ہے۔ ایسے میں ذہن کو کارگر چیزوں میں منہمک رکھنا بہت اہم ہے۔ ورنہ گھر بیٹھے بیٹھے انسان اکتا جاتا ہے۔
وقت ایک نایاب نعمت ہے جس کو ضائع کرنا گناہ ہے۔ گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔ کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک ٹھہراؤ آگیا ہے۔ دنیا کے کاروبار اور نظام میں غیر معمولی تبدیلی آگئی ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ جس چیز کو ہم اپنی توجہ کا مرکز بناتے ہیں ہمارا ذہن اسے بڑھاتا ہے۔ چنانچہ سوچ سمجھ کر وقت کا استعمال کریں۔ اپنی ترجیحات کی فہرست بنائیں کہ آنے والے دنوں میں آپ کون کون سے کام انجام دینا چاہتے ہیں۔ آپ اپنی زندگی کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں۔ جس مشغلے کو آپ پسند کرتے ہیں اسے زیادہ وقت دیں۔ اپنی زندگی کا منصوبہ طے کریں۔ یہ زندگی کے اہم فیصلے لینے کا وقت ہے۔ جس دن کچھ نہ کرنے کا من ہو،پورا آرام کریں۔ خود کو اہمیت دیں۔ اپنی ترجیحات کو پہچانیں۔ اپنے رشتوں پر غور و خوض کریں۔ مراقبہ کریں۔ اپنے دل کی سنیں۔ اپنے خدا سے اور زیادہ مضبوط رشتہ بنائیں۔ استغفار سے اس کا قرب حاصل کریں۔ دنیا کے شور و غوغہ سے دور رہیں۔ کچھ لوگوں کو ڈرامہ میں تسلی ملتی ہے۔ یاد رہے کہ خوف مزید خوف کا پروردہ ہے۔
تناؤ کو کم کرنے کے لئے مزاحیہ ویڈیوز دیکھیں۔ ٹی وی پر فلم دیکھیں۔ ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھیں۔ رقص سیکھیں یا کوئی باجا بجانا سیکھیں۔ طرح طرح کے چہرے بناتے ہوئے اپنی فوٹو نکالیں۔ موسیقی سے لطف اندوز ہوں۔ اس کے معنی خیز الفاظ پر تدبر کریں۔ صاف صفائی کا خیال رکھیں۔ کوئی پرمغز تقریر یا بیان سنیں۔ صفائی نصف ایمان ہے اور اس سے وبائیں بھی دور رہتی ہیں۔ اپنے گھر کی صفائی میں لگ جائیں۔ اپنے کمرے کو جیسے مرضی سجائیں۔ صاف اور منظم ماحول میں رہنے سے انسان کی سوچ میں ٹھراؤ آتا ہے۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماحول پر قابو پانے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ انسان دنیا میں ہر پل مصروف اور مضطرب رہتا ہے۔ اب وہ آرام سے خود کو پاک و صاف رکھ سکتا ہے۔ گرم پانی سے پیڈی کیورکریں۔ تیل سے بالوں اور جسم کو مالش کریں۔ فیس ماسک لگا کر جلد کا خیال رکھیں۔ ویڈیوز کے ذریعے میک اپ کے نئے طریقے سیکھیں۔ اپنے میک اپ برش کو صاف کریں۔ اپنے بال بنائیں۔ ناخن پر پالش لگائیں۔
زیادہ سے زیادہ پانی پئیں۔ آن لائن شاپنگ کریں۔ اپنی الماری میں کپڑوں کوترتیب دیں۔ لاک ڈاؤن کے بعدآپ کون سا لباس پہن کر کہاں جائیں گے، اس کے بارے میں سوچیں۔ اس طرح اشتیاق پیدا ہوتا ہے اور خوشی ملتی ہے۔ جو کپڑے آپ کو پسند نہیں ان کوالگ کریں۔ کپڑوں کو دھونے کے لئے نکالیں۔
یہ نئے علم و ہنر کے انکشاف کرنے کا وقت ہے۔ ایسے مشاغل کی طرف ذہن کو راغب کریں جس میں وقت آسانی سے گزر جائے اور عقل و شعور خوف اور باہر کی دنیا کو فراموش کرجائے۔ کوئی آن لائن کلاس میں داخلہ لیں۔ پڑھائی اور مطالعہ میں وقت صرف کریں۔ نئی زبان پر دسترس حاصل کریں۔ دوستوں سے رابطہ قائم کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔ ان کی اچھائیوں کو یاد کرتے ہوئے ان سے اظہارِ تشکر کریں۔ دوسروں تک اپنے خیالات پہنچانے کے لئے آپ یوٹیوب پر ویڈیو بنا سکتے ہیں۔ یہ وقت بری صحبت سے پرہیز کرنے کے لئے اچھا ہے۔ اپنی ڈائری میں اپنی فکر و عمل کو درج کرسکتے ہیں۔ اپنے فون میں غیر ضروری پیغامات اور تصاویر کو منسوخ کریں۔ اس طرح مستقبل میں کام کی چیزیں بآسانی مل جائیں گی۔
ایسی کتابیں پڑھیں جو آپ کے علم میں اضافہ کریں۔ ای بک تلااش کر کے پڑھیں۔ سوشل میڈیا کا اعتدال کے ساتھ استعمال کریں۔ خبروں سے جہاں تک ہوسکے دور رہیں۔ ورزش سے اپنے جسم کو مضبوط بنائیں۔ فرصت کے وقت میں اپنی نیند پوری کریں۔ اس طرح آپ خود کو ہلکا محسوس کریں گے۔ تخلیقی کاموں کو وقت دیں جیسے شاعری کرنا، کتابیں لکھنا اور تحقیقی کام کرنا۔ سلائی یا کڑھائی میں دھیان دیں۔ باغبانی کرتے ہوئے دھوپ کا مزہ لیں۔ دھوپ کی کرنوں سے وٹامن ڈی ملتا ہے جو جسم کے دفاعی نظام کو تقویت دیتا ہے۔
ایسے وقت میں گھر کے افراد کے ساتھ مضبوط رشتہ بنانے میں صرف کریں۔ ساتھ میں کھیلنے اورکھا نے سے گھر میں سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔ تازہ کھانا کھائیں۔ ہمارا پیٹ ہمارے ذہن سے زیادہ ذہین ہے۔ غذا سے سہارے کا احساس ہوتا ہے اور خوشی ملتی ہے۔ ایسے وقت میں لوگ کام نہیں کر رہے ہیں اور آمدنی کے ذرائع محدود ہو گئے ہیں۔ اس لئے پیسوں کو بچانے کابھی سوچیں۔ پرانی تصویروں کو دیکھ کر اچھی یادوں کو تازہ کریں۔ دل میں احساسِ استحسان پیدا کریں۔ خدا کا شکر ادا کریں اور زندگی کے تجربات سے سبق اخذ کریں تاکہ آگے زندگی آسان ہو جائے۔ اپنا بائیو ڈیٹا اپڈیٹ کریں۔
ان تمام اعمال سے ذہنی کیفیت کا خیال رکھیں۔ مثبت سوچ اپنائیں۔ ہر روز مسکراہٹ کے ساتھ اٹھیں۔ کپٹرے بدلیں۔ پورا دن لباس شب خوابی میں نہ رہیں۔ معمول کے مطابق اٹھا کریں۔ بستر بنائیں۔ اس سے خود اعتمادی کی نشونما ہوتی ہے۔ کھڑکی کے پاس بیٹھیں اور گرم چائے کی پیالی کامزا لیتے ہوئے دنیا کو دیکھیں۔ قدرت کے دیدار سے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائیں۔ آگے کے بارے میں سوچیں۔ پرامید رہیں۔
انسان اکثر وہی چاہتا ہے جو وہ حاصل نہیں کرسکتا۔ لیکن موجودہ صورتِ حال پر ہمارا اختیار نہیں۔ وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لئے گھر پر رہیں۔ محتاط اور محفوظ رہیں۔ مشکل وقت میں مٹھاس پیدا کرنے کے لئے وقت کا مباسب استعمال کریں۔ ایسے وقت میں انسان شدید جذبات سے گزر رہا ہے۔ گھٹن اور بوریت کا احساس بھی ہوگا۔ اداسی اور مایوسی بھی محسوس ہوگی۔ کسی کی شادی ملتوی ہو رہی ہے۔ کسی کو اپنی سالگرہ گھر پر منانی پڑ رہی ہے۔
جو لوگ گھر پر ہی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری پوری کر رہے ہیں انہیں نظم و ضبط برقرار رکھنا چاہئے۔ لاک ڈاؤن کے بعد زندگی اپنے معمول کو پہنچے گی۔ اس کے لئے خود کو تیار رکھیں اور پر امید رہیں۔ خوف کی گرفت سے بچیں۔ گھر پر رہ کر دوسروں کی جان بچائیں۔