کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 43 ہزار سے تجاوز کرگئی

  • بدھ 01 / اپریل / 2020
  • 4520

دنیا میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد پونے لاکھ ہوگئی ہے جبکہ 43 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے اور ملک میں  متاثرین کی تعداد 2071  ہوگئی ہے اور 27افراد انتقال کرچکے ہیں۔

پاکستان میں 26 فروری کو اس وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا تاہم مارچ کے مہینے میں ان کیسز میں بہت تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا اور تقریباً 2 ہزار افراد صرف مارچ کے مہینے میں اس وائرس کا شکار ہوئے۔ 18 مارچ کو اس وائرس سے پاکستان میں پہلی ہلاکت سامنے آئی اور 31 مارچ تک یہ اموات 27 تک جاپہنچی تھیں۔

کورونا وائرس کے پہلے کیس کے ساتھ ہی صوبہ سندھ میں اور بعد ازاں ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی بندش کا اعلان کیا گیا تھا۔ کاروباری مراکز، بین الصوبائی ٹرانسپورٹ، مالز، پارکس، تفریحی مقامات، اشیائے ضروریہ کے سوا دیگر دکانیں اور مختلف مقامات کو بند کردیا گیا تھا تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔ ملک میں ایک طرف یہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے وہیں اس کے مقامی طور پر منتقلی کے کیسز میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کی صبح تک امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 89 ہزار 510 ہو گئی ہے جب کہ ہلاکتیں 4076 ہو چکی ہیں۔  چین میں اس وبا نے 3310 افراد کی جان لی تھی۔ تاہم امریکہ میں ہلاکتیں چین کے مقابلے میں زیادہ ہیں اور اس وبا پر قابو پانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ امریکہ کی ریاست نیویارک کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں 1700 سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یکم مارچ کو ریاست میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔

ایک ماہ کے دوران ریاست میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 76 ہزار سے زائد ہو چکی ہے جو کسی بھی ریاست کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے اور نیویارک کو امریکہ میں کورونا وائرس کا مرکز قرار دیا جا رہا ہے۔  نیویارک کے سینٹرل پارک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے خیمہ بستی قائم کر دی گئی ہے جہاں متاثرہ مریضوں جاری ہے۔

نیویارک کے میئر بل دی بلاسیو نے منگل کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ کرونا وائرس سے شہر کے تمام اسپتالوں میں گنجائش ختم ہو گئی ہے اور انہیں اسپتال میں اس وقت جتنی گنجائش درکار ہے اس سے پہلے کبھی اس طرح کی صورتِ حال کا سامنا نہیں تھا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دو ہفتے پورے ملک کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔  صدر ٹرمپ کی سربراہی میں ٹاسک فورس روزانہ وائٹ ہاؤس میں نیوز بریفنگ دیتی ہے۔ منگل کو اس کے رکن ماہرین صحت نے وائرس سے تباہی کی خوفناک تصویر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکیوں نے آئندہ کم از کم 30 دن سماجی دوری اختیار نہ کی تو بڑا جانی نقصان ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر ڈیبورا برکس اور ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے مستقبل کے امکانات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوام نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں تو ایک لاکھ سے ڈھائی لاکھ تک اموات ہو سکتی ہیں۔ احتیاط نہ کی تو 15 سے 22 لاکھ افراد مرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر فاؤچی نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اگلے چند دن میں اموات کی تعداد میں اضافہ دیکھیں تو حوصلہ نہ ہاریں۔ ممکن ہے کہ مجموعی طور پر ایک لاکھ سے بہت کم اموات ہوں لیکن ہمیں بدترین صورتِ حال کے لیے تیار رہنا ہے۔

امریکہ کے بحری بیڑے 'روزویلٹ' کے کپتان نے محکمۂ دفاع پینٹاگون کو لکھے گئے ایک خط میں تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کورونا وائرس سے بیڑے پر موجود اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرہ ہے اس لیے فوری طور پر مدد کی جائے۔ بحری بیڑے کے کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل ایک خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا کہ بحرالکاہل کے ایک امریکی علاقے گوام میں ان کا بیڑا موجود ہے۔ ان کے بقول کورونا وائرس بیڑے پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث چار ہزار اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

خط کے متن کے مطابق کپتان بریڈ کروزیئر نے کہا ہے کہ ہم حالتِ جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں سیلرز اپنی جانیں دیں۔ انہوں نے کہا کہ بحری بیڑے میں گنجائش کم ہے اور کورونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے بیڑے پر موجود اہلکاروں کو قریبی ساحل پر قرنطینہ میں رکھا جائے۔

پاکستان میں سب سے زیادہ کیسز پنجاب میں 708 سامنے آئے ہیں جب کہ سندھ میں 676، خیبرپختوا میں 253، گلگت بلتستان میں 184، بلوچستان میں 158، اسلام اباد میں 54 اور کشمیر میں 6 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دنیا میں ہہلی بار 4 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں جب کہ 70 ہزار نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔  یورپی ممالک اٹلی میں ایک لاکھ پانچ ہزار جب کہ اسپین میں ایک لاکھ دو ہزار افراد میں وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔ وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی میں 12428 ہوئی ہیں جب کہ اسپین میں 9053، فرانس میں 3523، برطانیہ میں 1789، نیدر لینڈز میں 1039، بیلجیم میں 828، جرمنی میں 788 جب کہ سوئٹزر لینڈ میں 433 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

چین میں مزید سات ہلاکتوں کے بعد مرنے والوں کی تعداد 3312 ہو گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ایران میں متاثرہ افراد کی تعداد 48ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے جب کہ حکام نے 3036 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔