کوروناوائرس اور سیاسی بوکھلاہٹ

کورونا وائرس سے ڈر کر دنیا بھر کے سیاستدان عجیب وغریب حرکتیں کر رہے ہیں۔ جن میں ایک کا خودکشی کرنا بھی شامل ہے جو کہ نہایت افسوس اور دکھ کی بات تو ہے مگر ایسے بے حس سیاستدانوں کے لیے مقام عبرت بھی جو اس مشکل گھڑی میں بھی سیاسی ہتھکنڈوں سے باز نہیں آتے۔

بعض سیاست کے بھیس میں ملبوس غیر سیاسی  سربراہان  اور ڈکٹیٹر بھی ایسا کر رہے ہیں۔کورونا کی اس وبائی مشکل گھڑی میں لوگ گھروں میں بند رہنے سے گھبرا کر نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ جب کہ سیاستدانوں کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ کیا کریں۔ جب وبا کو روکنے کے اقدامات سمیت دنیا میں صحت، ہسپتالوں، ضعیف افراد کی رہائشگاہوں اور نرسنگ کے شعبے میں ترقی کرنے اور بجٹ مختص کرنے کا وقت تھا، جب ہوائی اڈوں پر جانچ پڑتال کر کے متاثرہ، ممکنہ متاثرہ اور مرض میں مبتلا افراد کو علیحدہ کرنے اور حتی المقدور علاج معالجہ مہیا کرنے کا وقت تھا، اسکول کالجوں کو فی الفور بند کرنے کا وقت تھا تو اس وقت یہ سیاستدان اور حکمران سو رہے تھے۔
اور اب ایسے جاگے ہیں کہ ہذیان بک رہے ہیں۔ الٹے سیدھے قوانین بنا رہے ہیں۔ کہیں ریل بس اور دیگر سواریوں کو بند کرکے انسانوں کو پیدل چلنے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ تو کہیں اب تک سرے سے کسی پابندی کا کوئی قانون ہی نہیں ہے۔ ایک فیشن یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے اور جو سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ سیلبریٹیز میں بھی خاصہ مقبول ہورہا ہے وہ یہ ہے کہ گوشہ تنہائی میں بیٹھ رہنا اور ممکنہ متاثرہ افراد کی فریاد اور سوال جواب سے بچ جانا۔

کہیں کوئی ڈکٹیٹر اپنی سربراہی کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھاوا دے رہا ہے۔ تو کہیں کچھ اور۔ بعض ملکوں نے ہنگامی حالات کے پیش نظر فوج  کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی بعض ملکوں میں فوج نے حکومت پر قبضہ کر لیا ہے۔ کہیں پرانے رجعت پسند کھل کر سامنے آگئے ہیں تو کہیں اشتراکی نظام کی سوئی ہوئی قسمت کروٹ بدل رہی ہے۔ کورونا وبا نے بعض حکومتوں نے عوام کی فلاح و بہبود کا پیکچ دیا ہے تو بعض حکومتوں کی بر آئی ہے اور انہوں نے چندے مانگنے شروع کردیے ہیں۔
سیاستدانوں کی بد حواسی اور بدنیتی سے عوام بھی پریشان ہیں۔ اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ وہ سرکاری پالیسی کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ عوام کا شک دور نہ ہوا تو ممکن ہے اس کے سنگین اثرات سامنے آئیں۔ جرمنی کے ایک سیاستدان نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ زیادہ عرصہ عوام کو ان کے گھروں میں بند نہیں رکھ سکیں گے۔ خصوصاً ان نوجوانوں کو جنہیں عام اطلاع کے مطابق کورونا سے کچھ خاص خدشات بھی لا حق نہیں ہیں۔
یہ سب مفروضات ہی ہیں۔ کورونا وبا سے پریشانی سبھی کو لاحق بھی ہیں اور وقت کی پکار یہی ہے کہ گھروں میں رہیں مگر بیوی سے مت لڑیں۔ اگر صورتحال زیادہ خراب ہو تو قرنطینہ میں روپوش ہو جائیں۔