حکومت بمقابلہ کورونا
- تحریر غلام مرتضیٰ باجوہ
- بدھ 01 / اپریل / 2020
- 4660
آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس نے معاشی نقشہ ہی تبدیل کردیا ہے بلکہ یوں کہاجائے کہ کورونا وائرس نے امیر اور غریب کو ایک صف میں کھڑا کردیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے کورونا وائرس نے پاکستان میں اپنے پاؤں جمالیے ہیں۔
اس وبانے عوام اور حکومت میں نئی جستجو شروع کردی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی بیان بازی سے لگتا ہے کہ کورونا وائرس کی آڑ میں ہر کوئی سیاسی دوکانداری کو عروج دینا چاہتاہے۔حکومت اجلاس پر اجلاس کررہی ہے، اپوزیشن پریس کانفرنس پر پر کانفرنس کررہی ہے۔ لیکن نتائج صفر ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس سیا سی کھیل سے نئے سانحہ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔آج مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ”تاجر، سیاستدان،کھلاڑی، لکھاری،طلباء وطالبات“ وغیرہ سب لوگ کورونا وائرس سے پریشان ہیں۔جو کروڑ پتی دولت کی فراوانی کے باوجود پریشان ہیں۔ ساری ساری رات کروٹیں بدلتے رہتے ہیں۔
حکومت کے کورونا امدادی پیکیج میں تاخیرسے نئے سانحہ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔آئین پاکستان کا وہ اعلیٰ قانون ہے جو ریاست پاکستان کے اندر تمام اہم چیزوں اور فیصلوں کا تعین کرتا ہے۔ملک میں چار مرتبہ مارشل لا لگا جس سے دو مرتبہ آئین معطل ہوا، ایک مرتبہ 1956 کا آئین اور دوسری مرتبہ 1962 کا آئین۔ 1972 میں مشرقی پاکستان میں مخالفین نے سازشیں کیں، دوسری طرف مشرقی پاکستان کے عوام میں احساس محرومی بڑھ گئی جس کی نتیجے میں ملک دو لخت ہو گیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے نام سے ایک نیا ملک وجود میں آیا۔ اس وقت غور کیا گیا تو ملک ٹوٹنے کی بہت سے وجوہات تھیں۔ اسی بنا پر 1973 کا آئین بنایا گیا۔آئین بنانے کے لیے ایک خاص کمیٹی تشکیل دے دی گئی اور آئین میں ہر شعبے اور اہم امور کے لیے اصول بنے، ریاست کی تمام بڑے فیصلوں کے لیے قوانین بنائے گئے،حکومت اور ریاست کا پورا ڈھانچہ بیان کیا گیا۔مسودہ تیار ہونے کے بعد اسے قومی اسمبلی سے پاس کرایا گیا۔
آئین کے مطابق پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے۔آئین پاکستان نے ایک وفاق اور اس کے ماتحت صوبائی حکومتیں قائم کی ہیں۔آئین کا پہلا آرٹیکل بیان کرتا ہے کہ ”مملکت پاکستان ایک وفاقی جمہوریت ہوگا جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوگا“۔پاکستان کے مختلف علاقہ جات کے متعلق آئین پاکستان کا دوسرا آرٹیکل بیان کرتا ہے۔پاکستان کے علاقے مندرجہ ذیل پر مشتمل ہوں گے۔(الف) صوبہ جات: بلوچستان،خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ۔(ب) وفاقی دار الحکومت اسلام آباد۔(ج) وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات۔(د) ایسے علاقے اور ریاستیں جو الحاق کے ذریعے پاکستان میں شامل ہیں یا ہو جائے۔آرٹیکل 1 میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی کوئی واضح حیثیت تو بیان نہیں کی گئی لیکن 2009 میں قومی اسمبلی سے ایک اور بل پاس ہوا جس نے واضح طور پر گلگت بلتستان کو نیم صوبے کا درجہ دیا اور یہاں باقاعدہ صوبائی حکومت قائم کیا گیا، جس کے تمام بنیادی شاخ (اسمبلی، عدلیہ، وزارتیں، وغیرہ) قائم کئے گئے۔آئین نے ملک میں دو قانون ساز ایوان قائم کئے۔ایک قومی اسمبلی اور دوسرا سینٹ۔ قومی اسمبلی کی بنیاد آبادی کے لحاظ سے نمائیندگی پرہے یعنی جہاں آبادی زیادہ ہوگی وہاں زیادہ نشستیں رکھی جائیں گی اور قومی اسمبلی کے ارکان کو براہ راست عوام اپنے ووٹ سے منتخب کرتے ہیں۔ جبکہ سینٹ میں تمام صوبوں کو برابر کے نشستیں دی گئی ہیں چاہے صوبہ چھوٹا ہو یا بڑا۔سینٹ کے ارکان کو سینیٹر کہا جاتا ہے اور ان سینیٹرز کو چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ممبران منتخب کر تے ہیں۔
بھوک کے تازہ ترین عالمی انڈکس کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں بیاسی کروڑ سے زائد انسان بھوک اور کم خوراکی کا شکار ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں یہ تعداد بین الاقوامی سطح پر مسلح تنازعات اور جنگوں کی وجہ سے اور بڑھی ہے۔ یہ انڈکس بین الاقوامی سطح پر بھوک کے خاتمے کے لیے کوشاں اور جرمنی سے تعلق رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم ’وَیلٹ ہْنگر ہِلفے‘ یا‘ورلڈ ہنگر ہیلپ‘ کی طرف سے ہر سال جاری کیا جاتا ہے۔اس انڈکس کے مطابق اس وقت کرہ ارض پر 821 ملین انسانوں کو زندہ رہنے کے لیے یا تو کوئی خوراک دستیاب نہیں یا پھر وہ تشویش ناک حد تک کم خوراکی کا شکار ہیں۔ ان میں وہ 124 ملین یا قریب ساڑھے بارہ کروڑ انسان بھی شامل ہیں، جن کا بھوک کا مسئلہ انتہائی شدید ہو کر فاقہ کشی بن چکا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق 2000ئسے لے کر آج تک گزشتہ19 برسوں میں بھوک کے خاتمے کی عالمی کوششوں میں جتنی بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے، اسے ان جنگوں اور مسلح تنازعات سے شدید خطرات لاحق ہیں، جو بڑی تعداد میں مختلف خطوں میں موجود ہیں۔ اور جن میں سے بہت سے برس ہا برس سے حل نہیں ہو سکے۔ اس انڈکس کے مطابق اس وقت دنیا کا بھوک اور کم خوراکی سے سب سے زیادہ متاثرہ خطہ براعظم افریقہ کا زیریں صحارا کا علاقہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے حکومت پاکستان کے پاس یونین کو نسل، محکمہ مال اور نادرا سمیت تمام اداروں کے اہلکار موجود ہیں جو چند گھنٹوں میں امدادکے مستحق افراد کا ریکارڈ پیش کرسکتے ہیں۔ اور امداد تقسیم بھی کرسکتے ہیں۔ امدادپیکیج میں تاخیر سے بھوک کی وجہ سے کوئی نیا سانحہ جنم لے سکتا ہے۔حکومت کو فوری طوری پر مستحق لوگ میں راشن تقسیم کر نا چاہئے ورنہ حالات میں خراب ہوں گے۔ اور کسی بھی پارٹی کے کنٹرول میں نہیں آئیں گے۔جوایک نیا طوفان ہوگا۔ جو سب کچھ بہا لے جائے گا۔