کورونا وائرس پر چین نے امریکی تبصرے مسترد کردیے

  • جمعرات 02 / اپریل / 2020
  • 4680

چین نے کہا ہے کہ امریکہ کورونا وائرس سے متعلق  بیجنگ کی رپورٹنگ پر غلط تبصروں کے ذریعے شکوک و شبہات پیدا کررہا ہے۔  چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چونئنگ نے کہا کہ چین نے وبا سے متعلق ہمیشہ واضح اور شفاف رویہ اختیار کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو چاہئے کہ وہ صحت کے معاملے پر سیاست کرنا چھوڑ دے اور اس کے بجائے اپنے لوگوں کی حفاظت پر توجہ دے۔  واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ چین کی جانب سے کورونا وائرس سے متعلق فراہم کردہ اعدادوشمار تھوڑے کم لگتے ہیں۔ ان کے قومی سلامتی کے مشیر نے کہا تھا کہ واشنگٹن کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ بیجنگ کے اعدادوشمار درست ہیں یا نہیں۔

ٹرمپ نے بتایا تھا کہ انہیں چین کے اعداد و شمار کے بارے میں انٹلی جنس رپورٹ موصول نہیں ہوئی لیکن انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ تعداد تھوڑی بہت کم معلوم ہوتی ہے۔  امریکی صدر نے کہا تھا کہ گزشتہ جمعہ کو چینی صدر شی جنپنگ کے ساتھ فون پر گفتگو کی تھی۔

اس گفتگو کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے تنقیدی رویہ اختیار کرنے کے بجائے کہا تھا کہ امریکا کے چین کے ساتھ  بہت اچھےتعلقات ہیں اور دونوں فریق رواں سال کے شروع میں کئی ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے کو برقرار رکھنا چاہیں گے۔ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے اسی بریفنگ کو بتایا تھا کہ چین کی جانب سے پیش کردہ اعداد وشمار کے بارے میں تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔

رابرٹ اوبرائن نے کہا آپ کو ان خبروں تک رسائی حاصل ہوگئی جو چینی سوشل میڈیا سے آرہی ہیں، ہمارے پاس ان تعداد میں سے کسی کی تصدیق کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ واضح رہے گزشتہ چند دنوں سے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کورونا کو ’چینی وائرس‘ قرار دینے پر فرانس میں چین کے سفارتخانے نے کہا تھا کہ دراصل یہ وائرس امریکا سے شروع ہوا تھا۔ چینی سفارتخانے نے سوال اٹھایا تھا کہ ’گزشتہ برس ستمبر میں امریکا میں شروع ہونے والے فلو کی وجہ سے 20 ہزار اموات میں کتنے مریض کورونا وائرس کے تھے؟

اس سے قبل اتوار کے روز امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ چین سے ’تھوڑا سا پریشان‘ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’انہیں ہمیں (وائرس) کے بارے میں بتانا چاہیے تھا‘۔