ڈینئل پرل کیس میں عدالتی فیصلہ پر امریکہ کی نکتہ چینی
- جمعہ 03 / اپریل / 2020
- 4240
امریکہ نے صحافی ڈینئل پرل کے قتل سے متعلق عدالتی فیصلے کو دہشت گردی کے متاثرین کا مذاق اڑانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
امریکہ کی نائب معاون وزیرِ خارجہ ایلس ویلز نے کہا ہے کہ امریکی صحافی ڈینئل پرل کے گھناؤنے اغوا اور قتل کے ذمہ داروں کو لازمی انصاف کی راہ سے گزرنا ہو گا۔ ایک ٹوئٹ میں ایلس ویلز نے کہا کہ ڈینئل پرل کے قاتلوں کی سزا کو ختم کرنا دنیا بھر میں دہشت گردی کے متاثرین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
پراسیکیوٹر جنرل سندھ ڈاکٹر فیض شاہ کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اسے کس بنیاد پر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے۔ ایلس ویلز نے ڈینئل کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزمان کی رہائی کے عدالتی حکم کو چیلنج کرنے کے پاکستانی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی مقامی ٹی وی چینل 'جیو نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرے گی۔ انہوں نے ڈینئل پرل قتل کیس کا فیصلہ آنے کی ٹائمنگ پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے جمعرات کو ڈینئل پرل قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تین ملزمان کو بری اور مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کی سزائے موت کو سات سال قید میں تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا۔ امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' سے وابستہ صحافی ڈینئل پرل کو 2002 کے اوائل میں کراچی سے اغوا کیا گیا تھا اور اسی سال مئی میں ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔
اس دوران محکمہ داخلہ سندھ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے سے رہا ہونے والے ملزمان کو مزید 3 ماہ کے لیے دوبارہ حراست میں لے لیا ہے۔ سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) نے سندھ حکومت کو خط لکھا تھا جس میں ملزمان کی رہائی سے نقصِ امن کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔