پاکستان میں کورونا وائرس سے 35 افراد جاں بحق، دنیا میں 54 ہزار ہلاک ہوگئے
- جمعہ 03 / اپریل / 2020
- 5380
پاکستان میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد 2400 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ جبکہ کورونا کی وجہ سے مرنے والوں تعداد 35 ہو گئی ہے۔ دنیا میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 10 لاکھ 30 ہزار ہوچلی ہے جبکہ 54 ہزار افراد اس مرض کی وجہ سے جان سے گئے ہیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نماز جمعہ کے اجتماعات کو بھی محدود رکھا گیا۔ بیشتر مساجد میں تین سے پانچ افراد نے نماز جمعہ ادا کی۔ حکومت کی جانب سے اس مرتبہ مزید سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ نماز جمعہ سے قبل ملک بھر کی مساجد کے قریب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا گشت جاری رہا۔ مساجد سے اعلانات بھی کیے گئے کہ شہری گھروں میں نماز پڑھیں۔
لاہور کے جامعہ نعیمیہ کے مہتتم مفتی راغب نعیمی نے بھی ایک فتویٰ جاری کیا تھا کہ اگر تین سے پانچ افراد بھی مسجد میں جمعہ ادا کریں تو نماز ہو جائے گی۔ علمائے کرام نے بھی شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ سماجی دُوری اختیار کریں تاکہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے پاکستان کے صوبہ سندھ میں جمعے کو دوپہر 12 بجے سے ساڑھے تین بجے تک مکمل لاک ڈاؤن ہے۔ شہریوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی گاڑیاں سڑکوں پر لائی جا سکتی ہیں۔
کراچی سمیت صوبے بھر کے اہم شہروں میں پولیس اور رینجرز لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے لیے مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران پیٹرول پمپس، کریانے کی دکانیں اور دیگر مراکز مکمل طور پر بند ہیں۔
بھارت میں کوروناوائرس کے مثبت کیسیز کی تعداد 2301 اور ہلاکتوں کی تعداد 56 ہو گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 336 نئے کیسیز سامنے آئے اور 6 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک مختصر ویڈیو پیغام میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے پانچ اپریل کو رات نو بجے نو منٹ تک اپنے موبائل کی ٹارچ یا موم بتی جلا کر یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ البتہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم کی اس ہدایت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے پاس کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کا کوئی ویژن نہیں ہے۔
بھارت کی سپریم کورٹ نے مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ اور بے روزگار ہونے والے طبقات کی مالی معاونت کے ضمن میں دائر درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
امریکا میں ایک روز میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ ہوئی ہیں۔ امریکا میں وبا سے تقریباً 6 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار ایک سو رہی۔ وائٹ ہاؤس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک لاکھ سے 2 لاکھ 40 ہزار امریکی اس مرض سے ہلاک ہوسکتے ہیں۔ امریکی میں اس صورتحال کے بعد 85 فیصد امریکی کسی نا کسی طرح تک گھروں میں رہنے کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔
امریکا میں وبا کے مرکز نیو یارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے عوام سے باہر نکلتے وقت اپنے چہرے ڈھانپنے کی اپیل کی ہے جبکہ امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کہا ہے کہ عوام کے لیے ماسک کے استعمال پر ایک دو روز میں تجاویز جاری کی جائیں گی۔
کئی ہفتوں تک اس بحران کا مرکز رہنے والے یورپ میں اب ایسے اشارے سامنے آرہے ہیں کہ وہاں یہ وبا چوٹی کو چھوچکی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے اعداد و شمار کے مطابق اسپین میں 950 اور برطانیہ میں 569 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔ اٹلی اور اسپین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہاں اب نئے کیسزز کی تعداد کم ہورہی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ہانس کلوگے کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے صرف بزرگ لوگوں کے متاثر ہونے کا تاثر درحقیقت غلط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں اور جوانوں میں متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے چند کو اننتہائی نگہداشت میں رکھا گیا اور چند ہلاک ہوگئے۔
برطانیہ میں وزیر اعظم بورس جونسن نے ٹیسٹنگ کو بڑی تعداد میں بڑھانے پر زور دیا ہے۔ وزیر صحت نے ایک ہفتے میں ایک لاکھ ٹیسٹ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ بورس جونسن جو خود بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے انہیں حال ہی میں اس وبا کو پھیلنے سے روکنے میں حکومت کی ناکامی پر تنقید کا سامنا ہے۔
روس میں کیسز کی تعداد ساڑھے 3 ہزار تک پہنچنے پر صدر ولادمیر پیوٹن نے اپریل کے آخر تک ادائیگی کے ساتھ کام نہ کرنے کے ایام میں اضافہ کردیا ہے۔ روس کے زیادہ تر علاقے اس وقت لاک ڈاؤن میں ہیں۔
کورونا وائرس کے حوالے سے تازہ ترین ترین سخت اقدامات اٹھانے والا ملک تھائی لینڈ ہے جہاں جمعے سے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تھا۔