ہم نے کرونا کو ہرایا
- تحریر نعیمہ احمد مہجور
- جمعہ 03 / اپریل / 2020
- 7900
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب دنیا بھر میں جہاں اجتماعی زندگی مفلوج ہو کے رہ گئی ہیں وہیں رشتہ ازدواج میں بندھنے کی محفلیں بھی خاموش نظر آرہی ہیں۔
جن لوگوں نے شادی بیاہ کی تاریخیں مقرر کر رکھیں تھیں وہ بھی فل الحال منسوخ کر دی گئیں ہیں۔ اس پس منظر میں لندن میں حال ہی میں ایک ایسی غیرمعمولی شادی منعقد ہوئی کہ جس کو شاید تب تک یاد رکھا جائے گا جب تک اس دنیا میں کرونا (کورونا) وائرس کا ذکر قائم رہے گا۔ میں یاور عباس کی بات کر رہی ہوں جو چند ماہ کے بعد اپنی زندگی کے سو سال پورے کرنے والے ہیں۔ گزشتہ 70 برسوں سے لندن میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے فلم پروڈکشن میں کافی عرصہ گزارا ہے بعد میں 20 برس تک بی بی سی اردو سروس میں نیوز ریڈر یا پروڈیوسر کی حثیت سے کام کرتے رہے جہاں میری ان سے شناسائی ہوئی۔
سن نوے کے اوائل میں جب میں بی بی سی کی اردو سروس کے ساتھ بحیثیت پروڈیوسر منسلک ہوئی تو یاور صاحب زیادہ تر خبروں کا بلیٹن پیش کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ میں صبح کا ریڈیو پروگرام ’جہاں نما‘ پیش کر رہی تھی اور یاور عباس کو خبریں پڑھنی تھیں۔ وہ وقت پر پہنچ نہیں پائے شاید لفٹ میں پھنس گئے یا پھر سٹوڈیو بھول گئے تھے۔ میں نے بلیٹن کے بغیر پروگرام جاری رکھا اور پروگرام ابھی 10 منٹ باقی تھا کہ وہ ہانپتے کانپتے سٹوڈیو میں داخل ہوئے اور فوراً خبریں پڑھنا شروع کر دیں۔ پروگرام کے بعد میں نے دیر سے آنے کی وجہ پوچھنا چاہی تو وہ اس کا جواب دیے بغیر کہنے لگے۔ ’آئندہ سٹوڈیو میں آنے سے پہلے میرا نیوز بلیٹن ساتھ رکھا کیجیے اور کبھی خود بھی پڑھنے کی زحمت گوارہ کیجیے۔‘ یقین مانیے میں نے بعد میں ایسا ہی کیا اور ہر مرتبہ ان کے نیوز بلیٹن کی کاپی ساتھ رکھا کرتی تھی۔
یاور صاحب بےحد مست شخص ہیں۔ خوش مزاج، نفیس لباس پہننے اور ضیافتوں کے شوقین۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ میں نے مسکراہٹ دیکھی ہے البتہ وہ اس وقت اداس ہوتے دکھتے جب شیئر بازار میں حصص کی قیمتوں میں گراوٹ آتی تھی۔ ان کے ہاتھ میں فائنینشل ٹائمز اخبار کی بےحرمتی دیکھنے کے لائق ہوتی تھی۔ گزشتہ برس دسمبر سے جب سے دنیا کرونا کے عذاب سے نجات حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل نظر آ رہی ہے یاور عباس مارچ آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے تقریبا 62 برس کی خاتون نور ظہیر سے شادی کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس بندھن میں بندھنے کی تاریخ 27 مارچ مقرر ہوئی تھی۔
جب کرونا کا بخار تیز ہونے لگا تو یاور عباس کو محسوس ہوا کہ ان کی شادی ملتوی ہوسکتی ہے اور وہ اس بندھن میں بندھنے کا خواب شاید پورا نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے انتظار کئے بغیر اپنی مقامی کونسل کو فون کر کے ایمرجنسی شادی کرنے کی درخواست کی۔ مقامی رجسٹرار نے ان کی درخواست کو اتنا سنجیدہ لیا کہ ٹیلیفون کے ایک گھنٹے بعد دولہا میاں دلہن کی کونسل سے رخصتی کروا کے گھر لے آئے۔ تب سے دونوں قرنطینہ میں ہنی مون منا رہے ہیں۔
برطانیہ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے میں شادی میں شریک نہیں ہو سکی لیکن میں نے دولہا دلہن کو فون پر ہی لمبی عمر کی دعا دی اور یاور عباس سے پوچھا کہ برطانیہ میں 70 برس سے زائد عمر کے لوگوں کو تقریباً تین ماہ گھروں میں محصور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے ایسے میں آپ نے شادی کر ہی ڈالی کیا آپ کو کرونا کا کوئی خوف نہیں؟ ’کرونا کا کوئی خوف نہیں ہے ہاں خوف یہ تھا کہ اس کی وجہ سے ہماری شادی رک نہ جائے۔ بلکہ یہ بھی امکان تھا کہ شاید شادیاں بند ہی نہ کر دی جائیں۔ لیکن میں نے ٹھان لی تھی کہ گھر میں محصور ہونے سے پہلے میں شادی کر لوں۔ میرج آفس نے بڑی حوصلہ افزائی کی اور میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا۔‘
عالمی ادارہ صحت اور یورپی ممالک نے 70 سال سے زائد عمر کے لوگوں کے بارے میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرونا وائرس ان کے لیے جان لیوا ہوسکتا ہے حالانکہ کئی عمر رسیدہ افراد وائرس کے باوجود صحت یاب ہوگئے ہیں۔ ان میں کیرلا کا ایک بزرگ جوڑا بھی شامل ہے جو ہسپتال میں ایک ماہ زیرعلاج رہنے کے بعد صحت یاب ہوگئے۔
یاور عباس کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی مرضی سے زندگی گزاری اور فیصلے کئے جو بعض لوگوں کو ناگوار بھی گزرے مگر ’میں جس شے کو حاصل کرنے کا عہد کرتا ہوں اس سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتا۔ میرا ایک خواب ہے جو شاید میری عمر میں کبھی پورا نہیں ہوگا۔‘ میں نے پوچھا کونسا خواب؟ ’میری زندگی بھر کا ایک ہی خواب ہے کہ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہو جائیں جو شاید میری زندگی میں پورا نہیں ہوگا۔ سیاست کی وجہ سے خاندانوں کو بانٹ دیا گیا اور میں نے بٹوارے کی سخت ترین سختیاں برداشت کی ہیں۔‘ میں یہ کہنے کی ہمت نہیں کر سکی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی آج کل بھارت کو افغانستان سے ملیشیا تک ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھ رہی ہے۔
یاور عباس کی دلہن نور ظہیر برصغیر کے معروف اردو مصنف اور دانشور سجاد ظہیر کی بیٹی ہیں۔ وہ خود کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں اور بھارت میں ہندوتوا کی بڑھتی لہر کے خلاف سرگرم کارکن تصور کی جاتی ہیں۔ میں نے نور ظہیر سے پوچھا کہ اس عمر میں یاور عباس کے ساتھ ازدواجی رشتے میں بندھنے کی اہم وجہ کیا رہی ہے؟
’کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ وہ بےشمار صفات کے مالک ہیں۔ ان میں مزاح بھرپور ہے۔ خود ہنستے ہیں اور دوسروں کو بھی ہنساتے ہیں۔ میں ان سے محبت کرتی ہوں جس میں عمر کی کوئی دیوار حائل نہیں رہی ہے اور میں اس فرسودہ روایات کو نہیں مانتی کہ عمر رسیدہ محبت سے خالی ہوتے ہیں یا ان کو صرف مرنے کے لیے زندہ رہنا چاہیے۔ زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے اور ہر لمحہ جینے کی امنگ ہونی چاہیے۔‘
نور کہتی ہیں کہ وہ دس برس سے ایک دوسرے سے واقف رہے ہیں اور ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد ہی اس رشتے کو مضبوط کر دیا ہے۔ بقول میری دوست دردانہ انصاری کے ’چونکہ ہم معجزات کی دنیا میں رہتے ہیں ہو سکتا ہے ایک اور معجزہ یاور عباس صاحب کے گھر میں بھی ہو۔ اگلے سال نہ صرف ہم ان کی 100ویں سالگرہ منائیں گے بلکہ ان کے نوزائید بچے کو تحائف بھی دینے جائیں۔
ہاں ایک شرط یہ ہے کہ سال رواں میں ہم سب کو کرونا کے عذاب سے بچ نکلنا ہوگا۔‘
(بشکریہ: انڈی پدنٹ اردو)