کووِڈ19: عالمی معیشت کا نائن الیون

  • تحریر
  • ہفتہ 04 / اپریل / 2020
  • 6060

انسان اپنے معمولات کے تسلسل  سے ہی مستقبل کا گراف  بناتا ہے۔ ابھی چند ماہ قبل کی بات ہے کہ ورلڈ بینک  اور آئی ایم  ایف سال 2020 شروع ہونے سے قبل  پیشین گوئیاں  کر رہے تھے کہ برہمن نے جس سال کے اچھا ہونے  کی پیشین گوئی کی یہی  وہ سال ہے۔

عالمی معیشت کی شرح نمو، عالمی تجارت کی شرح نمو، امریکہ اور یورپ سمیت بہت سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے بارے  میں پیشین گوئی  تھی کہ  یہ سال  ترقی اور خوشحالی کا سال ہو گا۔

مگر پھر  یوں ہوا کہ چین کے ایک شہر ووہان سے دریافت ہوئے ایک نا دیدہ وائرس نے پوری عالمی معیشت کا بھرکس نکا دیا۔  اس قدر بھرکس کہ 2007  کے معاشی بحران، 1987  کے سٹاک مارکیٹ کریش  کے ساتھ ساتھ اب  تیس کی دِہائی کی خوفناک کساد  کا  بار بار تقابل کیا جا رہا  ہے۔  عالمی سیاست کے منظر پر حالیہ برسوں میں امریکہ میں   ورلڈ ٹریڈ سنٹر  کی تباہی کے واقعہ جسے عموماٌ  9/11  یعنی نائن  الیون کہا جاتا ہے  نے دنیا کی سیاست، معاشرت اور بہت سے انسانی روّیوں کو ہمیشہ سے بدل کر رکھ دیا۔ اس حد تک بدل دیا کہ اب  اس واقعے سے پہلے اور بعد والی دنیا کو  اس واقعے کی لکیر کے اِس پار یا اُس پار کی  عینک سے دیکھنا معمول  ہو گیا ہے۔

تمام تر عقل اور  دانش کے زعم کے باوجود قدرت کی ایک نادیدہ  چال  سے انسان کی  سوچ اور  سمجھ کے سب  دبستان دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کے لئے انگریزی میں  Disruptive Incident  کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں یعنی  تسلسل  میں انقطاع واقع ہو جاتا ہے۔ مفروضوں اور شرائط  کے پیمانے نئے سرے سے ترتیب دیے بغیر چارہ نہیں ہوتا۔ بہت سال قبل ہم گھر کی تبدیلی کے  عمل کی وجہ سے  کچھ  غیر متعلق پرانی کتابیں اور  کاغذات تلف کرنے بیٹھے تو گزشتہ صدی کے ایک بہت بڑے فلاسفر برٹرینڈرسل کی ایک کتاب  پر نظر پڑی۔ فہرست مضامین پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی تو ایک مضمون پر نگاہ اٹک گئی، اکیسیوں صدی کا منظر کیا ہوگا؟  پڑھنا شروع کیا تو بے ساختہ ہنسی چھوٹ گئی۔

تمام تر  تجزیہ  صرف ایک مرکزی مفروضے پر استوار تھا کہ  بیسیویں صدی  میں عروج پر جاری  کولڈ وار یعنی  سرمایہ دارانہ نظام اور سوشلسٹ بلاک کے درمیان  کشمکش  نئی صدی میں  کیا شکل اختیار کرے گی۔  80  کی دِہائی میں   سوویٹ یونین کے انہدام کے ساتھ ہی سوشلسٹ بلاک  ہوا  گیا جس کی کوکھ سے ایک نئی ایک قطبی دنیا وجود میں  آئی لیکن ایک عظیم فلاسفر کے وہم و گمان میں بھی یہ امکان نہ گزرا کہ  کولڈ وار  یوں  بے موسم  پھل کی طرح متروک ٹھہرے گی۔

کووِڈ19  کا اچانک ظہور اورجس قدر تیزی اور مضبوطی سے اس نے دنیا پر اپنے پنجے  گاڑے ہیں، ہمیں یہ واقعہ عالمی میعشت میں  نائن الیون کے ہم پلہ واقعہ لگ رہا ہے۔  متاثرین کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔ یورپ  کی ترقی اور اس کے ہیلتھ سسٹم کی  تعریفیں سنتے پڑھتے ایک مدت گزری بلکہ مغرب کی ترقی  کا یہ ایک مستقل بیانیہ رہا ہے۔   کووِڈ 19   نے مگر اس بیانئے اور ہیلتھ سسٹم کی خوبیوں کے بت کو ایک ہی وار سے پاش پاش کرکے رکھ دیا ہے۔    ایک ہی دن میں سینکروں اموات  کی خبریں شاید اس تسلسل سے محاذِ جنگ سے بھی کم ہی آئی ہوں گی جس طرح آج کل یورپ سے آ رہی ہیں۔

امریکہ کو اپنے ہیلتھ سسٹم پر ناز تھا  مگر وہاں بھی اس نادیدہ وائرس نے  ایک ہی ضرب سے سپر پاور کی بے بسی اور  بے سروسامانی کو  سرِ عالم  عریاں کرکے رکھ دیا ہے۔  کہاں  صدر ٹرمپ کی  خود انکاری کہ اس وائرس  کے امریکہ پر اثرات ممکن  ہی  نہیں اور اب  یہ عالم ہے کہ وہی صدر ٹرمپ اپنی قوم  کو  مطلع  کر رہے ہیں کہ  اعدادوشمار  کے گمان پر جائیں تو امریکہ میں اڑھائی لاکھ  لوگ  اس بیماری  کے ہاتھوں ہلاک ہو سکتے ہیں۔ تاہم وہ  ایمرجنسی اقدامات سے  ممکنہ اموات ایک  لاکھ سے  کم  رکھنے میں  کامیاب ہو سکیں تو بقول اانکے  یہ ان کی   بہت بری کامیابی ہوگی۔

انسانی جانوں کے ممکنہ زیاں، متاثرین کی بہت بڑی تعداد اور  ہیلتھ سیکٹر میں برپا ہونے والی قیامتِ صغریٰ کے ساتھ  ساتھ عالمی معیشت یعنی گلوبل  اکونومی  پر کووِڈ 19   کا وار  نائن الیون  کی  طرح کاری اور مہلک ثابت ہو رہا ہے۔ ابھی تو  یہ بحران  تہہ بہ تہہ پھیل رہا ہے، مزید کھل رہا ہے۔ اس بحران پر انشاء اللہ جلد قابو پانے کے بعد اس کے نقصانات کا اندازہ لگا تو معلوم ہو سکے گا کہ  گلوبل اکونومی شاید پھر کبھی بھی نومبر 2019  سے پہلے کے  زمانے  سے نہ جڑ سکے۔

گزشتہ چالیس سالوں کی مسلسل کوششوں سے ایک نہایت مربوط اور ایک دوسرے پر انحصار کی کڑیوں کے ساتھ جڑی کڑی  سے  بنائی جس  ویلیو چین  پر معیشت دانوں کو ناز  تھا کہ یہ بہترین، تیز ترین اور سستی ترین  ویلیو چین ہے  اب بکھری پڑی ہے۔ یورپ  کے ممالک  اپنے ہاں سے مطلوبہ تعداد میں ماسک،  ہیلتھ سیکٹر کے اہلکاروں کے لئے حفاظتی سامان تک  میں خود کفیل نہیں ہیں بلکہ دوسرے  ممالک کے محتاج ہیں۔ وینٹی لیٹرز کے لئے  بھی دوسروں کے محتاج ہیں۔ اس پر مستزاد کہ  صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بھی اس ویلیو چین کی روانی سے  دم قدم سے تھیں۔ اس ویلیو چین  کی  چند کڑیاں کیا ٹوٹیں  پوری گلوبل اکونومی لڑکھڑا گئی ہے۔

کسی بڑے سے بڑے دماغ کو چار ماہ قبل خواب بھی نہیں آیا ہوگا کہ   اپریل  پہلے ہفتے کا منظر کچھ یوں ہو گا:  اس وبا کے بعد چین کی جی ڈی پی منفی پانچ فی صد متوقع ہے ،  تیل کی قیمتیں ایک تہائی رہ گئی ہیں، وال اسٹریٹ اپنی ویلیو کا  تیس فی صد  کھو چکی ہے، یورپی اور ایشیائی حصص مارکیٹس میں بھی  بیس سے تیس فی صد  ویلیو بھاپ بن کر اڑ چکی۔  ائیرلائنز کا   80% اسٹاف  فارغ اور اتنی ہی پروازیں گراؤنڈ کرنی پڑی ہیں۔  امریکہ میں تاریخ کی کم ترین بے روزگاری  کا بھرم  دو ہفتوں میں ٹوٹ گیا ہے۔  رواں ہفتے  چھیاسٹھ لاکھ لوگوں نے بے روزگاری لاؤنس کے لئے درخواست دی جو اگلے ہفتے ایک کروڑ سے بڑھنے کی توقع ہے۔ امریکہ میں دو ہزار ارب ڈالرز کا امدادی پیکیج بھی ناکافی لگ رہا ہے۔ اب اگلے پیکیج کی باتیں  شروع   ہو گئی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں پانچ ہزار ارب  ڈالرز کا  ابتدائی پیکیج  بھی نظرِ ثانی کے لئے تیار ہے۔  شرح سود صفر  ہو چکی ہے مگر بے روزگاری کے سیلاب کا نشان خطرے کی حد سے نیچے جانے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

کووِڈ19  عالمی معیشت کے ساتھ پاکستان جیسی معیشت  کی چولیں بھی ہلا گیا ہے۔  شٹ ڈاؤن اور لاک ڈاؤن نے بے روزگاری اور بھوک کے خدشے کو جنم دے دیا ہے۔ صرف راشن کی ترسیل ہی مسئلہ   نہیں ہے  روزمرہ کی دوسری  ضروریات بھی مونہہ کھولے ہوئے ہیں۔ حکومت کے معاشی پیکیج اپنی جگہ  درست مگر پہلے سے زبوں حال خزانہ اب کیا کیا بوجھ اٹھائے۔ پاکستان کی معیشت پر یہ واقعہ  کتنا بھاری  ثابت ہو گا، سوچ کر جھر جھری آ جاتی ہے۔  وقتِ دعا ہے، اللہ خیر کرے۔