پابندی کے باوجود نماز جمعہ کا اہتمام کرنے پر مولانا عبدلعزیز اور دیگر کے خلاف مقدمہ

  • اتوار 05 / اپریل / 2020
  • 5980

لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبد العزیز اور 6 دیگر افراد کے خلاف سرکاری حکم کی نافرمانی، خوف پھیلانے اور ریاست کے خلاف لوگوں کو اکسانے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ایس ایچ او انسپکٹر محمد ولایت کی شکایت پر آبپارہ پولیس اسٹیشن میں مولانا عبدالعزیز اور 6 دیگر افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ سیکشن 505 بی (عوامی املاک کو نقصان پہنچانے) اور 188 (ریاستی حکام کے حکم کی نافرمانی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ آبپارہ پولیس کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نماز جمعہ کے اجتماع پر پابندی کے باوجود مولانا عبدالعزیزنے لال مسجد میں لوگوں کو جمعہ کی نماز کے لیے جمع کیا تھا۔

پولیس کے مطابق اس موقع پرمولانا عبدالعزیز نے لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا۔ مسجد کے آس پاس تعینات عہدیداروں نے مولانا عبدالعزیز کو اجتماع پر پابندی اور لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال سے آگاہ کیا لیکن انہوں نے نظرانداز کیا۔  پولیس نے بتایا کہ مسجد میں 400 کے قریب لوگ جمع ہوئے۔

ایک پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس معاملے میں اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ حکومت کی نافرمانی پر خطیب اور 2 دیگر افراد کے خلاف گولرا پولیس میں الگ مقدمہ درج کیا گیا۔  پولیس نے بتایا کہ خطیب کو مقدمہ درج ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا لیکن دیگر 2 افراد مفرور ہیں۔ مشتبہ افراد نے ای 11/4 میں بلال مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع کی پابندی کی خلاف ورزی کی تھی۔

خلاف ورزی کے نتیجے میں 200 افراد مسجد میں جمع ہوگئے جس سے ان کی جان اور دوسروں کی جان کو وائرس سے خطرہ تھا۔ دارالحکومت انتظامیہ نے پولیس کو ہدایت کی وہ نماز جمعہ میں اجتماع پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی مساجد، خطیبوں اور اماموں سے متعلق ساری معلومات مرتب کریں۔

دارالحکومت کے ہر تھانے میں 3 سے 4 اماموں اور خطیبوں کو گرفتار کیا لیکن انہیں انتباہ کے بعد رہا کردیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کا اعلان ہونے کے بعد سے دارالحکومت میں انتظامیہ کے حکم کی نافرمانی کے کل 121 مقدمات درج ہوئے۔  کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگائی گئی مختلف سرگرمیوں پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر تقریباً 424 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا گیا۔