چینی اور گندم بحران میں حکمران جماعت کی شخصیات نے فائدہ اٹھایا

  • اتوار 05 / اپریل / 2020
  • 6630

پاکستان میں چینی اور گندم بحران کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے  نے تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں جہانگیر ترین اور وزیر فوڈ سیکیورٹی خسرو بختیار کے قریبی عزیز کے نام سامنے آئے ہیں۔

ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں کئی نامور سیاسی خاندانوں کے نام شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی کے بحران میں سب سے زیادہ فائدہ حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا۔ انہوں نے سبسڈی کی مدد میں 56 کروڑ روپے وصول کئے جب کہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کے قریبی عزیز نے آٹا و چینی بحران سے 45 کروڑ روپے کمائے۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی پنجاب کی بڑی کاروباری شخصیت چوہدری منیر رحیم یار خان ملز، اتحاد ملز ٹو اسٹار انڈسٹری گروپ میں حصہ دار ہیں۔ اس بحران میں مسلم لیگ (ن) کے سابق ایم پی اے غلام دستگیر لک کی ملز کو 14 کروڑ کا فائدہ پہنچا۔ ایف آئی اے کی پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی کی برآمد سے ملک میں قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ چینی برآمد کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ چینی برآمد کرنے والوں نے دو طرح سے پیسے بنائے۔ چینی پر سبسڈی کی مد میں رقم بھی وصول کی اور قیمت بڑھنے کا بھی فائدہ اٹھایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق شوگر ایڈوائزری بورڈ وقت پر فیصلے کرنے میں ناکام رہا۔ دسمبر 2018 سے جون 2019 تک چینی کی قیمت میں 16 روپے فی کلو اضافہ ہوا۔ اس عرصے کے دوران کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ ذخائر اور ضرورت تقریباً برابر ہیں۔ تھوڑا سا فرق ذخیرہ اندوزوں کو قیمتیں بڑھانے کا موقع فراہم کرے گا۔

گندم کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاسکو مجموعی ضرورت کی 40 فیصد گندم کی خریداری نہیں کرسکی اور وزارت خوراک اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو مئی اور جون 2019 میں بتاتی رہی کہ پاسکو نے مقررہ ہدف کو پورا کرلیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ  نے حکومت کو سفارش بھی کی کہ گندم کے ذخیرے کی صورت حال مناسب ہے اور برآمدات کی اجازت دی جانی چاہیے۔

پنجاب میں محکمہ خوراک میں زیادہ ٹرن اوور کی وجہ سے مزید خریداری کی کوششوں کو انتہائی محدود کردیا جس میں ایک سال کے دوران 4 سیکریٹریز اور تمام ضلعی فوڈ کنٹرولرز کے 3 مرتبہ تبادلے کیے گئے۔ اس کے نتیجے میں خریداری 20 دن تاخیر سے شروع ہوئی اور محکمہ خوراک  فلور ملز پر قابو پانے میں ناکام رہا جس نے منافع بخش مہم کو تقویت بخشی کیونکہ انہوں نے محسوس کیا تھا کہ حکومت کی گندم کی طلب اور رسد کے لیے تیاری نہیں ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق گندم کی چوری میں اضافہ ہوا جب کہ نجی اور سرکاری سطح پر بغیر کسی حساب کتاب کے گندم اسٹاک ہونے لگی اور حکومت گندم کی فراہمی پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھی۔ رپورٹ میں سابق سیکریٹری برائے حکومت پنجاب نسیم صادق اور سابق ڈائریکٹر فوڈ ڈاکٹر ظفر اقبال کو ان سنگین کوتاہیوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق حکومت سندھ نے 8 لاکھ ٹن گندم کے ذخیرے کا دعویٰ کیا تھا لیکن بڑے پیمانے پر چوری کی گئی۔ اگست 2019 کے شروع میں گندم کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہوا تو محکمہ خوراک سندھ مارکیٹ میں مداخلت کرنے میں ناکام رہا۔ خیبرپختونخوا کے حوالے سے بتایا گیا کہ صوبہ میں گندم خریداری ہدف پورے نہ کرنے کے ذمہ دار وزیر قلندر لودھی ہیں۔

رپورٹ کے بعد جہانگیر ترین نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق میں نے 12 فی صد چینی ایکسپورٹ کی جب کہ میرا مارکیٹ شیئر 20 فی صد ہے۔ رپورٹ میں واضح ہے کہ میں نے اپنے حصے سے بھی کم چینی ایکسپورٹ کی۔ جہانگیر ترین نے مزید کہا کہ میری ملز کو ملنے والی تین ارب روپے سبسڈی میں سے ڈھائی ارب روپے تب ملے جب حکومت مسلم لیگ (ن) کی تھی اور میں اپوزیشن میں تھا۔

ایف آئی اے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹس میں کہا ہے کہ گندم چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف تفصیلی رپورٹ آنے پر کارروائی ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وعدے کے مطابق گندم اور چینی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی تحقیقاتی رپورٹ بغیر ردوبدل سامنے لے آئے ہیں۔ ایسی رپورٹ عوامی کرنے کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی جب کہ سابقہ حکومتوں میں اپنے مفاد اور مصلحتوں کے باعث ایسی رپورٹس جاری کرنے کی اخلاقی جرات نہیں تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اعلیٰ اختیاراتی کمیشن سے تفصیلی فرانزک رپورٹ کا انتظار کر رہا ہوں۔ کمیشن کی رپورٹ 25 اپریل کو آئے گی جس کے بعد گندم چینی بحران کے ذمہ دار افراد کےخلاف کارروائی ہوگی۔ رپورٹس آنے کے بعد کوئی بااثر لابی عوام کا پیسہ نہیں کھا سکے گی۔

قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ شہباز شریف نے گندم چینی بحران کی رپورٹ کو وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف فرد جرم قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ سنگین انکشاف ہے جس کی روشنی میں بحران میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔