امریکہ میں کورونا سے ہلاکتیں 9 ہزار تک پہنچ گئیں
- اتوار 05 / اپریل / 2020
- 4480
کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد بارہ لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ ہر روز پانچ ہزار سے زائد لوگ اس مرض کی وجہ سے جان سے جاتے ہیں۔ اس وات دنیا میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 66 ہزار ہوچکی ہے۔
اس وقت سے سے زیادہ مریض امریکہ میں ہیں جہاں مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 11 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پھر اسپین کا نمبر آتا ہے جہاں ایک لاکھ 26 ہزار متاثرین ہیں۔ اٹلی میں ایک لاکھ 24 ہزار کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ جرمنی میں بھی متاثرہ افراد ایک لاکھ تک پہنچ چکے ہیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرہ افراد کی تعداد تین ہزار کے قریبن پہنچ چکی تھی۔ سرکاری طور پر 45 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں ماہ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ اب تک 204 ملکوں میں مجموعی طور پر 12 لاکھ سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں اور 66 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
امریکہ میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 3 لاکھ 11 ہزار سے متجازو ہو چکی ہے جب کہ 8454 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ کورونا وائرس کے باعث امریکہ میں بے روزگاری کی شرح 50 سال کی بلند ترین شرح پر پہنچ گئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ کورونا وائرس امریکہ میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو ہلاک کر سکتا ہے۔ امریکہ کورونا وائرس کا دنیا کا سب سے متاثرہ ملک اور نیویارک سب سے متاثرہ شہر بن چکا ہے۔ امریکی اسپتالوں میں مریضوں کے لیے گنجائش ختم ہونے کے بعد پارکوں میں ٹینٹ ہاسپٹیل قائم کیے جا رہے ہیں۔
اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد 15362 ہو چکی ہے جب کہ متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار ہے۔اسپین میں حکام نے ایک لاکھ 24 ہزار افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے جب کہ 11947 افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک اٹلی اور اسپین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے ممالک میں کورونا وائرس کے باعث جاری بحران اپنی انتہا کو پہنچ سکتا ہے۔ اطالوی حکام نے کہا کہ انفیکشن اس وقت اپنی انتہا پر ہے مگر کم نہیں ہورہا جس کی وجہ سے ایمرجنسی کا وقت ختم کرنا ابھی مشکل ہے۔
اٹلی میں نئے انفیکشنز کی شرح کم ہوئی ہے جہاں ہفتے کے روز 4 ہزار 805 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار 632 ہوگئی جبکہ ہلاکتوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ 15 ہزار 362 ہے۔ اسپین کےوزیر اعظم پیدرو سانچیز کا کہنا تھا کہ ان کی قوم کو ’سرنگ کے دوسرے حصے میں روشنی نظر آنے لگی ہے‘۔ ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو ماہرین کا ماننا ہے کہ اسپین میں آنے والے وقت میں وبا کم ہوجائے گی۔
کورونا وائرس کے دنیا بھر میں پھیلاؤ سے بیماریوں اور آمدنی کے نقصان کے خوف سے پوری دنیا میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی جارہی ہے۔ کورونا وائرس سے غیر یقینی صورتحال میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ کووِڈ 19 نہ صرف صحت کے عالمی نظام کے لیے خطرہ ہے بلکہ انسانی جذبے کا امتحان بھی ہے۔ ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اتوار کا دن ضمیر کا عالمی دن ہے۔ آئیں جانیں بچانے کے لیے مشترکہ انسانیت پر توجہ دیں۔ ضرورت مند افراد کی مدد کریں اور سب کے لیے ایک بہتر مستقبل تعمیر کریں۔
نیو یارک کے گورنر کا کہنا ہے چینی حکومت ان کی ریاست کے لیے عطیہ کیے گئے ایک ہزار وینٹی لیٹرز کی شپمنٹ میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بحران کی صورت میں امریکی حکومت کے طبی اشیا کے ذخیرے میں قلت پیدا ہوجائے گی۔
پرتگال میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ سرکاری ڈیٹا میں بتایا گیا کہ 5 لاکھ افراد اس وبا کی وجہ سے عارضی طور پر بے روزگار ہوسکتے ہیں۔ برازیل میں کیسز کی تعداد 10ہزار سے تجاوز کرنے پر کانگریس کے ایوان ذیلی میں کورونا وائرس سے متعلق اخراجات کو حکومتی بجٹ سے علیحدہ کرنے اور معیشت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ’جنگی بجٹ‘ منظور کرلیا گیا۔
آسٹریلیا کے صحت حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں سست روی سے پراُمید ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ سماجی دوری کی پابندی مہینوں تک جاری رہے گی۔