محشر کا ٹریلر

وہ مالک یوم الدین ہے ۔ انصاف اور یومِ جزا کا مالک ۔ وہ افراد اور قوموں کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ اُن کو خود پر افشا ہونے اور اپنی اصل فطرت کی طرف لوٹنے کا موقع ملے ۔ وہ اگر چاہے تو اُمتوں کو صفحہ ٗءستی سے مٹا دے اور ان کی جگہ نئے لوگ لے آئے ۔ سورہ فاطرکی سولہویں نشانی میں اس امر کی گواہی رقم ہے ۔

اور پھر گزری ہوئی اُمتوں کی مثالیں دے کر سمجھایا گیا :

( کیا اُن لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے ہو گزرے ہیں ۔ نوح ، عاد ، ثمود کی قوم اور ابراہیم کی قوم اور  باشندگان ِمدین اور اُن اُس بستیوں کے مکین جو اُلٹ دی گئیں ۔ اُن کے پاس اُن کے رسول نشانیاں لے کر آئے تھے ۔ پس اللہ تو ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظُلم کرتا لیکن وہ اپنے اوپر خود ہی ظُلم کرتے تھے ، سورہ ء توبہ ۷۰وین آیت)

چنانچہ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے جُدا کر کے اُن کو اُن کے اپنے اپنے خاکی پنجروں میں قید کردیا گیا ہے ۔ عبادت گاہوں پر تالے لگ گئے ہیں ، شاید اس لیے کہ اس طرح  لوگ واپس لوٹ کر اپنی طرف آ سکیں ۔ اپنے اپنے نفس کی طرف واپسی خُدا کی طرف واپسی ہے ۔ اسی لیے ادارہ  رسالتؐ سے جاری ہونے والے ایک سرکلر میں کہا گیا ہے ( من عرفَ نفسہ فقد عرفَ ربہ) کہ جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا ۔ لوگوں کو کورونا کے ذریعے ایک پیغام پھیجا گیا ہے جس کے تہ در تہ کئی مفاہیم ہیں ۔ یہ انصاف کی گھڑی کا صور ہے ، یہ ایک باطنی آواز ہے،  یہ کایا کلپ اور  انقلابِ نفس کا اشارہ ہے جس میں نجات کا نسخہ درج ہے جس میں لکھا ہے کہ اپنے پچھلے اعمال کا جائزہ لے کر اُن کا احتساب کرو ۔ یہ انکشافات اور تجدید کا استعارہ ہے جو کہہ رہا ہے کہ پرانی اور فرسودہ اقدار کو تج دیا جائے اور جو کچھ ظہور پذیر ہو رہا ہے اُس کا خیر مقدم کیا جائے ۔

اس صورتِ حال میں کسی ایک یا چند لوگوں  کو ملزم گردانا نہیں جا سکتا کیونکہ یہ اجتماعی گناہ ہے اور من حیث القوم سب مجرم ہیں جس پر خُدا کا فیصلہ آیا ہے ۔ خُدا کے فیصلوں کی انسانی تعبیریں اور تفسیریں دو طرح کی ہوتی ہیں ۔ ایک تفسیر یہ ہوتی ہے جس میں مفسر دوسروں پر ان فیصلوں کا اطلاق بے رحمی سے کرتا ہے اور اُن کو دوزخ کا ایندھن قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تمہارے اعمال کی جزا ہے اور دوسری تفسیر یہ ہے جس میں انسانی جمعییت کی مذمت نہیں کی جاتی بلکہ معاملے کی درست تفقہیم کے ذریعے اصل حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اور جب ہم انصاف کا گراف بناتے ہیں تو اس میں معاملے کی نوعیت کو جانچ کر اصل حقیقت تک پہنچنا ہی مقصود ہے ۔

اس وقت عدل کا دربار لگا ہے ، پوری دنیا کورونا کے ذریعے میدانِ حشر میں جمع ہے اور سزا و جزا کا وا قع ہونا دیکھ رہی ہے ۔ یہ محشر کا ٹریلر ہے۔ پیغام یہ دیا جا رہا ہے کہ اپنے پُرانے ، فرسودہ اور بھونڈے رویوں کو بدل دو خواہ وہ اپنے اپنے نفس سے متعلق ہیں ، اپنے ماں باپ اور عزیز و اقراب سے متعلق ہیں ، یتیموں ، مسکینوں اور رہگیروں سے متعلق ہیں جن کو حقوق العباد کہا جاتا ہے اور جنہیں حقوق اللہ پر ترجیح حاصل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ  اب آپ کو باہمی انسانی تعلقات کو ایک نئے تناظر میں دیکھنا ہے ۔ ممکن ہے کہ آپ یہ کہ کر اپنی ذمہ داری تج دیں کہ اللہ دیاں اللہ جانے ، اور یہی مقدر کا لکھا ہے ۔ جی ہاں درست مگر کیا آپ اپنے ذمہ داری کا بوجھ اُٹھانے سے تو انکار تو نہیں کر رہے  اور وہ کچھ اس طرح کہ :

عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ

جب لوگ ایک دوسرے کے عمل کی مذمت کرنے لگتے ہیں تو احساس جرم پرورش پاتا اور ذہنی اذیت کو ہوا دیتا ہے ۔ لوگ عادتوں کے غلام ہیں اور جب اُنہیں کوئی عادت پڑ جائے تو ہوش و خرد پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور عادتوں کی خود کار مشین چلنے لگتی ہے ۔ تب لوگ اجتماعی شیزوفرینیا میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو منافقت کا طبی نام ہے ۔ ہم جس اجتماعی شیزوفرینیا میں مبتلا ہیں اس نے ہمیں دو شخصیتوں میں بانٹ رکھا ہے ۔ ایک ہمارا مذہبی وجود ہے جس کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں کہ ہم مذہب کی زبان بولتے ہیں ، مذہبی شعائر کی ادائیگی کرتے ہیں ، مدینے کی ریاست کے خواب دیکھتے ہیں جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم  کرپشن ، جہالت ، لالچ ، نفرت   ، لاقانونیت ، نا انصافی اور حقوق العباد کی ادائیگی سے انحراف کی دنیا میں رہتے ہیں جو ہمارا روز مرہ ہے ۔

کورونا یہ پیغام لایا ہے کہ اپنے کندھوں پر پڑا بوجھ اتاردو اور ماضی میں  خُودتم نے یا کسی دوسرےنے جو غلطیاں کی ہیں ، اںہیں معاف کر دیا جائے اور ایک نئے عہد محبت کا آغاز کیا جائے جس کے لیے ہمیں بطور انسان تخلیق کیا گیا تھا ۔ تخلیق کی کہانی کہتی ہے کہ  آدم اور حوا سے کہا گیا کہ تم اس جگہ رہو اور جو چاہو کھاؤ پیو مگر اُس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالموں میں شمار ہوگے ۔ وہ درخت کون ساتھا؟ بعض صوفیا کے مطابق  وہ درخت نفرت کا تھا اور اُس کے قریب جانے سے روکنا پہلا قانون تھا جو انسانوں کو دیا گیا تھا ۔چنانچہ محبت انسانیت کا کا آئین ہے جس سے گریز گناہ ہے  اور کرونا کی پابندیاں بتا رہی ہیں کہ لوگو ! اللہ کی طرف لوٹ آؤ ورنہ تم اپنی اپنی ذات کی گھاٹی میں محصور رہو گے ۔ فاعتبرو یا اولی الابصار