گیس سپلائی چین میں سالانہ 2 ارب ڈالر کے نقصان کا انکشاف

  • سوموار 06 / اپریل / 2020
  • 6130

وزیر اعظم کے انسپیکشن کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ پالیسی سازی، بدانتظامی اور نااہلی کی وجہ سے قدرتی گیس کی سپلائی چین میں سالانہ تقریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کو پیش کی جانے والی اپنی رپورٹ میں پی ایم آئی سی نے متعدد ٹرانسفر پوائنٹس پر گیس لیکیج، چوری اور غلط پیمائش کی نشاندہی کی جو پالیسی بنانے اور ناقص ریگولیٹری عمل پر سوالیہ نشان ہے۔ کمیشن نے حکومت کو تجویز دی کہ گیس سپلائی کے درآمدی ٹرمنلز سے گیس فیلڈ یا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) انجیکشن کے آغاز سے آخری صارف تک ان اکاؤنٹڈ فار گیس (یو ایف جی) کا ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا جائے۔

گیس پائپ لائن نیٹ ورک کے آغاز، گیس فیلڈ یا ایل این جی ٹرمینلز سے قبل ہی بہت زیادہ گیس کا نقصان ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سوئی گیس کمپنیوں میں یو ایف جی نقصانات 13 فیصد رہے ہیں جو گیس کی غلط یا پیمائش نہ ہونے یا گیس سپلائی اور پروڈکشن کمپنیوں کی جانب سے گیس کے سسٹم میں ان پٹ اور آؤٹ پٹ کو درست اور مکمل طور پر نہ بتانے کی وجہ سے تھے۔

پی ایم آئی سی کا کہنا تھا کہ خام گیس کی پیمائش زیادہ تر گیس فیلڈز پر نہیں ہورہی۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس کی وجہ سے اپ اسٹریم ریگولیٹر ڈائریکٹریٹ جنرل برائے پیٹرولیم مراعات (ڈی جی پی سی)، گیس کی مقدار، لیکیجز، ضائع ہونا، پروسیسنگ پلانٹز میں داخلی تضادات اور پائپ لائنوں میں جمع ہونے سے غافل رہے۔ رپورٹ کے مطابق ایل این جی کی درآمدات میں ری گیسفیکیشن کا بھی یہی حال ہے جہاں آر ایل این جی آپریشنز کے 4 سال گزرنے کے باوجود ری گیسفیکیشن ٹرمینلز سے گیس کا ضیاع یا استعمال ایک راز ہی ہے۔

یہ نقصانات 5.32 بی سی ایف کے اندرونی طور پر استعمال شدہ گیس (جی آئی سی) سے زیادہ ہے اور اس کی قیمت ایک ارب 70 کروڑ روپے ہے۔ مالی سال 17-2016 میں 36 ارب روپے کی 110 بی سی ایف پائپ لائن کوالٹی گیس (جو دونوں گیس کمپنیوں کی جانب سے خریدی گئی مجموعی گیس کا تقریبا 12 فیصد بنتی ہے) پروسیسڈ گیس کی ترسیلی پوائنٹس سے صارفین تک پہنچائے جانے کے دوران غائب ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’درآمد شدہ آر ایل این جی کی مساوی مقدار 11 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ کے حساب سے، اس خسارے کی قیمت تقریباً ایک ارب 20 کروڑ ڈالر تھی‘۔ پی ایم آئی سی نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایل این جی کی درآمد کے مقابلے میں جب ایس ایس جی سی ایل پائپ لائن میں فراہم کی جانے والی آر ایل این جی مقدار دیکھی گئی تو وہ نمایاں طور پر (7.25 فیصد تک کم) تھی۔

کمیشن نے الزام لگایا کہ بظاہر ڈائریکٹر جنرل گیس کے ہر اقدام سے گیس کمپنیوں بشمول آر ایل این جی کے معاملے میں حصص رکھنے والوں کے منافع کی حفاظت ہوتی ہے۔  رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت اور عالمی بینک نے گیس کی چوری اور نقصانات پر کنٹرول کے حوالے سے گیس کمپنیوں کی مدد کرنے کے لیے 19 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وزارت توانائی اور گیس کمپنیوں نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بد قسمتی سے وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن میں یو ایف جی کے مسئلے کی تکنیک کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے جبکہ سینئر افسران گیس کمپنیوں کے بورڈز اور یو ایف جی کمیٹیوں میں رہتے ہیں اور ضرورت سے زیادہ بڑے معاوضے حاصل کرتے ہیں۔

پی ایم آئی سی نے وزیر اعظم کو سفارش کی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کو ہدایت دیں کہ وہ  قانون سے مطابقت نہ رکھنے والی اوگرا کو دی جانے والی پالیسی گائیڈ لائنز سے فوری طور پر جان چھڑائیں اور چوری، لیکیج کنٹرول پروگرام کی بحالی کے لیے عالمی بینک کے ساتھ مشغول ہوں۔  تمام پیمائش اور ریگولیٹری بے ضابطگیوں کو ختم کریں۔