امریکی بحریہ کے برطرف کپتان میں کورونا وائرس کی تشخیص
- سوموار 06 / اپریل / 2020
- 4700
امریکہ کے محکمہ دفاع کو بحری بیڑے روز ویلٹ پر موجود اہلکاروں کورونا وائرس سے لاحق خطرات کے بارے میں خبردار کرنے پر برطرف کیے جانے والے کپتان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوگئی ہے۔
کپتان بریٹ کروزیئر نے محکمہ دفاع کو لکھے گئے خط میں تشویش کا اظہار کیا تھا کہ کورونا وائرس سے بیڑے پر موجود اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔ اس لیے فوری طور پر مدد کی جائے۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں کپتان بریٹ کروزیئر کی کورونا وائرس کی رپورٹ مثبت آنے کی رپورٹ چھاپی گئی ہے۔ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کپتان کی برطرفی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہےکہ امریکی بحریہ کے سیکریٹری تھامس موڈلی کے لیے روز ویلٹ کے کپتان بریٹ کو برطرف کرنا مشکل فیصلہ تھا۔ جو کہ امریکی علاقے گوام میں موجود ہے۔
مارک ایسپر سے سوال پوچھا گیا کہ کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے تھے کہ کپتان بریٹ کو لکھے گئے خط کی پاداش میں انہیں برطرف کیا جائے۔ جس کے جواب میں ایسپر کا کہنا تھا کہ یہ سیکریٹری تھامس کا فیصلہ تھا اور میں نے انہیں کہا تھا کہ میں اس فیصلے کی تائید کروں گا۔
خیال رہے کہ بحری بیڑے کے کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل ایک خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا تھا کہ بحرالکاہل کے امریکی علاقے گوام میں ان کا بیڑا موجود ہے۔ جس پر کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس مہلک وائرس سے چار ہزار اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ خط کے مطابق کپتان بریڈ کروزیئر نے کہا تھا کہ ہم حالتِ جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں سیلرز اپنی جانیں دیں۔
تھامس موڈلی کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال میں کپتان بریٹ نے انتہائی ناقص فیصلہ کیا۔ جس کی وجہ سے بحری بیڑے میں سوار اہلکاروں کے خاندان فکر مند ہوگئے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا ہفتے کے روز پریس کانفرنس کپتان بریٹ کی برطرفی کی حمایت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کپتان کو اپنے خط میں ایسے نہیں لکھنا چاہیے تھا۔
ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار نے اتوار کے روز کپتان کی برطرفی کی مذمت کی اور امریکی چینل اے بی سی سے گفتگو میں کہا کہ یہ اقدام جرم سے قریب تر ہے۔ بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ کپتان بریٹ کے لکھے گئے خط کی تعریف کی جانی چاہیے تھی۔ نا کہ انہیں برطرف کردیا جاتا۔