کورونا وائرس کے علاج کے لئے دوا کی دریافت، متعدد ممالک میں آزمائشی استعمال

  • جمعہ 10 / اپریل / 2020
  • 7210

روس نے انفلوائنزا کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوا فاوی پیراویر  کو کووڈ 19 کے علاج کے لیے آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رواں ہفتے اس دوا کی پہلی کھیپ روس پہنچ رہی ہے جس کے بعد اس کی آزمائش شروع کی جائے گی۔

چین نے اس دوا کو کورونا وائرس کے علاج کے لئے  محفوظ اور مؤثر قرار دیا تھا۔ یہ دوا کو چین کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے کچھ ممالک اور جاپان میں بھی آزمائی جارہی ہے۔ جاپان تو اسے متعدد ممالک کو مفت دینے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔ اس دوا کو فیوجی فلم ٹواما کیمیکل کمپنی نے تیار کیا تھا جسے انفلوائنزا سمیت متعدد آر این اے وائرسز کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا۔

چین میں اس دوا کی آزمائش فروری میں شروع ہوئی تھی اور 15 مارچ کو اس کے کلینیکل ٹرائل کی منظوری دے دی گئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک مریضوں پر اس کے اثرات بہت زیادہ حوصلہ افزا رہے ہیں۔  فروری میں شینزن میں ہونے والی تحقیق کے دوران کووڈ 19 کے 320 مریضوں کو اس دوا کا استعمال کرایا گیا اور محققین نے دریافت کیا کہ اس کے نتیجے میں اوسطاً 4 دن میں وائرس کلیئر ہوگیا جبکہ دیگر ادویات کے استعمال سے یہ او سط 11 دن رہی۔

اس دوا کو استعمال کرنے والے 91 فیصد سے زائد مریضوں کے پھیپھڑوں کی حالت میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی جو دوسرے گروپ میں 63 فیصد رہی۔ محققین کا کہنا تھا کہ ان اعدادوشمار سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دوا وائرس کی صفائی تیزی سے کرتی ہے۔ اس کے استعمال سے بہت کم مضر اثرات اب تک دریافت ہوئے ہیں۔

جاپان میں سائنسدانوں کی جانب سے اس پر کلینیکل ٹرائلز تیسرے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔  جاپانی وزیراعظم نے حال ہی میں اس دوا کی پیداوار میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے اس دوا کو کورونا وائرس کے علاج کی حیثیت دینے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ جاپان میں اس دوا پر ٹرائلز کے حتمی نتائج جون تک سامنے آسکتے ہیں۔ جاپانی وزیر خارجہ توسمیٹسو موٹیگی نے اعلان کیا ہے کہ جاپان کی جانب سے 20 ممالک کو یہ دوا مفت فراہم کی جائے گی۔

امریکا نے بھی بھی اس دوا میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن پر اس دوا کے استعمال کی ایمرجنسی منظوری کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ اس دوا کو 2014 میں عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے ڈاکٹرز ود آئوٹ بارڈرز نے افریقہ میں ایبولا کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا تھا۔

چین نے اس دوا کو برآمد کرنا بھی شروع کردیا ہے۔ ترکی کے وزیرصحت نے کہا تھا کہ چین سے  دوا کی کھیپ منگوائی جارہی ہے جس کو 40 مختلف شہروں میں کووڈ 19 کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ انڈونیشیا نے اس کے 5 ہزار ڈوز درآمد کیے اور اب مزید 20 لاکھ منگوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ فی الحال کووڈ 19 کا علاج موجود نہیں بلکہ اس کی علامات کا علاج ان کی نوعیت دیکھتے ہوئے مختلف ادویات سے کیا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ 97 فیصد مریض صحت یاب ہوجاتے ہیں۔

مختلف ممالک میں ویکسین کی تیاری پر بھی کام ہورہا ہے۔ امریکا میں ویکسین کی انسانوں پر آزمائش شروع ہوچکی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ کورونا کے خلاف ویکسین ایک سال تک دستیاب ہوسکے گی۔