کورونا وائرس کے خلاف حکومتی کارکردگی پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس
- جمعہ 10 / اپریل / 2020
- 4040
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات پر ازخود نوٹس لیا ہے۔ موجودہ چیف جسٹس کا یہ پہلا ازخود نوٹس ہے۔ چیف جسٹس سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ 13 اپریل کو ازخود نوٹس کی سماعت کرے گا۔
سپریم کورٹ نے اس ضمن میں اٹارنی جنرل آف پاکستان، سیکریٹری صحت، سیکریٹری داخلہ، چاروں صوبائی حکومتوں کو بھی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ملک میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ناکافی سہولیات پر ازخود نوٹس لیا۔ دوران سماعت کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیےاٹھائے گئے اقدامات اور ہسپتالوں میں سہولیات کا جائزہ لیا جائے گا۔
دو روز قبل چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں حکومتی ٹیم نے کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات سے آگاہ کیا تھا۔ اجلاس میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس قاضی محمد امین اور اٹارنی جنر خالد جاوید خان بھی شریک تھے۔
چیف جسٹس نے حکومتی نمائندوں کی جانب سے کورونا وائرس پر دی گئی بریفنگ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومتی ٹیم کو اس صورت حال میں کامیابی کے لیے سخت محنت کرنی چاہیے۔ قبل ازیں 6 اپریل کو قیدیوں کی رہائی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے تھے کہ کوئی بندہ کام نہیں کررہا، سب فنڈز کی بات کررہے ہیں۔ صوبائی حکومتیں 'پیسے بانٹ دو اور راشن بانٹ دو' کی باتیں کررہی ہیں اور وفاق کے پاس کچھ ہے ہی نہیں تو وہ کچھ کر ہی نہیں رہا۔
سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معاملہ صرف قیدیوں کی رہائی کا نہیں بلکہ دیکھنا ہے کہ حکومت کورونا سے کس طرح نمٹ رہی ہے۔ صرف میٹنگ پر میٹنگ ہورہی ہے، زمین پر کچھ بھی کام نہیں ہورہا ہے۔