اردو کا ایک گمنام محقق: ڈاکٹر شاہد اقبال
- تحریر سرور غزالی
- جمعہ 10 / اپریل / 2020
- 9780
اردو ادب میں بالخصوص اور دیگر زبانوں کے ادب میں بالعموم تحقیق کے کام کو مشکل ترین مانا جاتا ہے۔ اردو ادب میں تحقیقی کام اس وجہ سے حددرجہ مشکل ہوجاتا ہے کہ اسے سرکاری اور ادارہ جاتی سرپرستی حاصل نہیں۔
اردو عوامی سطح پر جس قدر مقبولیت حاصل ہے، سرکاری سطح پر اس میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ مشکل حالات تحقیق کو مشکل بنا دیتی ہے۔ خط و کتابت کے ذرائع، رسائل و کتب کی دستیابی، تبادلہ خیالات اور باہم مشاوارات کانفرنسیں اور سیمنار ایسے اوزار ہیں جن کی مدد سے تحقیق کے عمل کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ مگر کتب کی دستیابی سب سے اہم جز ہے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ اردو دنیا کے مابین حائل ذہنی سیمائیں تحیقی کام کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے باوجود اردو زبان کو تحقیق کا ایک ایسا مرد مجاہد میسر ہے جو ان تمام مشکلات کو خندہ پیشانی سے جھیلتے ہوئے خاموشی سے تحقیق کے کام میں مصروف ہے۔ وہ اردو دنیا کے ہنگاموں، کانفرنسوں کے شور شرابے سے دور اپنے کام میں لگا ہؤا ہے۔
یہ محقق قلب اردو یعنی صوبہ بہار کے شہر گیا میں اپنے کام سے کام رکھنے کے اصول پر عمل پیرا ہے۔ اور تحقیق و جستجو میں مشغول ہے۔ اس مرد مجاہد کا نام ڈاکٹر سید شاہد اقبال ہے۔ ڈاکٹر شاہد اقبال کے تحقیقی کام کو سمجھنے یا اس کی کی افادیت کو جاننے کے لیے ان کے تحقیقی طریقہ کار کو جاننا ضروری ہے۔ ڈاکٹر شاہد اقبال کی تحقیق کی بنیاد صرف ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ نہیں ہے بلکہ اس کی اساس پر بنی ایک ایسی مکمل عمارت ہے جو منزل بہ منزل سالہاسال کی مشقت اور جستجو پر کھڑی ہوئی ہے۔ جس میں مطالعہ کا جنون، حصول علم کا شوق اور تحقیق کی تجسس سبھی کچھ شامل ہے۔
ڈاکٹر شاہد اقبال کی تحقیق کی بنیاد ان کی خدا بخش لائیبریری سے وابستگی کے دوران ہی پڑی۔ ان کے جاننے کی جستجو کو اس سے زیادہ کہاں یا کسی اور جگہ تقویت مل سکتی تھی۔ انہیں علم جغرافیہ سے بہت شغف ہے۔ ساری دنیا کا ایک نقشہ ان کے دماغ میں بنا ہوا ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی خطے کے شمال جنوب اور اس خطے کی اہمیت، اس کی اہم عمارت و تعمیرات اور بود وباش کی بابت جاننا چاہیں تو شاہد اقبال سے پوچھ لیں، اس کا درست جواب ان کے پاس موجود ہوگا۔ اس کا فائدہ ان کو اپنی تحقیق میں بہت ہے۔ ان کی ایک تحقیقی کتاب ہے "وفیات مشاہیر بہار" اس کتاب کو تریب دینے اور قلم بند کرنے میں انہوں نے کس عرق ریزی سے معلومات اکٹھی کی ہو گی، ں اس کا اندازہ اس کو پڑھ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ "سنین ولادت، وفات کی خبر اہم معرکہ ہے، ظاہر ہے یہ کسی ایک جگہ سے نہیں مل سکتا اس کے لیے ہزاروں کتابوں، سینکڑوں لائیبریریوں کا چھاننا پڑا ہوگا" (رموز تحقیق، ڈاکٹر شاہد اقبال ) اس میں نہ صرف انہوں ڈھونڈ ڈھونڈ کر مشاہیر کا ذکر کیا ہے بلکہ وہ جہاں مدفن ہیں اس کا بھی ذکر کیا ہے اور جس میں ان کے علم جغرافیہ کے شغف کا پتہ چل سکتا ہے۔
اس کتاب کے صفحہ نمبر 27 پر ایک اندراج دیکھئے کہ عابد دانا پوری مدفن میر پور نمبر 10 قبرستان، ڈھاکہ، بنگلہ دیش اور داد دیجیئے شاہد اقبال کی معلومات کی۔ یا صفحہ 19 کے اس اندراج کو ہی لے لیجیئے عبدالصمد، نامور فٹ بالر، مدفن کالی باڑی قبرستان پاربتی پور، ضلع دیناج پور، شمالی بنگلہ دیش۔ وہ وفیات کے ذکر میں لحد پر لکھے شعر تک کا حوالہ دیتے ہیں۔ شاہد اقبال کا حافظہ بلا کا ہے جو تحقیقی کام کا جز لاینفک ہے۔ اپنی کتاب تذکرہ مہدانواں، عظیم آباد کا ایک علمی و ادبی مرکز، میں انہوں نے جو علمی اور ادبی کارنامہ رقم کیا اس کی تعریف میں پروفیسر طلحہ رضوی برقی لکھتے ہیں:
شاہد نے خاک وادئ تحقیق چھان کر
مہدانواں کا لکھا ہے بہت خوب تذکرہ
شاہد اقبال نے تحقیق کے میدان میں ایک اور معرکتہ لآرا کتاب رموز تحقیق، اساتذہ سخن کا ذکر، مشاہیر اردو زبان اور ہریانہ کے چند گمنام شعرا اور عظیم آباد کے مضافاتی شعرا، گیا کے مضافاتی شعرا کے تذکرے شامل ہیں۔
ڈاکٹر شاہد اقبال گو کہ اپنے ہی شہر میں بیٹھے یکسوئی سے تحقیقی کام میں جڑے ہوئے ہیں مگر ان کے روابط ساری دنیا سے ہیں۔ وہ ماضی کو کریدتےضرور ہیں مگر انہیں حال کا بھی خوب علم ہے ۔اور وہ اردو دنیا کے چیدہ چیدہ لکھاریوں اور نقادوں سے رابطے میں ہیں۔ اصل میں شاہد اقبال اپنی نو عمری سے ہی رابطے کے دلدادہ رہے ہیں۔ پہلے پہلے وہ ریڈیو کی عالمی اردو نشریات سے دنیا بھر میں خط و کتابت کیا کرتے تھے۔ انہوں ستر اور اسی کی دہائی میں ریڈیو جاپان، ڈوئچے ویلے جرمنی اور بی بی سی لندن اور دیگر کئی ایک عالمی نشتریاتی کو تواتر کے ساتھ خطوط لکھے اور ان سے اردو نشریات پر تبادلہ خیال کیا اور مفید مشورے دیے۔ ان ملکوں کے حالات سے آگاہی حاصل کی۔
اس کے بعد وہ دور آیا جس میں انہوں نے اردو ادب کے روشن ستارے، دنیا میں پھیلے ادبا اور شعرا سے خطوط کے ذریعہ روابط استوار کیے۔ ان کی کتابوں کا مختصر تجزیہ پیش کیا۔ خدابخش لائیبریری کی ملازمت کے دوران ٹوکیو یونیورسٹی کے پروفیسر اوساکا سے بالمشافہ گفتگو میں ان سے جاپان میں اردو ادب کا حال جاننے کے لیے سوالات کیے۔ جو حاضرین کے لیے ان کی جاپان جیسے دور دراز ممالک کی بابت آشنائی کی حیرت انگیز خبر کا موجب بنی۔ ڈاکٹر سید شاہد اقبال کی تحقیقی تصانیف کی فہرست کچھ یوں ہے۔ تذکرہ مہدانوں، وفیات مشاہیر بہار، رموز تحقیق، انوار تحقیق اور متاع حیات۔