برا وقت بھی اچھا ہوتا ہے
- تحریر آبیناز جان علی
- جمعہ 10 / اپریل / 2020
- 11270
مٹ جائیں ایک آن میں کثرت نمائیاں
ہم آئنے کے سامنے جب آکے ہو کریں
19 مارچ 2020 کوجب موریشس کی سرکار نے اعلان کیا کہ تین افرادکووڈ 19 کا شکار ہوگئے ہیں تو خواجہ میر درد ؔ کا مذکورہ بالا شعر عین مناسب معلوم ہونے لگا۔
ان تینوں افراد نے بیرونی ممالک کا سفر کیا تھا اور ان کے ساتھ کرونا وائرس بھی موریشس کی سرحد کو پھلانگتا ہوا عوام میں پھیل گیا۔ اگلے دن سے قومی لاک ڈاؤن جاری کیا گیا۔ لوگ دکانوں میں اشیائے خورد و نوش خریدنے کی غرض سے اور دوا خانوں میں طبی ماسک، دستانے اور ہینڈ سینیٹائزر خریدنے کے لئے دوڑنے لگے۔ تمام اسکول اور دفاتر بند کئے گئے۔ صرف چند مخصوص شعبے چند ملازمین کے سہارے چل رہے ہیں۔ ذرائع آمد و رفت میں نمایاں کمی آگئی ہے۔ باقی کام انٹرنیٹ کے ذریعے انجام پذیر ہو رہے ہیں۔ 7 اپریل تک 268 لوگ اس وبا کی زد میں آگئے ہیں۔ سات لوگ داغِ مفارقت دے گئے اور امید کی کرن اس بات سے آرہی ہے کہ 8 لوگ صحت مند بھی ہو گئے ہیں۔
لاک ڈاؤن کے بعد لوگوں میں ایک غصّہ اور بے بسی کا ملا جلا احساس تھا۔ ان کی آزادی، ان کا معمول اور ان کے احساسِ تحفظ پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس اثنا میں کبھی سرکار کو، کبھی دوسرے ملک کو اور کبھی اس جان لیوا وبا کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا۔ کرونا وائرس سے منسلک متعدد معلومات سب کی نظروں سے گزری ہیں۔ چنانچہ وبا سے زیادہ خوف انسان کا دشمن معلوم ہو رہا ہے۔ گھر میں سارا وقت بیٹھے رہنا آسان نہیں ہے۔ ہم جن پریشانیوں کو فراموش کرتے ہوئے خود کو کام میں مصروف رکھتے تھے، اب اس زندگی پر بھی ہمارا اختیار نہیں رہا۔ موجودہ صورتِ حال کی بابت اداسی اور تنک مزاجی کے ساتھ ساتھ پرانے دبے ہوئے جذبات بھی سامنے آرہے ہیں۔ انسان خوف سے بھاگتا تھا۔ اب خوف کا سامنا کرنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ مجموعی طور پر یہ حالات ہر لحاظ سے تکلیف دہ ہیں۔ پھر بھی ذہنی الجھن سے بچنے کے لئے لازمی ہے کہ ہم اچھائی پر دھیان دیں۔ وقت اور صحت خدا کی عطا کردہ دو عظیم نعمتیں ہیں۔ انسان اکثر انہیں نظر انداز کرتا آیاہے۔
ہمیں گھر پر آرام فرمانے کا سنہرا موقع مل رہا ہے۔ انسان ہر وقت کماتا ہے اور اپنے مکان کو انواع و اقسام کی چیزوں سے آراستہ کرتا رہتا ہے۔ لیکن اپنی مصروفیات کے باعث اسے ان چیزوں پر نظر نہیں جاتی تھیں۔ اب وقت نے ان سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیا۔ یہ رشتوں کو بہتر سمجھنے اور کدورتوں کو سامنے لاکر ان کو دور کرنے کا وقت ہے۔ ہم اپنوں کو وقت دے رہے ہیں۔ کچھ اپنی کہہ رہے ہیں اور کچھ ان کی سن رہے ہیں۔ یہ وقت ہمیں دکھا رہا ہے کہ ہمارے اپنے کون ہیں۔ یہ آفت اپنوں کے ساتھ مسکرانے کا وقت دے رہی ہے۔ روزمرہ کی پریشانیوں کو اہمیت دیتے دیتے ہم حقیقی چیزوں کی طرف توجہ مرکوز کرنا بھول گئے تھے۔ اس مصروفیت نے انسان کو ہمیشہ تناؤ میں مبتلا رکھا۔ اب وہ خوف محبت میں تبدیل ہو رہا ہے۔
ہم خوش نصیب ہیں کہ موریشس میں طبی سہولتیں مفت میں دستیاب ہیں۔ اس نعمت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ اس وائرس کی کرم فرمائی سے ہم ہر سانس کی اہمیت کو پہچان رہے ہیں۔ یہ وائرس رنگ و نسل کی تفریق نہیں کرتا اور اس سے بچنے کے لئے کسی کاعہدہ یا رتبہ بھی کام نہیں آرہا ہے۔ اس وبا نے انگلینڈ جیسے طاقتور ملک کے شہزادے اور وزیرِ اعظم کو بھی نہیں بخشا۔ اس وبا نے انسان کو ایک ہی میدان میں لا کھڑا کیا۔ اس نے ہمیں سکھایا کہ ہم سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ساتھ ساتھ اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ دنیا کس قدر سمٹ کر رہ گئی ہے۔ ورنہ ایک ملک میں نشونما پانے والا وائرس اتنی جلدی پوری دنیا میں کیسے پھیل گیا۔ اس نے تو بحرِ ہند کے چھوٹے جزیرے کو بھی نہیں چھوڑا۔
دوسری طرف دنیا میں ہر سو آلودگی پھیلی ہوئی تھی۔ ہم نے قدرت کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔ اب ان موٹروں کے شور سے زیادہ چڑیوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی ہیں۔ یہ وبا ہمیں صفائی اور اپنا خیال رکھنے پر مجبور کر رہی ہے۔قدرت کی طرح انسان کو اپنی زندگی ازسر نو شروع کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔سب کو دنیا کے کاروبار سے آزادی مل گئی۔جو طلبہ و طالبات آرزو کرتے تھے کہ وہ اسکول نہ جائیں اور دن بھر کھیلتے رہیں، ان کی دلی مراد بر آئی۔ جو امتحانات سے نجات کے آرزومند تھے انہیں راحت نصیب ہوئی۔ جو بیویاں چاہتی تھیں کہ ان کے شوہر انہیں پورا وقت دیں، ان کی آرزو پوری ہوئی۔ جو لوگ ہر روز ٹریفک سے پریشان ہوتے ہوئے سوچتے تھے کہ کاش وہ گھر پر کام کرسکیں ان کی دعا قبول ہوئی۔ جو مائیں اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں سے اوجھل ہونے پر تکلیف محسوس کرتی تھیں ان کے دل کو ٹھنڈک ملی۔ کام کے دباؤ سے جو ملازمین چھٹی لینا چاہتے تھے ان کو کھل کر سانس لینے کا موقع ملا۔ اب بازار جانے کی مصروفیت نہیں۔ بچوں کے امتحان کی فکر نہیں۔ صبح سویرے شوہر کاکھانا تیار کرنے کی فکر نہیں۔ اب دیر سے سو کر اٹھنے پر کسی کو ڈانٹ نہیں پڑتی۔ کوئی رشتہ دارگھر پر نہیں آسکتا۔
آن لائن کلاسرز کی بدولت لوگ نیا معمول استوار کررہے ہیں۔ اس طرح کئی لوگوں کے ہنر بھی سامنے آرہے ہیں اور عوام میں انہیں سراہا جارہا ہے۔کئی ڈاکٹر، ماہرِ نفسیات اور ماہرِخوراک عوام کواہم ہدایات فراہم کررہے ہیں۔ کئی رضاکار محتاجوں اور حاجتمندوں کی حمایت کر رہے ہیں۔موسیقار اور دیگر فنکار اپنے ہنر سے عوام کو گھر میں رہنے کی تاکید کے ساتھ ساتھ اپنے رقص، نغموں اور لطائف سے حالات کی سنجیدگی کو توڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے وزارتِ صحت اپنے ماہروں کی مدد سے گھر پر لوگوں کو ورزش کرارہی ہے۔ باورچی روٹی بناتے ہوئے لائیو ویڈیوز بنا رہے ہیں۔ اساتذہ نوٹس تقسیم کر رہے ہیں۔ ہر جگہ علم اور معلومات کی فراوانی ہے۔
یہ وائرس خدا کا ایک سپاہی ہی تو ہے جو ہمیں یاد دلانے آیا ہے کہ دنیا کی زندگی فانی ہے۔ یہ ہمیں چھوٹی چیزوں کی اہمیت سکھا رہا ہے۔ پیسوں کی اہمیت بھی کم لگنے لگی ہے۔ انسان جو ہر وقت دنیا کے کاروبار میں بھول جاتا تھا کہ ایک دن اسے اپنے خالقِ حقیقی سے ملنا ہے اب اپنے رب سے مضبوط رشتہ بنانے کی پوری کوشش میں لگا ہوا ہے۔ وہ دعا و استغفار میں اپنا وقت صرف کررہا ہے۔ہماری ہر سانس ایک نایاب تحفہ ہے جس کے لئے ہر وقت شکر ادا کرنا ضروری ہے۔ اس وقت نے بنیادی ضرورتوں کی قدر کرنا سکھائی ہے۔ ہم محدود کھانے پر اکتفا کر رہے ہیں۔ سر پر ایک چھت کا ہونا کتنی بڑی نعمت ہے۔ گھر کی محفوظ دنیا میں انسان کی شخصیت زیادہ مضبوط بن رہی ہے۔ مشکل وقت نے انسان کو مسکرانا سکھایا۔ وہ اپنی اندرونی طاقت اور کمزوریوں سے آگاہ ہو رہا ہے۔ پرانے زمانے میں لوگ غاروں کی تاریکی میں رہا کرتے تھے۔ موجودہ دور میں تمام تر آسانیوں کے باوجود وقت باعثِ اذیت بن گیاہے۔ انسان جو عمر بھر سفر کو خود فراموشی کے طور پر استعمال کرتا تھا، اب گھر واپس آنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں۔