امریکا میں 24 گھنٹوں میں 2ہزار اموات، اجتماعی قبروں میں تدفین

  • ہفتہ 11 / اپریل / 2020
  • 3720

امریکا میں کورونا وائرس کے باعث گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ اتنی بڑی تعداد میں اموات کے باعث لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا جارہا ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کی کورونا کیسز پر نظر رکھنے والی خصوصی ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں 24 گھنٹوں کےدوران 2 ہزار 108 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکا میں اموات کی تعداد اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد سے بڑھ جانے کا امکان ہے جبکہ وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 5 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔

وائرس سے بری طرح متاثر ہونے والے امریکا کے سب سے زیادہ گنجان شہر نیویارک میں تابوتوں کی اجتماعی قبروں میں تدفین کی تصاویر اور فوٹیج سامنے آئی ہیں۔ صرف اس ایک شہر میں ایک دن میں 700 زیادہ افراد لقمہ اجل بنے۔ جبکہ 18 ہزار 569 مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ ریاست نیویارک میں کیسز کی تعداد دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز ہارٹ آئی لینڈ کی ڈرون فوٹیج منظر عام پر آئی تھیں جس میں حفاظتی لباس پہلے اہلکار تابوتوں کو ایک اجتماعی قبر میں دفنا رہے تھے۔ جزیرے کو 150 سال سے حکام ان افراد کی تدفین کے لیے استعمال کررہے تھےجن کا کوئی وارث نہ ہو یا جن کے اہلِ خانہ میں تدفین کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہ ہو۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل اس جزیرے پر عموماً ایک ہفتے کے دوران 25 لاشوں کی تدفین ہوتی تھی۔ تاہم اب ہفتے میں ایک دن کے بجائے پانچوں دن اور دن کے 24 گھنٹے تدفین کا عمل جاری ہے۔ حکام نے بتایا کہ شہر کی مرکزی جیل کے قیدی لاشیں دفنانے کا کام کرتے تھے لیکن کام کا دباؤ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب یہ کام ٹھیکیداروں سے لیا جارہا ہے۔

دوسری جانب امریکی انفیکشن ڈیزیز کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا میں بہت جلد کورونا کیسز اور اموات کی سطح کم ہونا شروع ہوجائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ’اہم پیشرفت‘ کے باوجود روک تھام کی کوششیں مثلاً سماجی فاصلہ ختم نہ کیا جائے۔

نیویارک شہر میں کورونا وائرس کے کیسز کی بڑی تعداد کی وجہ سے ایمرجنسی سروسز کے آپریٹرز ہر 15 سیکنڈ بعد ایک نئی کال وصول کرتے ہیں۔ بے تحاشہ کالز موصول ہونے کی وجہ سے حکام نے عوام کو ٹیکسٹ میسیجز اور ٹوئٹر الرٹ بھیجنا شروع کردیے ہیں جس میں لوگوں پر زور دیا جارہا ہے کہ صرف اس صورت میں کال کریں جب زندگی کو خطرہ لاحق ہو۔