شوگر انڈسٹری میں مفادات کا ٹکراؤ اصل مسئلہ ہے
- تحریر
- ہفتہ 11 / اپریل / 2020
- 5810
چینی کی قلت اور قیمتوں میں پراسرار اضافے کو جانچنے پر مامور کمیشن کی رپورٹ نے وزیراعظم کے لئے نیا پنڈوڑا باکس کھول دیا ہے۔ اس رپورٹ کی بنا پر سیاسی نقار خانے میں وہ شور برپا ہوا ہے کہ خدا کی پناہ۔ حامی داد طلب ہیں کہ وزیر اعظم نے سیاسی مصلحتوں کی پرواہ کئے بغیر رپورٹ جوں کی توں شائع کر کے اپنا وعدہ نباہ دیا۔
دو ہفتوں بعد فارنزک رپورٹ آنے کی دیر ہے۔ وزیر اعظم نے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار پر پہنچا کر ہی دم لینا ہے۔ دوسری طرف ان کے مخالفین مصر ہیں کہ اب کسی اور رپورٹ کا انتظار کیسا؟ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو چکا، یہ رہے ملزمان اور وہ رہی ٹکٹکی۔ تالی اور بیلنس شیٹ کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی اور بیلنس شیٹ کا صرف ایک حصہ جوڑنے سے میزانیہ برابر نہیں بیٹھتا۔ مگر اس بنیادی اصول کی آج کل خاص ضرورت بھی نہیں۔ سیاست اور سیاسی الزامات کی اشتہا اس قدر عام اور شدید ہے کہ میڈیا اور عوام دونوں ہی بنیادی معاملات جاننے کا تکلف خال ہی مناسب جانتے ہیں۔ میڈیا کی حد تک جائیں تو دو جمع دو چار ہو چکے۔ رپورٹ میں فلاں فلاں کا نام آ چکا، اب مزید وقت کا زیاں کیسا؟ چینی پر سبسڈی اور ایکسپورٹ کی یکطرفہ ویلیو اور مقدار کا تو تذکرہ ہے مگر پلڑے میں دوسری جانب فصل اور پیداوار کے اعدادوشمار سے صرفِ نظر سے معاملے کی ادھوری تصویر پر ہی ہنگامہ برپا ہے اور خوب برپا ہے۔
مگر کیا معاملات اس قدر سادہ اور سہل ہیں؟ شاید نہیں۔ پولیٹیکل اکونومی میں اس موضوع پر خاصا لٹریچیر موجود ہے کہ مارکیٹس کس طرح کام کرتی ہیں۔کیا کیا قوتیں اس میں شریکِ کار رہتی ہیں، ان پر کس طرح دیدہ و نادیدہ قوتیں اثر انداز ہوتی ہیں، کبھی کبھی کیوں اور کیسے پراسرار انداز میں قوانین اور قواعد کے بند دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں یا اچانک بند ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہ کون سا اسم ہے جو کھل جا سم سم کا جوہر رکھتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
پاکستان میں شوگر انڈسٹری اپنے خمیر اور ساخت میں ایک ایسی ہی دلچسپ مثال ہے۔ شوگر انڈسٹری کی ایک پولیٹیکل اکونومی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ اسّی کی دہائی کے اواخر میں دھڑا دھڑ شوگر ملز لگنی شروع ہوئیں۔ اس وقت تک چالیس کے قریب شوگر ملز تھیں مگر پھر دیکھتے دیکھتے سال 2000 تک ان کی تعداد دو گنا ہو چکی تھی۔ مالکان کی فہرست پر ایک نظر ڈالنے سے ہی اندازہ ہو جاتا کہ پنجاب، سندھ اور کے پی کے کے سیاسی خانوادوں کی اختصاصی ڈائریکٹری یعنی Who is who ہے۔ اسی اور نوے کی دہائی میں سرکاری بنکوں سے قرضہ حاصل کرنا عام آدمی کے بس کی بات نہ تھی مگر شوگر انڈسٹری کے اکثر سرمایہ کاروں کے پاس کھل جا سم سم کا جادوئی اسم تھا جس نے ان کے لئے یہ دروازے کھٹ سے کھلوا ئے۔
گنے کی کاشت، برداشت اور شوگر انڈسٹری کی حلقے کی سیاست اور معیشت کے ساتھ ایک قدرتی تال میل جول ہے جسے natural fit کہا جا سکتا ہے۔ اس اعتبار سے گنے کی فصل اور شوگر انڈسٹری کی ایک مخصوص پولیٹیکل اکونومی ہے۔ اسّی کے وسط سے یہ اکونومی سیاست دانوں کے لئے پرکشش اور ایک اعتبار سے تخصیصی کلب یعنی Exclusive Club کی حیثیت اختیار کر گئی۔ گنا گندم کے علاوہ دوسری نمایاں فصل ہے جس کی سرکاری قیمت مقرر کی جاتی ہے۔ یہ نرا اتفاق نہیں کہ ملک میں پانی کی ہر سال بڑھتی ہوئی قلت کے باوجود گنے جیسی فصل کی حوصلہ افزائی ہوتی چلی گئی۔ پنجاب اور سندھ کے وہ اضلاع جو نوّے کی دہائی کے آغاز میں کپاس پیدا کرنے والے بہترین علاقے شمار ہوتے تھے وہ اب گنے کی پیداوار کے لئے مشہور ہیں۔
شوگر اندسٹری میں سیاسی خانوادوں کے غلبے سے وہ بنیادی مسائل پیدا ہوئے جس سے چینی اور گنے کی مارکیٹ میں طلب و رسد کی قوتیں آزادانہ کام کرنے کے قابل نہ رہیں۔ شوگر ملز لگانے کی اجازت حکومت کی منظوری سے مشروط ہے۔ جس علاقے میں مل لگتی ہے وہاں زوننگ کے قواعد ہیں کہ کاشتکار پابند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ کرشنگ سیزن شروع کرنے میں ملز کا اتحاد کاشت کاروں کو ان کا محتاج بنائے رکھتا ہے۔ اگر ہم غلطی پر نہیں تو کاشت کاروں کو اپنے گنے سے ذاتی طور گڑ یا شکر بنانے کی اجازت نہیں ہے۔
ملز سیزن میں گنے کی قیمت فوری اور پوری ادا نہیں کرتیں بلکہ قیمت کی ادائیگی اکثر اوقات ایک اور زیادتی کی صورت میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔ جب جب فصل زیادہ ہوتی ہے ملز کے علاقے میں نجی خریدار اپنے خریداری مراکز قائم کرکے ضرورت مند کاشتکاروں سے گنا کیش پر لیتے ہیں اور من مرضی کی کٹوتیاں بھی کرتے ہیں، یہی گنا اس علاقے کی ملز کو فراہم کر دیا جاتا ہے۔ قیمتوں کا فرق کاشتکار کے جیب سے نکل کر مڈل مین اور ملز کے ملی بھگت کی نذر ہو جاتا ہے۔ معمول کا سیزن ہو تو بھی کاشتکاروں کی مکمل ادائیگیاں اگلے سیزن تک لٹکی رہتی ہیں۔
شکایت کس سے کریں؟ منصفی کس سے چاہیں؟ جس سے شکایت کرنی اور منصفی کی توقع ہے وہی تو اس پولیٹیکل اکونومی کے سرپرست اور خوشہ چیں ہیں۔ مزید ستم یہ کہ ان تیس پینتیس سالوں میں گنے کی بہتر ورائٹی پر کوئی ریسرچ کامیاب ہوئی اور نہ ہی شوگر بنانے کی ٹیکنالوجی میں کوئی معرکتہ الآراپیش رفت۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پیداوار دنیا کے مقابلے میں کم اور پیداواری لاگت بالعموم زیادہ۔ جب بھی گنے کی فصل اچھی ہوئی تو فاضل اسٹاک کی ایکسپورٹ کے لئے الّا ماشااللہ حکومتی امداد کی ضرورت رہی جسے سبسڈی کہا جاتا ہے۔ صوبوں اور وفاق میں وہی خانوادے کسی نہ کسی صورت ہر حکومت میں موجود ہوتے ہیں جو گنے کی امدادی قیمت مقرر کرنے کے فیصلوں میں بھی شامل ہوتے ہیں۔ شوگر کے اسٹاکس، نئی فصل کی متوقع پیداوار اور سیزن کے آخر پر متوقع اسٹاکس کے مطابق ایکسپورٹ کرنے، عالمی منڈی میں قیمتوں کے فرق اور ایکسپورٹ کی ٹائمنگ جیسے اہم فیصلے کرنے میں ان کی شمولیت اور کلیدی کردار سے پالیسی اور فیصلوں کی میزان آج تک کس جانب جھکتی رہی؟ یہ جاننا کوئی مشکل تو نہیں۔ گزشتہ دو سیزن بھی یہ میزان اسی جانب جھکی۔ مارکیٹ کے سٹہ باز ہمیشہ ایسے مواقع پر سرگرم ہوتے ہیں اور اس بار بھی ہوئے۔
المیہ یہ ہے کہ چینی کی پولیٹیکل اکونومی ہمارے سیاسی نظام اور سیاسی خوشہ چینی کا حصہ بن چکی ہے۔ دو چار بڑے ناموں کو ادھر ادھر کرنے سے سیاسی پیالی میں اٹھایا طوفان تو شاید تھم جائے مگر سیاست اور شوگر انڈسٹری کا یہ گٹھ جوڑ یعنی اس کی پولیٹیکل اکونومی ختم نہیں ہوگی۔ اس کے لئے دو ررس اصلاحات کی ضروت ہے تاکہ مارکیٹ قوتیں آزادانہ کام کر سکیں۔ انتظامی اقدامات اور پالیسیوں کی صورت ایسی مداخلت کا دروازہ بند کیا جا سکے جس کے نتیجے میں ہر بارساری ریوڑیاں اپنوں ہی کی جھولی میں جا گرتی ہیں۔