پاکستانی مسافروں کے ساتھ پی آئی اے کی فضائی قذاقی
- تحریر ارشد بٹ ایڈووکیٹ
- ہفتہ 11 / اپریل / 2020
- 6890
کورونا وائرس کا حملہ کیا ہوا پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائنز، پی آئی اے کو پاکستان میں آئے پاکستان نژاد مغربی شہریوں کا خون چوسنے کا بہانہ مل گیا۔
دنیا بھر میں حکومتیں، سرکاری اور غیر سرکاری ادارے عوام کو اس خطرناک وبا سے نجات دلانے کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔ صحت عامہ اور زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لئے سرکاری اور غیر سرکاری وسائل استعمال کرنے سے دریغ نہیں کیا جارہا۔ مگر پی آئی اے کے بے رحم اور انسان دشمن حکام نے اس نازک موقعہ کو غنیمت جانتے ہوئے سپیشل فلائٹس کے نام پر عوام کی جیبیں کاٹنا شروع کر دیں۔
دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کے بعد انٹر نیشنل ہوائی سروسز بھی معطل کر دی گئیں۔ جس کی وجہ سےدنیا بھر میں لاکھوں انسان سفری سہولتوں سے محروم ہو گئے۔ مغربی ممالک میں آباد پاکستان نژاد مغربی شہری چھٹیاں گزارنے بڑے فخر سے پاکستان آتے ہیں۔ مغربی ممالک سے پاکستان آنے والوں کی واضع اکثریت پنشن پر گزارہ کرنے والے عمر رسیدہ افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ پنشن پر انحصار اور گزر بسر کرنے والے بزرگوں کی اقتصادی حالت قابل رشک نہیں کہی جا سکتی۔ مگر وہ سرد موسم کا دورانیہ آبائی ملک پاکستان میں بسر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ گرم موسم سے قبل یہ لوگ اپنے مستقل رہاشی ممالک میں واپس چلے جاتے ہیں۔ یاد رہے عمر رسیدہ خواتین و حضرات کو بیماری کے صورت میں استعمال کے لئے چند ماہ سے زیادہ ادویات لانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ہر پانچ یا چھ ماہ کے بعد انہیں ادویات اور طبی کنٹرول کے لئے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔
کورونا وائرس کے خطرناک پھیلاؤ کے بعد مغربی ممالک نے بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں کو اپنے اپنے ملکوں واپس لوٹنے کا مشورہ دیا۔ کینیڈا، برطانیہ، ناروے، ڈنمارک اور کئی دوسرے مغربی ممالک نے پاکستانی حکام سے بات چیت کے بعد پاکستان میں مقیم اپنے شہریوں کے پاکستان سے اخراج کا منصوبہ مرتب کیا۔ جس کے تحت پی آئی اے کو برطانیہ، کینیڈا، ناروے اور ڈنمارک کے لئے سپیشل فلائٹس کی اجازت دی گئی۔ مگر اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پی آئی اے نے سب اخلاقی اور انسانی قدروں کو روند ڈالا۔
پی آئی اے نے ان فلائٹس پر اپنی جاری کردہ ریٹرن ٹکٹ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ پرانی ٹکٹوں کی قانونی واپسی کی رقم نئی ٹکٹ میں شامل کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ مسافروں کو یکطرفہ نئی اور مہنگی ٹکٹ خریدنے پر مجبور کیا گیا۔ ظلم کی حد یہ کہ نئی یکطرفہ ٹکٹ کی قیمت عمومی ریٹرن ٹکٹ سے بھی ڈیڑھ گنا زیادہ وصول کی گئی۔ پی آئی اے نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے یکطرفہ ٹکٹ کم از کم ڈیڑھ لاکھ یا اس سے زیادہ پاکستانی روپوں میں بیچی۔ دلیل یہ دی کہ جہاز کی واپسی بغیر مسافروں کے ہوگی اور دوسرے یہ کہ مسافروں کی صحت و سیکورٹی کے مدنظر تین سیٹوں پر دو مسافر بیٹھائے جائیں گے اور بیچ والی نششت خالی چھوڑی جائے گی۔ مگر پی آئی اے حکام نے دروغ گوئی اور دھوکہ دہی سے کام لیا۔ لندن، مانچسٹر، ٹورنٹو، کوپن ہیگن اور اوسلو جانے والے جہاز فل لوڈڈ چلائے گئے۔ جہاز مسافروں سے بھرے ہوئے تھے اور ایک نششت بھی خالی نہ چھوڑی گئی تھی۔ خوشی کی بات کہ جہاز پر پی آئی اے کا عملہ مکمل حفاظتی کٹ میں تھا۔ مگر مہنگے ترین سفری اخراجات برداشت کرنے والے مسافروں کی صحت سیکورٹی کو پامال کرنے میں کوئی کثر نہ چھوڑی گئی۔
پی آئی اے کی ناجائز منافع خوری سے سکینڈے نیوین حکام بھی آگاہ تھے۔ بلآخر ناروے کی حکومت نے 11 اپریل کو ایس اے ایس ائیر لائنز کی ایک فلائٹ اسلام آباد سے اوسلو چلانے کا فیصلہ کیا۔ جس کا یکطرفہ کرایہ پی آئی اے کے یکطرفہ کرائے سے تقریبا چالیس ہزار روپے کم رکھا گیا۔
کیا اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کا دم بھرنے والے وزیراعظم عمران خان اوورسیز پاکستانیون کے ساتھ پی آئی اے کے بے رحمانہ اور غیر منصفانہ سلوک کا نوٹس لیں گے۔ اپنی ایجنسیوں سے رپورٹ لے لیں آپ کو حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ مگر وزیر اعظم سے یہ امید کرنا عبث ہوگا۔ گندم اور چینی کرپشن سکینڈل تو ان کے دائیں بائیں بیٹھے حضرات بڑی باریکی سے کرگئے اور انہیں خبر تک نہ ہوئی۔ ان کے نزدیک پی آئی اے کا مہنگی بلیک ٹکٹ سکینڈل تو معمولی بات ہوگی۔ عمران حکومت سے پی آئی اے حکام کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی توقع فضول ہوگی۔
یورپ میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی پی آئی اے کی لوٹ مار اور غیر انسانی رویے پر سخت غم و غصے کا اظہار کر رہی ہے۔ کمیونٹی کے نوجوان اپنے بزرگوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی پر سراپا احتجاج ہیں اور اپنے بزرگوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ آئیندہ سے پی آئی اے کا بائیکاٹ کریں۔ پاکستان سفر کے لئے دیگر میسر ائیر لائینز کا استعمال کریں۔ یہ سننے میں آ رہا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کے با اثر افراد آئیندہ پی آئی اے کے بائیکاٹ کی سنجیدہ مہم چلانے کا سوچ رہے ہیں۔ بائیکاٹ کی مہم کامیاب ہو نہ ہو مگر یہ واضع امکان ہے کہ پی آئی اے یورپ سے پاکستانی مسافروں کی بڑی تعداد سے محروم ہو جائے گی۔