تیل پیدا کرنے والے ممالک پیداوار میں کمی پر رضامند

  • اتوار 12 / اپریل / 2020
  • 4270

دنیا بھر کے تیل پیدا کرنے والے ممالک پیدا وار میں کمی پر راضی ہوگئے ہیں۔ یہ اتفاق رائے ایک ویڈیو کانفرنس کے بعد سامنے آیا۔   

روس سمیت تیل پیدا کرنے والے سارے  ملک تیل کی پیداوار میں کمی پر رضامند ہوگئے ہیں۔ خیال رہے کہ امریکہ اس کمی کے لئے کوشاں تھا اور بعض تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے دباؤ کے سبب ہی سعودی عرب اس کے لئے تیار ہوا ہے۔ جمعرات اور جمعے کو یہ دو اجلاس ہوئے۔ جمعے کا اجلاس  نو گھنٹے طویل تھا جس میں جی 20 گروپ کے رکن ممالک بھی شریک ہوئے۔

تیل کی صنعت کے ممتاز تجزیہ کار مسعود ابدالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر چند کہ ابھی اوپیک نے اس سلسلے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ لیکن ایران کے تیل کے وزیر کا کہنا ہے کہ اوپیک رکن ممالک ایک فارمولے پر تیار نظر آتے ہیں۔ اس کے مطابق مئی کے آغاز میں عالمی سطح پر تیل کی پیداوار میں ایک کروڑ بیرل یومیہ کی کمی کی جائے گی۔ پھر جولائی کے آخر میں  پیداوار کا حجم 80 لاکھ بیرل کردیا جائے گا اور اگلے برس کے شروع میں موجودہ پیدا وار سے ساٹھ لاکھ بیرل کم تیل نکالا جائے گا۔

اس میں وہ ملک بھی شامل ہیں جو اوپیک کے رکن نہیں ہیں جیسے امریکہ، روس اور میکسیکو وغیرہ۔ مسعود ابدالی کا کہنا تھا کہ اگر تیل کی پیداوار میں کمی کا کوئی حتمی فارمولا طے بھی ہو گیا تب بھی تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر اضافے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ اوّل تو اس وقت کئی کروڑ بیرل اضافی تیل مارکیٹ میں موجود ہے۔ اس کی فروخت میں وقت لگے گا۔ دوسرے کورونا وائرس کی وبا کے سبب دنیا بھر کی معیشتیں سست روی کا شکار ہیں اور تیل کی مِانگ پہلے کے مقابلے میں آدھی رہ گئی ہے۔  کورونا وائرس کی وبا کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ سال کے آخر تک بھی دنیا میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی نہیں آ سکے گی۔ اس لئے اس کٹوتی سے تیل پیدا کرنے والے ملکوں کو کوئی خاص فائدہ  نہیں ہوگا۔

اس کا بھی کوئی فارمولا نہیں ہے کہ پیداوار میں کٹوتیوں کی تصدیق کس طرح ہو سکے گی۔ مثال کے طور پر سعودی عرب اس سطح سے کٹوتی کرے گا جس پر وہ اس وقت تیل پیدا کر رہا ہے، کیونکہ یہ اس کی حال ہی میں بڑھائی گئی سطح ہے۔ وہ پہلے 80 لاکھ بیرل تیل نکالتا تھا اور اب ایک کروڑ بیس لاکھ نکال رہا ہے یا امریکہ میں نو ہزار تیل کی کمپناں ہیں اور امریکہ جس کٹوتی پر رضامند ہوا ہے، اس پر عمل درآمد اور تصدیق کس طرح کی جاسکے گی یا روس کی پیداوار کی تصدیق کون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان چیزوں کی تصدیق کے لئے ایک باقاعدہ نظام ہونا چاہئیے۔

تیل کی صنعت کے ایک اور تجزیہ کار فرحان محمود نے بھی ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اگر تیل کی پیداوار میں کمی ہو جاتی ہے اور منڈی کا اضافی تیل بھی ختم ہو جاتا ہے پھر بھی کھپت کم رہے گی، کیونکہ ابھی دنیا کی معاشی سرگرمیاں بحال ہونے میں بہت وقت لگے گا۔ اور اگر کھپت کم ہوگی تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا بھی تو معمولی سا ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ پینتیس ڈالر فی بیرل تک اس کی قیمت پہنچے گی اور ترقی پذیر ممالک بدستور اس سےفائدہ اٹھاتے رہیں گے۔