شیخ مجیب الرحٰمن کے قاتل کو پھانسی دے دی گئی
- اتوار 12 / اپریل / 2020
- 9450
بنگلہ دیش کے بانی رہنما شیخ مجیب الرحمٰن کے قتل کے الزام میں مبینہ قاتل عبدالمجید کو اتوار کی صبح پھانسی دے دی گئی۔
فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق ملزم فوج میں کپتان تھا اور اسے واقعے کے 25 سال بعد 7 اپریل کو گرفتارگیا تھا۔ حراست میں لیے جانے سے ایک ہفتے کے اندر اندر اسے پھانسی دے دی گئی۔ وزیراعظم شیخ حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمٰن، بنگلہ دیش کے قیام کے تقریباً 4 سال بعد 15 اگست 1975 کو ایک فوجی بغاوت کے نتیجے میں مارے گئے تھے۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو جدید بنگلہ دیش کا معمار کہا جاتا ہے۔ وہ 17 مارچ 1920 میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 1948 میں ایسٹ پاکستان مسلم اسٹوڈنٹس لیگ قائم کی تھی۔
وہ 26 مارچ 1971 سے 11 نومبر 1972 تک بنگلہ دیش کے صدر رہے۔ انہیں 1972 سے 1975 تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے کا بھی موقع ملا۔ وہ 25 جنوری 1975 سے 15 اگست 1975 تک دوسری بار ملک کے صدر منتخب ہوئے اور بالآخر دورہ صدارت کی دوسری مدت کے دوران ہی انہیں فوجی بغاوت کے تنیجے قتل کردیا گیا تھا۔
ملزم عبدالمجید کو قتل کے الزام میں ایک درجن سے زائد افسران کے ساتھ 1998 میں ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے 2009 میں اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے پانچ ملزمان کو پھانسی کی سزا کا حکم دیا تھا جن میں کئی افراد کو کچھ عرصہ پہلے پھانسی دی جاچکی ہے۔
عبدالمجید کو انسداد دہشت گردی پولیس نے 7 اپریل کی صبح ڈھاکہ میں رکشہ سے فرار کی کوشش کے دوران گرفتار کیا تھا۔ بنگلہ دیش کے وزیر قانون انیس الحق نے اے ایف پی کو بتایا کہ جیل حکام نے صدر کی جانب سے رحم کی اپیل مسترد ہونے پر عبدالمجید کو ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب 12 بج کر ایک منٹ پر ڈھاکہ کے مضافات میں واقع جیل میں پھانسی دی۔
عبدالمجید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 1996 میں بھارت فرار ہوگیا تھا اور پچھلے مہینے ہی بنگلہ دیش واپس آیا تھا۔ بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ اسد الزماں خان نے ایک ویڈیو پیغام میں عبدالمجید کی گرفتاری کو شیخ مجیب الرحمٰن کی صد سالہ زندگی کا بہتر تحفہ قرار دیا تھا۔
ہفتے کی شام عبدالمجید کے اہل خانہ نے ان سے آخری ملاقات کی۔ عبدالمجید کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ فوجی ملازمت سے برطرف کئے جانے کے بعد بھی عبدالمجید کئی سرکاری عہدوں پر کام کرتا رہا تھا۔ وزیر اعظم حسینہ 1975 میں اپنے والد پر حملے کے وقت اپنی بہن کے ہمراہ یورپ میں تھیں۔
پھانسی پر عمل درآمد کے بعد عبدالمجید کو اس کے آبائی علاقے نارائن گنج ،سونار گاؤں میں اتوار کو الصبح سپرد خاک کردیا گیا۔