جھوٹ کے ہیلی کاپٹر
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 12 / اپریل / 2020
- 18030
پُرانے زمانے کے لوگ بڑے سیدھے تھے ۔ چونکہ اںہیں کرپشن کے ہجے نہیں آتے تھے اور نہ ہی وہ لوگ بول چال میں اردو ا نگریزی کا مربہ ڈالنے کے ہُنر سے واقف تھے ، اس لیےوہ کہا کرتے تھے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ۔ جھوٹ چونکہ انسانی معاشرے کی بیماری تھی اس لیے وہ اسے پاؤں سے چلنے والا بچھو سمجھتے تھے جو لوگوں کی سی چال چلتا تھا ۔
وہ یہ بھی نہ دیکھ پائے کہ جھوٹ چلتا نہیں اُڑتا ہے ۔ کبھی کوے کے پر پہن کر اور کبھی چیل اور گدھ کی میکسی میں میک اپ کر کے ایک زبان سے دوسری زبان تک کیٹ واک تک کرتا ہے اور معاوضے میں واہ واہ اور تالیاں کماتا ہے ۔ انسان اور جھوٹ کے درمیان بسا اوقات فاصلہ بالکل بھی نہیں ہوتا اور دیکھنے والا اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اس نے آدمی دیکھا یا جھوٹ ۔ پھر پرانے لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ جھوٹے کو بات یاد نہیں رہتی مگر اب یاد رکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہی ۔ سب کچھ کیمرے میں آڈیو ویڈیو ہوجاتا ہے اور پلک جھپکتے ہی سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوجاتا ہے جسے بعد میں ہمارا ایکٹرانک میڈیا حوالے کے طور پر پیش کرتا رہتا ہے ۔ جھوٹ ہماری زندگی کا اٹوٹ انگ ہے ۔ اسی صورتِ حال کے پیشِ نظر عدم صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جھوٹ نہ بولنا موت کو دعوت دینا ہے ۔ فرماتے ہیں :
جھوٹ کہتا ہوں اور بے کھٹکے
کون سچ کہہ کے دار پر لٹکے
لوگ جانتے ہیں کہ سچ بہت خطرناک لسانی استعدارد اور طرزِ بیان ہے ۔ اس لیے جھوٹ کو ایک معاشرتی قدر کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے ۔ میرے بھائی جون ایلیا نے اس کیفیت کو یوں بیان کیا ہے :
ہے یہ بازار ، جھوٹ کا بازار
پھر یہی جنس کیوں نہ تولیں ہم
کر کے اک دوسرے سے عہدِ وفا
آؤ کچھ دیر جھوٹ بولیں ہم
جھوٹ ہمارے معاشرتی بازار کا سکہ رائج الوقت ہے اور ہم لوگ سب سے زیادہ جھوٹ اپنی ذات سے بولتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ہم رات کو خود سے وعدہ کر کے سوتے ہیں کہ صبح پانچ بجے اُٹھ کر فلاں فلاں کام کرنا ہے لیکن صبح کے وقت جب الارم گھڑی کانوں میں ککڑوں کوں بولتی ہے تو ہم اس کا گلا دبا کے دو گھنٹے تک اونگھتے رہتے ہیں ۔ یہ دو گھنٹے کا وہ جھوٹ ہے جو ہم خود سے بولتے ہیں ۔ اور ہمیں یاد ہی نہیں رہتا کہ ہمارے رب نے جھوٹے کو لعنتی قرار دیا ہے ۔ چنانچہ ہم اپنے خوابوں کو سچ سمجھتے ہیں اور اُس کی تعبیروں کو جھوٹ ، جیسے نظریہ پاکستان تو قائد اعظم کا ایک سچ تھا لیکن ہماری عسکری ، مذہببی اور سیاسی قیادت کی وضع کی ہوئی تعبیر جھوٹ ۔ ہم در اصل جھوٹ کے فرضی تاج محل تعمیر کرتے ہیں جیسے ہماری پی پی کی قیادت نے کیا ہے کہ پچھلے پچاس سال میں بار ہا بر سرِ اقتدار رہ کر وہ روٹی کپڑا اور مکان مہیا کرنے کے خواب کو حتمی تعبیر نہیں دے سکے جس کا مطلب ہے کہ لوگوں سے جھوٹ بولا گیا ہے۔ اور بولا جاتا رہے گا کیوں کہ جھوٹ کی غذا اب قوم کو پچ گئی ہے اور اگر اسے سچ کی غذا دی جائے تو اس کا معدہ خراب ہونے لگتا ہے ، بیوروکریسی کو ابکائیاں آنے لگتی ہیں اور سیاسی قیدات ڈائریا میں مبتلا ہو جاتی ہے ۔
اور ہم اب ایک نئے جھوٹ کے مگر مچھ کے پیٹ میں آیتِ کریمہ پڑھ رہے ہیں ۔ ایک کروڑ نوکریاں ، پچاس لاکھ مکانات ، ثاقب نثار ڈیم اور مدینے کی ریاست ۔ اللہ میری توبہ ۔ مدینے کی ریاست ۔ بھائی جان مدینے کی ریاست تو ابو بکر ؓ اور عمر ؓ کی ریاست ہے جسے وہ ہی بناسکتے ہیں ، یہ ایک اعلیٰ ترین اخلاق اور کردار کا نام ہے جو اُن کے بس کا روگ نہیں جو خاتم النبیین کا درست تلفظ بھی نہیں کر سکتے مگر کیا کیا جائے ہماری عوام کو جھوٹوں میں سے ہی ایک جھوٹ کو چننا پڑتا ہے کیونکہ ہمیں قیادت کے لیے ایسے ہی کذاب سیاسی نبی دیے گئے ہیں جو عوام کوغریب سے غریب تر اور اپنے اعلیٰ طبقات کو امیر سے امیر تر کرنے کا عملی فن جانتے ہیں ۔ اگر کوئی شخص خُود کو وزیرِ اعلیٰ کے بجائے خادمِ اعلیٰ کہے تو وہ یہ کہہ رہا ہتا ہے کہ میں پنجاب کے عام لوگوں کا وزیر نہیں ہوں بلکہ معاشرے کے اعلیٰ طبقات از قسم سرمایہ دار ، جاگیر دار ، اعلیٰ فوجی افسران ، اعلیٰ فتویٰ فروشوں اور اعلیٰ میڈیا مداریوں کا خادم ہوں کیونکہ میں خود اسی طبقے میں سے ہوں اور دوسرے کی ماں کے پھٹے کپڑوں کو مرمت کرنے کے بجائے اپنی ماں کے زیوروں میں اضافہ کروں اور جنت پاؤں ۔
چنانچہ پاکستانی جمہوریت وہ جھوٹ ہے جو عالمی سرمایہ داری کا ایک مجہول سا کاسہ لیس اور حاشیہ بردار ہے جس میں ملک کے مائی باپ قرضہ لے کر اپنے اللوں تللوں پر خرچ کرتے ہیں اور مقروض قوم کے لوگ غریب ہوتے چلے جاتے ہیں کیونکہ سیاسی دلال اپنی کمیشن پاکستان سے باہر رکھتے ہیں تاکہ سند رہے اور حکومت چھن جانے کے وقت کام آئے ۔ اب ہمارے سرمایہ داری نطام میں جو نئے نو دولتیہ طبقے شامل ہو کر سرمایہ داری کی آبرو بنے ہیں ان میں سے ایک سرمایہ دار مُلا قاضی اور مفتی ہے اور دوسرا سرمایہ دار میڈیا مہاجن ، اینکر ، تجزیہ کار اور لفافہ صحافی جن کے اقامے بھی ہیں اور آف شور کمپنیاں بھی۔ اور یہی ہمارا نیا پاکستان ہے اور جہاں تک عمران خان کے نئے پاکستان کا تعلق ہے وہ ایک بدخوابی ہے جو اب راتوں کو بچوں کو ڈرانے لگی ہے ۔ لوگوں کے ٹھنڈے چولہوں میں چڑیل بن کر گھومتی اور کاکروچ آبادی میں اضافہ کرتی چلی جاتی ہے اور کیوں نہ ہو جس معاشرے کی بنا ہی آئین شکنی ،جھوٹے وعدوں ، جعلی ادویات ، ملاوٹ والی اشیائے خوردنی اور قانون شکنی پر ہو وہاں جمہوریت یا اسلام پنپ ہی کیسے سکتے ہیں ۔ ہماری مختلف قیادتوں کے کرنے کے جو کام تھے وہ ہم نے نہیں کیے ۔ ہم نے کروڑ بھر مسجدیں تو بنائی ہیں لیکن ایک لاکھ صادق امین لوگ تیار نہیں کر سکے :
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنے پرانا پاپی ہے برسوں مین نمازی بن نہ سکا
یہ نمازی ہونا کیا ہے ؟
ان الصلوٰۃ تنہا عن الفحشاء والمنکر ۔ نماز انسان کو ہر برائی اور بے حیائی سے روک دیتی ہے اور اب قبلہ ایاز سے اور طاہر اشرفی سے پوچھنا یہ ہے کہ اس برانڈ کی نماز ان لاکھوں مسجدوں میں سے کس میں ادا ہوتی ہے جو برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے ؟ اور وہ جنسی درندے جن کی لاشیں مدرسوں ، مساجد کے حجروں سے لے کر اسلامی یونیورسٹی تک میں بد کاری کا تعفن پھیلاتی ہیں ، کہاں سے نکلتے ہیں ؟ یعنی اب کالج اور دینی مدارس ایک ہیں ۔ زندہ باد اے اتحادِ مدارس و کالج زندہ باد مگر اُس بوڑھے کشمیری کی بات سننے کی ضرورت نہیں جس نےکہا تھا :
گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لا الہ الاللہ
ہم نے عدلیہ بنائی ، بڑی بڑی تنخواہوں اور مراعات پر جج رکھے جو معاشرے کو انصاف نہیں دے سکے ۔ ہمارے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے جو نہ تو بنگلہ دیش کو وجود میں لانے سے روک سکی اور نہ ہی کشمیر کا تصفیہ کرا سکی ۔ ہماری پولیس کے پاس بندوقوں اور وردی کے علاوہ گالی گلوچ ، لاٹھی اور رشوت کی سہولتیں موجود ہیں مگر ہم لوگوں کو قانون کی پابندی نہیں سکھا سکے ۔
ان کورونا کے دنوں میں یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ ہم قانون نام کی کسی چڑیا سے واقف نہیں اور قرآن کی طرح قانون کی دفعات کو ناظرہ پڑھ لیتے ہیں مگر ان پر عمل کرنا نہیں جانتے اور یہ کیفیت اوپر سے لے کر نیچے تک ، شاہ سے گدا تک اور دانشور سے لے کر نتھو پھتو تک ایک جیسی ہے ۔ سب لاقانونیت کی کشتی کے سوار ہیں اور کردار میں یوم ِ سبت کے بوزنے ہیں ۔ چنانچہ ہم نقالی تو پیغمبروں کی کرتے ہیں مگر اپنے بوزنہ پن سے نکل نہیں پاتے ۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے ! مگر اللہ کا نافرمانوں سے کوئی وعدہ نہیں ہے ۔ ہم نے سنی سنائی باتوں پر مبنی ایک معاشرت بنائی ہے جس میں تحقیق کی گنجائش نہیں رکھی اور یہی رویہ ہمارے جھوٹے ہونے کا واضح ثبوت ہے ۔
یہ عمران خان ہو ، زرداری ہو ، چودھری ہوں یا شریفانِ اجاتی اُمرا ۔ کچھ فرق نہیں ان چاروں میں مگر یہی ہماری سیاسی میراث ہیں جنہیں فوجی اسٹبلشمنٹ نے ہمارے لیے تجویز کر رکھا ہے اور یہی ہمارے ملجا و ماویٰ رہیں گے ۔
زور سے مل کر نعرہ لگاؤ :
پاکستانی جمہوریت زندہ باد!