جنوبی ایشیائی ملکوں کی اقتصادی ترقی میں نمایاں کمی کا خدشہ

  • سوموار 13 / اپریل / 2020
  • 5350

ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے جنوب ایشیائی خطے میں اس سال معاشی شرح نمو چار عشروں کے بعد پہلی بار کمترین سطح پر رہے گی۔

عالمی ادارے کی ایشیائی ملکوں کی اقتصادی صورت حال پر رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ امکان یہ ہے کہ خطے میں شرح نمو گر کر ایک اعشاریہ آٹھ سے  دو اعشاریہ آٹھ فیصد تک رہے گی۔  کورونا وائرس کی وبا سے قبل تخمینہ تھا کہ شرح نمو چھ اعشاریہ تین فیصد رہے گی۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں غربت کم کرنے کی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔

توقع ہے کہ جنوبی ایشیا کے کچھ ممالک کی شرح نمو بہت کم رہے گی جب کہ ماہرین کے مطابق بعض ملکوں میں کساد بازاری بھی ہو سکتی ہے۔ عالمی بینک نے خطے کے ان تمام ملکوں سے کہا ہے کہ وہ بے روزگاروں کی مدد کریں اور کاروباری لوگوں کی  مدد کے لئے بھی  ممکنہ حد تک  اقدامات کریں۔ جنوبی ایشیا کے ملکوں میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد دنیا کے دوسرے خطوں کی نسبت کم ہے۔

ان ملکوں کی معیشتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز ماہر معاشیات اور شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ظفر بخاری نے کہا کہ ابھی تو یہ محض تخمینے ہیں۔ حتمی طور پر ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں کہ اصل صورت حال کیا بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو طے کہ اس خطے میں جہاں دنیا کی کوئی ایک چوتھائی آبادی رہتی ہے، آئیندہ کچھ عرصہ معاشی سرگرمیاں سست رہیں گی۔

انہوں کہا کہ جنوبی ایشیا کے بیشتر ممالک ایسے ہیں، جہاں زراعت اور سروسز سیکٹر پر معیشتوں کا زیادہ انحصار ہے۔ وہ اس وبا کے اختتام پر صنعتوں پر انحصار کرنے والے ملکوں کی نسبت زیادہ تیزی سے بحالی کی طرف جا سکتے ہیں۔