کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 15 ہزار ہوگئی
- سوموار 13 / اپریل / 2020
- 5110
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید سات افراد جاں بحق اور 336 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ پاکستان میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 95 اور کیسز کی تعداد 5478 ہو گئی ہے۔
دنیا میں وائرس سے مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ 15 تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ متاثرین کی تعاد 18 لاکھ 60 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ امریکہ میں کیسز کی تعداد پانچ لاکھ 60ہزار تک پہنچ چکی ہے جب کہ حکام نے 22ہزار اموات کی تصدیق کی ہے۔ اٹلی میں 19ہزار، اسپین میں 17ہزار، فرانس میں 14ہزار اور برطانیہ میں 10 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں خیبر پختونخوا کے محکمہ پبلک ہیلتھ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اکرام اللہ بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔ صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے ایک ٹوئٹ میں ڈاکٹر اکرام اللہ کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی۔ ڈاکٹر اکرام اللہ نے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل در آمد شروع کر دیا ہے۔ ڈاکٹر اکرام اللہ کے وبا سے متاثر ہونے کے بعد پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹوریٹ کو سیل کر دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ کے عملے کو بھی مختلف مقامات پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
اپریل کے دوران کورونا متاثرین کی تعداد دوگنا ہوگئی ہے۔ اموات میں بھی روزانہ اضافہ ہورہا ہے۔ پیر کو بھی ملک میں کورونا متاثرین کی تصدیق ہوئی اور سندھ، پنجاب، بلوچستان اور اسلام آباد میں مزید نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وبا کی وجہ سے بیرون ملک پھنسے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا آئندہ مرحلہ 14 اپریل کو شروع ہو گا۔ سرکار ی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ نے پیر کو کورونا وائرس سے متعلق پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کو بتایا کہ وطن واپسی کے منتظر پاکستانیوں کو 9 خصوصی پروازوں کے ذریعے وطن واپس لایا جائے گا۔
وزیر خارجہ نے بتایا اس وقت دنیا کے مختلف ملکوں میں 39 ہزار سے زائد پاکستانی وطن واپس آنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے متحدہ عرب اماارت میں بے روزگار ہونے والے کئی پاکستانی شہری بھی وطن واپسی کے خواہاں ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ تبلیغی جماعت سے منسلک دو ہزار سے زائد پاکستانی انڈونیشیا، کینیا، یوگنڈا اور سوڈان سے وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔
وزیر خارجہ کے پارلیمانی کمیتی کو بتایا کہ کہ اس وقت نیپال میں 14 اور مالدیپ میں پھنسے ہوئے 4 پاکستانی شہریوں کی واپسی کو بھی یقینا بنایا جائےگا۔ وزیر خارجہ کے مطابق بیرون ملک پھنسے ہوئے 1600 سے زائد پاکستانی شہریوں کو 12 خصوصی پروازوں کے ذریعے وطن واپس لایا گیا ہے۔
دوسری طرف اسپین میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عائد پابندیاں نرم کی جا رہی ہیں۔ پیداواری اور تعمیراتی شعبے کے کارکنوں کو کام پر واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اسپین میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ حکام نے کمپنیوں کو پابند کیا ہے کہ وہ ملازمین کو حفاظتی سامان فراہم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے ملازمین کام پر دو میٹر کا سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔ اسپین ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی۔
کورونا وائرس کے ایک لاکھ 70 ہزار کے قریب تصدیق شدہ کیسز اسپین میں سامنے آ چکے ہیں جب کہ حکام نے 17000 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے اثرات صرف صحت عامہ پر ہی نہیں بلکہ معیشت اور سماجی زندگی پر بھی پڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات جاری رکھنا ہوں گے جن سے اس وبا کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو مکمل تباہی سے روکنا بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس سے ملک میں روزگار بھی شدت سے متاثر ہوا ہے۔