کورونا وائرس ایک اونچی گیم ہے؟

دنیا میں کوئی جنگ چھڑ جائے، حادثہ ہو جائے، زلزلہ آ جائے یا سیلاب، دہشتگردی کا کوئی واقعہ ہوجائے یا کوئی وبا پھوٹ پڑے۔ ہماری ساری تحقیق صرف ایک جملے میں ختم ہوجاتی ہے۔ جو بڑی واضح، برجستہ اورجامع ہوتی ہے۔ انہوں نے خود ہی کروایا ہوگا۔

جن گتھیوں کو سلجھانے میں کئی مہینوں کی تحقیق چاہیے ہوتی ہے ہم وہ ایک منٹ میں سلجھا لیتے ہیں جو مسائل سی آئی اے، موساد، آئی ایس آئی اور دنیا بھر کی انٹیلی جینس ایجنسیوں کے لئے درد سر بنے ہوئے ہوں ان پر ہماری ایک ہی حتمی رائے ہوتی ہے۔ یہ سازش ہے جو دنیا کی نظر فلاں مسئلے سے ہٹانا کے لئے کی گئی ہے۔ پاکستان میں سماجی رویے پر تحقیق کرنے والی ایک تنظیم ایپسوس کی حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ میں سے دو شہری کورونا وائرس کوبھی سازش سمجھتے ہیں۔

کورونا وائرس کی خبرجنوری میں دنیا بھر کے میڈیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تو میرے ایک دوست نے نوم چومسکی کے انداز میں مجھے سمجھایا کہ یہ وائرس چین کی معیشت تباہ کرنے کی عالمی سازش ہے۔ حاجی صاحب نے البتہ ان سے اختلاف کیا ان کا کہنا تھا کورونا وائرس کا یہ سارا شوشا امریکہ نے چھوڑا ہے۔ وہ دنیا کی نظریں افغانستان میں ہونے والی اپنی شکست سے ہٹانا چاہتا ہے۔ فرمانے لگے جس طرح طالبان نے اپنی فتح کے جھنڈے گاڑے ہیں امریکہ شرمندگی سے بچنے کے لئے اس پر زیادہ شور مچا رہا ہے میں نے عرض کی تو کیا اب طالبان دنیا بھر کو لیڈ کریں گے حاجی صاحب نے گھورتے ہوئے مجھے دیکھا اور کہنے لگے۔ برخوردار یہ اونچی گیم ہے تمہیں سمجھ نہیں آئے گی۔ مجھے سر خم تسلیم کرنا پڑا کیونکہ میرا اسپورٹس کا علم واقعی محدود ہے۔

کچھ ہی دنوں بعد یہ وائرس ایران میں داخل ہوا اور اس کے بعد اٹلی میں تباہی پھیلانا شروع ہوا تو رحمداد نے ایک تحریر واٹس ایپ میں بھیجی، جو ہر سوشل میڈیا اکاﺅنٹ پر ثواب کی نیت سے شیئر کی جارہی تھی۔ تحریر کا عنوان تھا کہ امریکہ جیت گیا جس میں محقق کا نام تو نہیں درج تھا لیکن اس نے بڑی جانفشانی سے یہ ثابت کیا گیا تھا کہ امریکہ نے ایران سے بدلہ لیا ہے اوراٹلی اسپین میں اس لئے آیا ہے کہ امریکہ و برطانیہ یورپی یونین کو نشان عبرت بنانا چاہتے ہیں تاکہ اسے برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کا مزہ چکھایا جائے۔ یہ جان کر تسلی ہوئی کہ چلو یہ وائرس برطانیہ نہیں پہنچے گا۔ لیکن جب برطانیہ کے وزیر اعظم بھی اس کا شکار ہو گئے تو میں نے اس زیرو زیرو سیون سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا۔ وہ ایک انگلی اپنے کان میں ڈال کر اس کو ہلاتے ہوئے بولے: ’یہ اونچی گیم ہے تمہیں سمجھ نہیں آئے گی‘۔

کچھ دن گزرے ہوں گے کہ چاچے خیر دین نے میرے واٹس ایپ پر سابق پاکستانی ڈپلومیٹس کے کچھ ویڈیوپیغام بھیجے وہ ویڈیوزبھی فیس بک پر دھڑا دھڑ شیئر ہورہے تھے جن میں انہوں نے اپنی تحقیق سے یہ ثابت کیا تھا کہ یہ وائرس ایک بائیو لوجیکل ہتھیار تیار کیا گیا ہے بلکہ انہوں نے تیار کرنے کی جگہ بھی بتا دی کہ یہ برطانیہ کی لیبارٹریوں میں تیار کیا گیا اور اسے چین بھیجا گیا۔ یہ ویڈیو دیکھ کر دل کو خوشی ہوئی کہ ہمارے ڈپلومیٹ ما شا اللہ اتنے ذہین ہیں کہ انہیں سفارت کاری کے علاوہ وائرالوجی کا علم بھی ہے اور وہ بڑی محنت سے ایسی سازشوں کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ میں نے چاچے سے پوچھا کہ برطانیہ میں لوگ کیوں شکار ہو رہے ہیں حالانکہ برطانیہ میں تو تیار ہوا ہے انہوں نے سگریٹ کا لمبا سا کش لیا اور کہنے لگے۔ ’کاکے یہ اچی گیم ہے تمہیں نہیں سمجھ آئے گی‘۔

سوشل میڈیا پر ہمارے کچھ علما کی ویڈیوز کو بھی بڑی پذیرائی ملی جس میں انہوں نے ہدایت کی تھی کہ یاد رکھیں مسلمانوں کو یہ کورونا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ہم وضو کرتے ہیں۔ ایک شیخ صاحب کا کہنا تھا یہ وائرس اصل میں عالم یہود کی سازش ہے تاکہ مسلمانوں کو ان کے مذہبی فرائض سے دور کیا جائے۔ میں نے عرض کی کہ جناب مسیحیوں کا ویٹی کن اور یہودیوں کی دیوار گریہ بھی بند ہے۔ شیخ صاحب نے لا حول پڑھا، لمبی سانس لی اور کہنے لگے۔ برخوردار یہ بڑی اونچی گیم ہے۔ مجھے اپنی کم علمی اور کھیلوں سے عدم دلچسپی کا شدت سے احساس ہوا۔

ہمارے ایک دوست حکیم صاحب بھی ہیں ان سے البتہ کافی مفید مشورے ملے۔ کہنے لگے کچا پیاز کھایا جائے تو کورونا قریب نہیں آتا۔ ان کے بات میں کافی وزن محسوس ہوا کہ کچا پیاز یا لہسن کھایا ہوا ہو تو واقعی عام انسان بھی قریب نہیں آتا۔ حکیم صاحب کا کہنا تھا کہ کورونا گلے میں آکر تین چار دن آرام کرتا ہے اس لئے گرم پانی پیتے رہیں تو معدے میں جا کر تیزاب سے مر جاتا ہے۔ میں نے پوچھا حکیم صاحب ہمارے گلے میں کوئی بستر لگا ہوا ہے۔ ڈانٹتے ہوئے کہنے لگے نا معقول یہ گہری طبی باتیں ہیں، یہ بڑی اونچی گیم ہے۔

البتہ جب یہ وائرس امریکہ پہنچا اور لاکھوں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا تو یہ تمام محقق شرمندہ نہیں ہوئے۔ بلکہ انہوں نے مجھے کچھ اور ویڈیوز بھیج دیں جن میں ثابت کیا گیا تھا کہ امریکہ میں کوئی نہیں مر رہا۔ ہسپتالوں میں کوئی مریض نہیں ہے۔ یہ صرف جھوٹا ڈرامہ کیا جا رہا ہے۔ دنیا کو ڈرایا جا رہا ہے۔ میں نے ویڈیو دیکھی تو اسے ستر ستر ہزار دفعہ شیئر کیا جا چکا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ کسی سچے صحافی کو ہسپتالوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔

اب کی بار ان کی تحقیق میں زیر عتاب بل گیٹ ہیں۔ ان ریسرچرز کا کہنا ہے کہ اصل میں بل گیٹ دنیا کو اپنی مٹھی میں لینا چاہتا ہے۔ وہ کورونا کی ویکسین بنائے گا اور اربوں کمائے گا۔ کچھ ویڈیوز میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ ہمارے بازوﺅں میں ایک چپ نصب کردے گا اور ہمارے نقل و حرکت نوٹ کرے گا۔ میں نے دل میں سوچا کہ جس طرح کی ہماری حرکتیں ہیں وہ نوٹ کرنے والی تو بالکل بھی نہیں ہیں تو پھر بل گیٹ اتنا تردد کیوں کر رہا ہے۔ لیکن اب سوال نہیں کروں گا کہ دوبارہ یہ جملہ سننے کی ہمت نہیں ہے۔ ’یہ بڑی اونچی گیم ہے، تمہیں سمجھ نہیں آئے گی‘۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)