سماجی فاصلہ ایک عبادت

پاکستانی معاشرہ  ساخت کے اعتبار سے نیم ہندو معاشرہ ہے جوچھوت چھات کی بنیاد پر استوار ہے ۔ یہاں چودھری ، کمیں ، لوہار ، کمہار ، نائی اور مُصلی برابر کے رب کے بندے نہیں ہوتے ۔ بعض جگہ چودھری اور کمیں ایک ساتھ ایک ہی بنچ یا چارپائی پر نہیں بیٹھ سکتے ۔

یہ سماجی فاصلے کی ایک روایت ہے جو قدیم سے چلی آ رہی ہے ۔ یہی روایت مقامی اور اجنبی کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے اور عجمی اور عربی کے درمیاں خطِ امتیاز کھینچتی ہے ۔ کالے اور گورے کا امتیاز قائم کرتی ہے ۔ لیکن  اس کے برعکس روحانی اقلیم میں سماجی فاصلہ یا سوشل ڈسٹنسنگ مراقبے یا عبادت کی ایک صورت ہے جس میں ایک فرد خود اپنی ذات تک رسائی حاصل کرتا ہے کیونکہ  لوگ جب ملتے ہیں تو ایک دوسرے پر کئی طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں ۔ میری ماں کہا کرتی تھی کہ جس گھر میں موت کا نوحہ ہو رہا ہو وہاں چھوٹے بچوں کو نہ لے جایا جائے کیونکہ جب عورتیں روتی اور بین کرتی ہے تو ان کی آواز معصوم ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے ۔کیونکہ لفظ میں بڑی طاقت ہوتی ہے اور بعض اوقات نفرت کی بندوق سے چلائے گئے لفظ کی گولی دو طرفہ تعلقات کو اتنا متاثر کرتی ہے کہ وہ عمر بھر کا روگ بن جاتی ہے ۔ اس لیے مولانا روم نے نصیحت کی :

چوں بسے ابلیس آدم روئے ہست

پس بہر دستے نشاید داد دست

چونکہ بہت سے ابلیس انسانی چہرے کا ماسک  پہن کر  پھرتے ہیں ، اس لیے ہر شخص سے ہاتھ نہیں ملانا چاہیے ۔

قدیم اہلِ دانش نے انسانی جسم اور روح کی پاکیزگی کے لیے ایک فارمولا وضع کیا تھا کہ :

کم خور ، کم خواب و از ہر یک آلودہ مشو ۔۔۔

 یعنی کم کھا ، کم سو اور ہر ایرے غیرے نتھو خیرے سے نہ مل ۔ اس بات کو نہجہ البلاغہ میں ایک اور انداز میں کہی گئی کہ نیکوں کی صحبت اختیار کرنے والا لازماً نیک ہو جاتا ہے ۔ یہ اپنے ہی جیسوں سے مل کر رہنے کا آدیش ہے ۔ اسی لیے تو ژاں پال سارت نے کہا کہ آدمی آدمی کا دوزخ ہے اور یہی دوزخ اب کرونا کے روپ میں ہر طرف انسانی بستیوں پر حملہ ٓآور ہے ۔ چنانچہ ایک دوسرے کے دوزخ سے بچ کر رہنے ہی میں عافیت ہے ۔ اسی لیے مذہب نے اپنے ماننے والوں کو ہدایت کی کہ رمضان کے مہینے میں کچھ لوگ سب سے الگ تھلگ ہو کر اعتکاف میں چلے جائیں ۔ یہ اُس طرح کی عبادت کی طرف اشارہ ہے جو غارِ حرا میں کی جاتی تھی مگر پیغمبر اور پیروکار کی عبادت کی نوعیت الگ ہوتی ہے۔

 بستی سے الگ پہاڑ کی کھوہ میں قیام ۔۔ اصحابِ کہف کی کہانی بھی اسی سوشل ڈِسٹینسنگ کی طرف اشارہ ہے ۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چالیس روزہ شبانہ قرارداد پر جانا بھی اسی عبادت کا کنایہ ہے ۔ اور قرنطینہ کا لفظ بھی اسی چالیس روزہ سماجی فاصلےسے اخذ ایک  نام ہے ، جسے ہمارے ہاں چلہ کشی بھی کہا جاتا ہے ۔ بعض اوقات سوشل ڈسٹینسگ انسانی روح کو پاک کرنے اور صبر کو آزمانے کے لیے نافذ ہوتی ہے ۔ جیسے حضرت یوسف کو چھ برس کی قید ہوئی ، یونس ؑ مچھلی کے پیٹ میں رکھے گئے ۔ ایوبؑ کو بیماری میں الگ رہنا پڑا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بنو شعب کی گھاٹی میں محصور کیا گیا تو وہ بھی سوشل ڈسٹنسنگ کی ایک صورت تھی مگر ہمارے یہاں چونکہ حقیقی مذہبی تربیت موجود نہیں اور مذہب کی بنیاد پر مختلف قسم کے سماجی ہنگاموں تک محدود کردیا گیا ہے اس لیے لوگ اپنی ذات میں محدود ہو کر رہنا جانتے ہی نہیں ۔ اور اُن کا کرفیو اور دفعہ چوالیس کی خلاف ورزی کا منفی رویہ ظاہر کرتا ہے کہ ان بیچاروں کی مذہبی تربیت سرے سے ہوئی ہی نہیں اور یہ ایک ایسی تشویشناک صورتِ حال ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ بندگانِ خُدا اب بندگانِ انا بن کر رہ گئے ہیں اور اُن میں وہ عجز موجود ہی نہیں جو انسانی معاشرت کا حسن ہے جیسا کہ بابا فرید نے کہا :

فریدا یسا ہو رہو م جیسا ککھ مسیت

پیراں ہیٹھ لتاڑیے ، کدی نہ چھڈے پریت

اور اس وقت سیاسی ماحول میں فرعونیت کے جو رویے دیکھنے میں آ رہے ہیں وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان لوگوں کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت اللعالمینی کی ہوا تک نہیں لگی ۔اُن کی گفتگو سُنو تو لگتا ہے انہیں اللہ اور اُس کے رسول ؐ اور اُس کی کتاب کے وضع کیے ہوئے قوانین کی کوئی پروا ہی نہیں حالانکہ کورونا جو پیغام لایا ہے وہ یہ ہے کہ :

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

من کی دنیا من کی دنیا سوز و مستی جذب و شوق

تن کی دنیا تن کی دنیا سود و سودا مکر و فن

اب کوئی اس پیغام کو سمجھے یا نہ سمجھے ، مگر  آسماں سے آتی ندائے غیب کہ رہی ہے کہ  اپنی ذات تک محدود ہو جا !

باہر نہ نکل ، کیونکہ باہر نکالے جانے والے پھر نوحہ گری کرتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا ، مجھے کیوں نکالا ۔ اس لیے سب لوگ باہر نکلنے اور نکالنے سے باز رہیں اور خُدا کی طرف سے پابندیاں نرم ہونے کا انتظار کریں ورنہ  کورونا کا گلہ نہ کریں ۔ کیونکہ باہر نکلنا کورونا کا خیر مقدم کرنا ہے جو اپنی جان پر ظُلم کے مترادف ہے ۔ اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ۔

مع السلامہ  ۔مُلا مسعود کا وعظ ختم ہوا ۔ آپ سب کی صحت اور سلامتی کی دعا