کورونا کے باوجود پاک بھارت جھڑپیں جاری ہیں
- منگل 14 / اپریل / 2020
- 4710
پاکستان اور بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باوجود دونوں ملکوں کی افواج کے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں طرف سے جانہ و مالی نقصان کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
پانچ روز سے جاری جھڑپوں سے دونوں ممالک شہریوں کے جانی نقصان کے دعووں کے علاوہ ایک دوسرے کو سرحدی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار بھی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت نے رواں سال 715 مرتبہ جنگ بند معاہدے کی خلاف ورزی کی جب کہ بھارت کا الزام ہے کہ پاکستان نے 800 مرتبہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
بھارتی حکام نے الزام لگایا ہے کہ پاکستانی فوج نے ضلع پونچھ میں ایل او سی کے مینڈھر سیکٹر میں بھارتی فوج کی چیک پوسٹس اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج نے ہلکے اور درمیانے درجے کے ہتھیار استعمال کئے۔
کورونا وائرس کے باعث صحت عامہ کو درپیش مشکلات اور خوف کے ماحول میں دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپوں کو ماہرین افسوس ناک قرار دے رہے ہیں۔ بھارت کے دفاعی تجزیہ کار ایئر وائس مارشل (ر) کپل کاک نے کرونا وائرس کی موجودہ صورتِ حال میں سرحدوں پر گولہ باری کو شرمناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "جو کچھ ہوا ہے یا ہو رہا ہے انتہائی شرمناک ہے۔ کووڈ-19 کی وجہ سے یمن اور شام میں سیز فائر ہوا ہے۔ دنیا بھر کے تنازعات میں کمی آئی ہے۔ لہذٰا پاکستان اور بھارت کو بھی اس صورتِ حال میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔"
اتوار کو دونوں جانب سے ایک دوسرے کی چوکیوں اور تنصیبات پر گولہ باری کے دوران کئی گولے شہری علاقوں میں گرے جس سے دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک اور ایک درجن کے قریب افراد زخمی ہوئے۔ متعدد رہائشی مکانات اور املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ یہ سلسلہ گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر کے شمال مغربی ضلع کپواڑہ کے کیرن سیکٹر میں ایک جھڑپ میں پانچ مشتبہ عسکریت پسندوں اور اتنی ہی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا۔
ایک اور بھارتی دفاعی تجزیہ کار اور سرکردہ صحافی پروین ساہنی کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن پر ہونے والی ان جھڑپوں اور کووڈ-19 سے پیدا شدہ صورتِ حال کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ انہیں اس تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ حالات چاہے جو بھی ہیں ان دونوں ملکوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن پر جو سرگرمی دیکھی گئی ہے وہ چلتی رہے گی۔ میں ان دونوں چیزوں کو آپس میں نہیں ملاؤں گا۔ یہ بالکل الگ الگ معاملات ہیں۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم یہ طے کر لیتے ہیں کہ اس سرگرمی کو موجودہ حالات میں روکنا چاہیے تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ لیکن اس وقت سفارتی سطح پر دونوں ملکوں کے تعلقات معمول کے مطابق نہیں ہیں۔ اس لیے اس سلسلے میں کسی پیش رفت کی کم ہی امید کی جانی چاہیے۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے بھی اپیل کی تھی کہ ممالک تنازعات کو پسِ پشت رکھ کر کورونا وائرس جیسی مہلک وبا کے خلاف اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات گزشتہ سال فروری سے ہی کشیدہ ہیں۔