سندھ کے تاجروں کا 15اپریل سے کاروبار کھولنے کا اعلان

  • منگل 14 / اپریل / 2020
  • 4550

سندھ بھر کے تاجروں نے 15اپریل سے کاروبار کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت لاک ڈاؤن میں توسیع کرنا چاہتی ہے تو مکمل طور پر کرفیو نافذ کرے اور ہمارا کوئی بندوبست بھی کرے۔

منگل کو کراچی میں آل کراچی تاجر اتحاد اور سندھ تاجر اتحاد کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے 15اپریل سے کاروبار کھولنے کا اعلان کیا۔ سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل پراچہ نے کہا کہ گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کی لڑائی نے تاجروں کو اس صورتحال میں لا کر کھڑا کردیا ہے کہ آج ان کے گھروں میں فاقے چل رہے ہیں۔ ہمارا چھوٹا تاجر فاقہ کشی پر مجبور ہے لہٰذا 15تاریخ سے ہم اپنی دکانیں کھولنے کیلئے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں دھمکایا جا رہا ہے۔ ہم جہاں اجلاس کرتے ہیں وہاں پہلے سے انٹیلی جنس کے لوگ آ کر بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں مانیٹرنگ شروع ہو جاتی ہے لیکن اگر آپ یہ چیزیں کرتے ہیں تو آپ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ تاجر آج اس مقام پر آ کر کھڑے ہو گئے ہیں کہ وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنا مال کھا نہیں سکتے اور کسی دوسرے تاجر سے بھی رقم نہیں مانگ سکتے کیونکہ ان کی بھی یہی حالت ہے۔ لہٰذا اگر ہمارے ساتھ زبردستی کی گئی تو ہم سب گرفتاریاں دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے سندھ کے تاجروں سے کہا اب پیچھے ہٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر گرفتاریاں ہوتی ہیں تو ہم بھی گرفتاریاں دینے کے لیے تیار ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ گھر پر بیٹھ کر مرنے سے بہتر ہے کہ ہم ان کے پاس جا کر مر جائیں گے۔

انہوں نے تجویز دی کہ اگر حکومت لاک ڈاؤن آگے بڑھانا چاہتی ہے تو کرفیو لگائے اور ہمارا کوئی بندوبست کرے۔ ہم اس کے لیے بھی تیار ہے۔ ہم نے اپنا طریقہ کار اور لائحہ عمل تیار کر لیا ہے اور ہم ہر طرح کے حفاظتی اقدامات کے ساتھ کام کریں گے۔

واضح رہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی وائرس سے ہر گزرتے دن کے ساتھ متاثر ہو رہا ہے اور وفاق و سندھ حکومت کی جانب سے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کے طور پر حکومت سندھ نے 18مارچ سے کراچی کے کاروبار بند کر دیے تھے جبکہ 23مارچ سے مکمل طور پر لاک ڈاؤن کردیا گیا تھا۔

پاکستان میں اب تک وائرس سے کم از کم 100افراد ہلاک اور ساڑھے پانچ ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔