کورونا سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری، امریکہ میں نرمی کا فیصلہ
- منگل 14 / اپریل / 2020
- 4090
دنیا میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 19لاکھ 25 ہزار اور پلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 20ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ تاہم عالمی سطح پر وائرس کی شدت میں کمی نوٹ کی گئی ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے سبب آج مزید اموات ہوئیں اور نئے اور کیسز رپورٹ ہوئے۔ ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد 5 ہزار782 اور اموات 100 ہوگئیں۔ امریکہ میں کیسز کی تعداد پانچ لاکھ 84 ہزار کے قریب ہے۔ اموات ساڑھے 23 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہیں۔
دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتوں اور نئے کیسز کے باوجود امریکہ کی 10 ریاستوں نے لاک ڈاؤن ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ امریکہ میں کورونا وائرس کا مرکز بن جانے والی امریکی ریاست نیویارک سمیت 10 ریاستوں کے گورنرز نے پیر کو مشترکہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ معاشی سرگرمیاں شروع کر رہے ہیں۔
ریاستی گورنروں کا بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے کے تمام اختیارات اُن کے پاس ہیں۔ امریکہ میں کورونا وائرس کے پیشِ نظر عائد پابندیوں اور لاک ڈاؤن کے باعث اب تک ایک کروڑ سے زائد افراد بے روزگار ہوچکے ہیں اور چھوٹے کاروباری اداروں اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ یکم مئی کو پابندیاں نرم کرنا چاہتی ہے۔
البتہ نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو کا کہنا ہے کہ وہ نیو جرسی، پینسلوینیا، کنیکٹی کٹ، ڈیلاور اور رہوڈز آئی لینڈ کے گورنروں کے ساتھ مل کر گھروں میں رہنے کی پابندی میں نرمی لانے کی حکمتِ عملی تیار کر رہے ہیں۔ اینڈریو کومو نے پانچ ریاستوں کے گورنروں سے ویڈیو کال پر صحتِ عامہ اور معیشت کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ معیشت اور صحتِ عامہ دونوں ہی اُن کی ترجیح ہیں۔
ریاست کیلی فورنیا، اوریگن اور واشنگٹن نے بھی پابندیوں میں نرمی لانے اور کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کی تائید کی ہے۔ تینوں مغربی ریاستوں کے گورنروں کا کہنا ہے کہ وہ بھی سماجی دوری سے متعلق نافذ اقدامات میں نرمی چاہتے ہیں لیکن اس سے قبل وہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا گراف نیچے آتا دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔
تمام 10 ریاستوں کے گورنروں نے سوشل لاک ڈاؤن ختم کرنے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی۔ لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وہ سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شہریوں کی صحت کو مدِ نظر رکھ کر ضروری کاروبار، اسکول اور یونیورسٹیاں کھول دیں گے۔ ریاستی گورنروں کی جانب سے یہ اعلانات ایسے موقع پر کیے جا رہے ہیں جب امریکہ میں کورونا وائرس کے باعث پیر کو بھی کم از کم 1500 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہلاکتوں کی یومیہ تعداد لگ بھگ دو ہزار تھی۔
نیویارک میں اب تک 10 ہزار سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ تاہم گورنر کومو کا کہنا ہے کہ اُن کی ریاست کے 'بدترین ایام' کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حال ہی میں کئی بار کہہ چکے ہیں کہ امریکی عوام بہت جلد اپنی معمول کی سرگرمیاں شروع کر دیں گے۔
دس ریاستوں کے گورنروں کے اعلانات سے قبل صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ لاک ڈاؤن کو ختم کرتے ہوئے معیشت کو دوبارہ چلانے کا کلی اختیار ان کا ہے۔