کئی خانہ خراب آئے۔۔۔۔۔
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- منگل 14 / اپریل / 2020
- 4990
کائنات اس وقت ایک بہت بڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔ آسمانی وبا کورونا کی صورت میں دنیا پر حاوی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک بھی اتنے ہی گھبرائے ہوئے ہیں جتنے ترقی پذیر ممالک۔ لیکن اس آسمانی وبا سے غفلت برتنا ایک اور وبا کو دعوت دینا ہے۔
ہم آپ کی توجہ پاکستان کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ یہ آسمانی وبا ایک ایسا نزول ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ اس وقت دنیا اس بات پر متفق ہے کہ اس کا علاج اور واحد علاج احتیاط، احتیاط اور احتیاط ہے۔ ہمارے وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہ ”جو محدود ہے وہ محفوظ ہے“۔ کورونا میل جول سے پھیلتا ہے۔ اس فارمولے کے پیش نظر دنیا کی حکومتوں نے پبلک میل جول کی جگہیں بند کر دی ہیں جس کا احترام لازم ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اس سال شاید حج بیت اللہ بھی زیر غور ہے۔ عبادت گاہوں کو بند کرنا ایک اہم اقدام ہے۔ اس سے کسی کی دل شکنی مقصود نہیں، بلکہ اس اقدام میں بنی نوع انسان کا تحفظ مضمر ہے۔ اگر حکومت اعلان کرتی ہے کہ فلاح تفریحی مقام غیر معینہ مدت کیلئے بند کیا جا رہا ہے تو اس کا اپنی اور اپنی فیملی کے تحفظ کیلئے اچھا اقدام سمجھنا چاہئے۔ بعض ممالک اور خاص طور پر مغربی ممالک نے اس تحفظ کے اقدام کو سمجھ لیا ہے اور عمل پیرا ہیں۔ چین کو اس امر میں پیش پیش سمجھئے۔ چین نے فراست سے بڑی حد تک اس وبا پر قابو پا لیا ہے۔
اب ہم پاکستان کی طرف آتے ہیں۔ حکومت پاکستان اس وقت اپنی پوری توانائی کے ساتھ ملک اور پاکستان کے عوام کے تحفظ، وسائل و مسائل کم نہ ہونے کے باوجود اپنی تندہی سے سرگرم ہے۔ لیکن ہمارا مسئلہ صرف کورونا نہیں بلکہ سرحدیں بھی ہیں۔ معاشی تنگ دستی بھی ہے۔ بے روزگاری بھی ہے۔ یومیہ مزدوری کرنے والے اور ان کے خاندان بھی ہیں۔ دوسری مشکلات کے ساتھ ساتھ حکومت نے یہ احسن اقدام اٹھایا ہے کہ یومیہ مزدوری کرنے والوں کو بے روزگاری معاوضہ دیا جائے۔ محدود آمدن والے خاندانوں کو سہولتیں مہیا کی جائیں۔ یہ کوئی نئی تجویز نہیں ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک مدتوں سے اس پر عمل پیرا ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب حکومت وقت ان بے حد الجھے ہوئے مسائل کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو اچانک دوسرے سنگین مسائل خودبخود نمودار ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر حالیہ آٹے چین کا مسئلہ، یہ مسئلہ کھڑا کرنے والے ہمارے عوام ہیں۔ بزنس مین ہیں۔ جن کا مقصد محض منافع خوری ہے۔ ان بزنس کرنے والوں کو یہ خیال ہرگز نہیں کہ دنیا کس وبال میں مبتلا ہے اور آپ کیا کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ خاصا گھمبیر ہے۔ ہماری حکومت اور ہماری اپوزیشن میں دانستہ بغض ہے۔ یہ بات بخوبی عیاں ہے کہ اپوزیشن کا صرف اور صرف ایک کام رہ گیا ہے کہ حکومت جو اقدام اٹھائے اس کی نفی کی جائے۔ چاہے وہ درست ہو یا نہ ہو۔ اپوزیشن یہ سمجھنے سے قاصر نظر آتی ہے کہ ملک کی سالمیت میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ آٹے چینی کا بحران ان پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ حکومت کے درست اور قابل عمل فیصلوں کو سراہنا ان کی سالمیت کو مضبوط کر سکتا ہے۔ لیکن اس مشکل وقت میں ہماری اپوزیشن منافی کا پیرائے حوس کی راہ پر گامزن ہے۔
اگر نواز شریف کی صحت اس قدر خراب ہے کہ وہ زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں تو وہ بلا خوف کہہ سکتے ہیں کہ وہ کسی قسم کی عوامی نمائندگی کے قابل نہیں۔ ادھر شہباز شریف صاحب ایک قابل سمجھ دور سے گزر رہے ہیں۔ بعض اوقات تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود بھی نہیں جانتے کہ وہ کیا کرنے والے ہیں۔ جب لندن جاتے ہیں تو ٹوپی پہن لیتے ہیں اور جب پاکستان آتے ہیں تو منہ پر ماسک چڑھا لیتے ہیں۔
دوسروں کی طرح ملک کی زمین تنگ کرنے والے طلال و نہال پشیمان بھی ہیں اور اپنے ہی خون میں کھول رہے ہیں۔ دوسری طرف لوہے کے چنے بھی ”محشر میں جنوں میرا فارغ تو نہ بیٹھے گا“ ان کو بھی احساس ہو چکا ہے کہ ان کے لوہے کے چنے سفوف بن چکے ہیں لیکن مجال ہے جو ان کے منہ سے کوئی مثبت لفظ نکل سکے۔ ہم متعجب ہیں کہ کب تک یہ لوگ اپنے ہی جوس یا اپنے ہی خون میں ابلتے رہیں گے اور کب تک اندھیری راتوں کا ذکر کرتے رہیں گے:
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
ہماری اپوزیشن اس وقت افغانی فارمولے پر گامزن نظر آتی ہیں۔ وہ یہ کہ ”افغانی صرف اور صرف ایک بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ ہمیں کسی بات پر اتفاق نہیں“۔