ریاست پاکستان کا اصل حکمران کون ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 14 / اپریل / 2020
- 9100
پاکستان یوں تو ایک ملک ، ایک ریاست اور ایک وفاق کا نام ہے لیکن اس ایک اکائی کے بیچ سیاسی ، مذہبی اور فرقہ وارانہ تقسیم کی وجہ سے بیک وقت کئی حکمرانوں کی موجودگی کو دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ یہ ’حکمران ‘ ایک ہی وقت میں متضاد اور ایک دوسرے سے متصادم احکامات جاری کرتے ہیں۔ جیسے آج ایک حکم وزیر اعظم عمران خان نے جاری کیا اور چند صنعتوں کو کھولنے کے علاوہ مزید دو ہفتوں کے لئےلاک ڈاؤن جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ آج ہی ایک دوسرا ’حکم‘ کراچی پریس کلب میں علما کے ایک وفد نے جاری کیا جس میں واضح کیا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کا اطلاق پنجگانہ نماز اور جمعہ کے اجتماعات پر نہیں ہوتا۔
آج صبح ہی سندھ کے وزیر اعلیٰ نے کورونا وائرس کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت لاک ڈاؤن جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کے ساتھ مشاورت سے کیا جائے گا۔ شام کے وقت جب وفاق کے نمائیندے وزیر اعظم عمران خان کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے معاملہ پر پریس بریفنگ کے لئے آئے تو انہوں نے چند صنعتوں کو کھولنے اور معیشت بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ ’ہمیں بیک وقت کورونا وائرس اور بھوک کا سامنا ہے۔ ہمیں کوئی متوازن راستہ تلاش کرنا ہوگا‘۔ یہ متوازن راستہ وفاقی حکومت کے نزدیک معاشی سرگرمیوں کو بتدریج بحال کرنے سے ہی حاصل کیاجاسکتا ہے۔ جس کا اعلان کورونا وائرس کے خلاف قائم کی گئی قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔
یہ واضح نہیں ہوسکا کہ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کس بات پر اتفاق ہؤا اور کون سے پہلوؤں پر کیا اور کس قسم کے اختلافات کا اظہار کیا گیا۔ تاہم وزیر اعظم اور ان کے وزیروں اور معاونین خصوصی کی گفتگو سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سندھ کی طرف سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے وفاقی فیصلہ پر کچھ تحفظات سامنے آئے ہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ بدستور سمجھتے ہیں کہ کورونا کے نئے کیسز سامنے آنے اور ہلاکتوں کے موجودہ رجحان کی وجہ سے لاک ڈاؤن جاری رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس وبا کا قلع قمع کیا جاسکے۔ اس کے برعکس وزیر اعظم کا مؤقف ہے کہ حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں، ان کے نتیجے میں وبا کے پھیلاؤ کو روک لیا گیا ہے۔ پاکستان میں اس وبا سے ہونے والا جانی نقصان دنیا کے دیگر ملکوں اور حکومت کے اندازوں سے کم رہا ہے۔ اس لئے اب معیشت کا پہیہ چلانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ بھوک سے نہ مرنے لگیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس لئے اگر کوئی صوبہ وفاقی حکومت کے فیصلہ سے مطمئن نہیں تو وہ خود فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان کے بقول ’نااہل اور ناکارہ ‘ قرار پانے والے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا کے بارے میں وزیر اعظم کے دانشمندانہ فیصلوں کی تائد کرتے ہوئے یہ گرہ لگانا ضروری سمجھا کہ ’سندھ نے اگرچہ سخت لاک ڈاؤن کیا ہے ، اس کے باوجود وہاں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی شرح دوسرے صوبوں سے زیادہ رہی ہے‘۔ گویا انہوں نے حکم صادر کیا کہ مراد علی شاہ کی باتوں کا کوئی سائنسی یا عملی جواز موجود نہیں ہے لیکن وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان نے کورونا وائرس کے حوالے سے تازہ فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے اپنی حکومت کی کامیابیوں اور غریبوں کی بھوک کا دردناک قصہ سناتے ہوئے صنعتوں اور بعض تجارتی شعبوں کو کھولنے کا اعلان کیا تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے متنبہ بھی کیا ہے کہ عوام کو سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ انہوں نے اسکول و دیگر تعلیمی ادارے بند رکھنے کے علاوہ ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’عوام کو بھولنا نہیں چاہئے کہ یہ وبا کسی بھی وقت پھیل سکتی ہے‘۔ وزیر اعظم نے آج جن پابندیوں کے جاری رکھنے اور جن اداروں کے لئے نرمی کا اعلان کیا ہے ، ان میں مدارس ، مساجد میں ہونے والے اجتماعات اور دیگر مذہبی اجتماعات کا بطور خاص ذکر نہیں کیا گیا۔ اس سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ معیشت کو بحال کرنے کے نقطہ نظر سے بعض ضروری صنعتوں اور اداروں کو کھولنے سے قطع نظر حکومت ملک میں لاک ڈاؤن جاری رکھنے کا حکم دے رہی ہے۔ یعنی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ انتہائی اشد ضرورت کے علاوہ گھروں سے باہر نہ نکلیں اور پانچ افراد سے زیادہ کا اجتماع بدستور ممنوع ہوگا۔
عمران خان نے البتہ ماہ رمضان کی آمد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یہ ضرور کہا ہے کہ اس بارے میں ملک کے علما سے بات چیت کے بعد مناب لائحہ عمل تیار کیا جائے گا تاکہ ماہ رمضان کے دوران عبادات کا اہتمام، اس طرح کیا جاسکے کہ کورونا وائرس کو پھیلنے کا موقع نہ ملے اور عوام کی زنگیاں محفوظ رہیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے ایک علیحدہ بیان میں واضح کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران نمازوں اور عبادات کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 18 اپریل کو چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے وزرائے اعلیٰ کے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے فیصلہ سازی میں قومی یک جہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لئے ضروری ہوگا کہ مقامی اور علاقائی بنیادوں پر فیصلے نہ کئے جائیں۔
وفاقی حکومت کے اس اعلان اور وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایات و خواہش کے برعکس مختلف مکاتیب فکر کے علمائے کرام کے ایک وفد نے آج کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس منعقد کی اور واضح کیا کہ مساجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی کا باقاعدہ آغاز کیا جارہا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے اس موقع پر کہا کہ موجود حالات میں نماز پنجگانہ اور جمعہ کے اجتماعات کا انعقاد نہایت اہم ہے۔ اس لئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ آج کے بعد پانچ وقت نماز کے علاوہ نماز جمعہ کا باقاعدہ اہتمام کیا جائے گا۔ تاہم حکومت کی ہدایات کی روشنی میں احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی۔ ان فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے البتہ انہوں نے یہ ’رعایت‘ ضرور دی کہ ’بوڑھے اور بیمار گھروں میں نماز ادا کرسکتے ہیں‘۔ رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین مفتی منیب الرحمان کا اس موقع پر فرمانا تھا کہ ’لاک ڈاؤن کا اطلاق مساجد پر نہیں ہوسکتا۔ اس لئے نماز پنجگانہ اور جمعہ کے علاوہ رمضان المبارک میں تراویح کا اہتمام بھی کیا جائے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ باجماعت نماز کی ادائیگی فرض ہے۔ اس حوالے سے حکومت کے احکامات ’قابل عمل‘ نہیں ہیں۔ حکومت کے احکامات کو ناقابل عمل قرار دینے والے یہ مولوی حضرات نہ جانے نماز کا اہتمام کرتے ہوئے حکومت کی کون سی ہدایات پع عمل درآمد ضروری قرار دے رہے ہیں۔ اس سے ان کی ہٹ دھرمی کے علاوہ ناقص العقل ہونے کا بھی پتہ چلتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ سعودی عرب نے ایک روز پہلے اعلان کیا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اس سال ماہ رمضان المبارک میں حرمین الشریفین میں نماز تراویح کا انعقاد نہیں ہوگا۔ اس یک طرفہ فرمان شاہی پر کسی پاکستانی عالم کو زبان کھولنے کا حوصلہ نہیں ہؤا لیکن وہ ہر قیمت پر پاکستانی عوام کی زندگیوں سے کھیلنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ ملک کے جید علما کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے فیصلوں کے برعکس یہ ’احکامات ‘ جاری کرتے ہوئے اس بات کا بھی کوئی احساس نہیں تھا کہ ایسے اعلانات سے ایک طرف وہ عوام کی زندگی خطرے میں ڈال رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی بے یقینی اور انتشار پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب حکومت مشاورت سے رمضان المبارک کے دوران نمازوں کے انعقاد کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اشارہ دے رہی ہے، مذہبی رہنماؤں کا یک طرفہ فیصلہ ریاست کی حاکمیت کو براہ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہے جس نہ تو ملک کا آئین اجازت دیتا ہے اور نہ ہی اسلامی فقہ میں اس کی گنجائش موجود ہے۔
نماز باجماعت کا اہتمام کرنے کے پرجوش حامی مفتی منیب الرحمان، چئیرمین رویت ہلال کمیٹی کے عہدے پر فائز ہیں۔ یعنی وہ حکومت وقت کے ملازم ہیں اور عوام کے ٹیکس سے انہیں مشاہرہ اور دیگر سہولتیں فراہم ہوتی ہیں۔ وہ اسی حکومت کے فیصلوں سے ’بغاوت‘ کا اعلان کررہے ہیں جس کے وہ تنخواہ دار ہیں۔ اگر اس معاملہ کے قانونی اور مذہبی پہلو کو نظر انداز بھی کردیا جائے تو کیا انہیں اخلاقی طور سے ایک ایسی حکومت کا دیا ہؤا عہدہ برقرار رکھنا چاہئے جس کے احکامات کو وہ دینی تقاضوں سے متصادم سمجھتے ہیں۔ مفتی منیب الرحمان اور دیگر علما کا یہ مؤقف قانونی ، مذہبی اور اخلاقی طور سے کمزور ہے اور عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش ہے تاکہ ان کے مذہبی جذبات کو ابھار کر ان پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا جاسکے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت ایسے علما کو غیر مؤثر کرنے کے اقدامات کرے اور عوام بھی ان کے اصل چہرے اور نیتوں کو پرکھنے کی سعی کریں۔
موجودہ حالات میں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان نام کی ریاست تو ایک ہے لیکن اس کے حکمران کئی ہیں۔ اور وہ اپنی مرضی، سہولت اور مفاد کے مطابق فیصلے کرنے اور احکامات جاری کرنے میں ’آزاد‘ ہیں۔ کیا کوئی ریاست انارکی کی موجودہ صورت حال میں کسی بھی مشکل کا مقابلہ کرسکتی ہے؟