کرونا وائرس: 20 لاکھ سے زائد مریض، ایک لاکھ 28 ہزار ہلاک

  • بدھ 15 / اپریل / 2020
  • 3680

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بیس لاکھ اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 28 ہزار ہوگئی ہے۔ پاکستان میں 6 ہزار 246 افراد متاثر  اور 113 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

حکومتی سطح پر کورونا وائرس کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں تاہم اس کا پھیلاؤ جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے ملک میں مزید 2 ہفتوں کے لیے جزوی لاک ڈاؤن میں توسیع کی گئی ہے تاہم ساتھ ہی مختلف شعبوں کو کھولنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ بدھ کے روز ملک میں  269 نئے کیسز اور 6 اموات ریکارڈ ہوئیں۔ سندھ، پنجاب، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

بھارت کی حکومت نے لاک ڈاؤن میں تین مئی تک توسیع کر رکھی ہے۔ حکومتی ہدایت نامے میں دفاتر اور عوامی مقامات پر ماسک لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بھارت میں بھی بعض صنعتوں کو جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بھارت نے اعلان کیا ہے کہ پیداواری شعبے اور زراعت کے شعبے 20 اپریل سے کھول دیے جائیں گے تاہم ملک بھر میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں آئندہ ماہ کے آغاز تک جاری رہیں گی۔

اس وقت دنیا بھر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم بہت سے ممالک میں ٹیسٹ کی سہولیات کی کمی کے باعث اس میں تیزی سے اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 28 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ فرانس کا کہنا ہے کہ ملک میں 15 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ فرانس اس وقت امریکہ، اٹلی اور اسپین کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتوں کے حوالے سے چوتھا ملک ہے۔

اٹلی اور سپین نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا ہے جبکہ فرانس نے لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں توسیع کر دی ہے۔ امریکہ کی مغربی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے کہا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کی پابندیاں اسی وقت ختم کریں گے جب ریاست میں کصرونا وائرس کے باعث استپال آنے والے مریضوں کی تعداد مسلسل دو ہفتے تک کم ہوتی رہے لب۔

گورنر کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ٹیسٹ وسیع پیمانے پر کیے جاتے رہیں اور طبی عملے کے لیے حفاظتی ساز و سامان کی فراہمی میں تسلی بخش طور پر اضافہ ہو۔ تاکہ کرونا وائرس میں مبتلا افراد کی بروقت نشاندہی کے بعد انہیں الگ کیا جا سکے۔