سندھ حکومت کا لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کا اعلان

  • بدھ 15 / اپریل / 2020
  • 4170

سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے خبردار کیا ہے کہ صوبے میں کورونا وائرس کی اموات کا تناسب 2.4 فی صد ہے جو دنیا میں اموات کی شرح سے زیادہ ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے انکشاف کیا کہ کورونا کے بہت سے ایسے کیسز ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے بھر میں لاک ڈاؤن بدستور جاری رہے گا بلکہ اسے مزید سخت کیا جائے گا۔ صرف ان صنعتوں میں کام کرنے کی اجازت ہوگی جہاں احتیاطی تدابیر پر عمل ممکن بنایا جائے۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ تبلیغی جماعت سے منسلک 5000 افراد صوبے میں قرنطینہ میں ہیں۔ ان میں سے جو لوگ صحت یاب ہو رہے ہیں ان کو سرٹیفکیٹ دے کر گھر روانہ کیا جائے گا۔ سید مراد علی شاہ نے وزیر اعظم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سب کو ساتھ لے کر کاروبار کھولنے سے متعلق ایس او پیز کو تیار کیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نے ان کی تجاویز کو تحمل سے سنا، مانا اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم بھی کراچی آئیں تو ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائنز پر عمل کریں تو اس سے اچھا تاثر جائے گا۔ مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ اگلے دو ہفتے بھی سخت لاک ڈاون ہوگا ہے اور اس کی سختی سے نگرانی کی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بلاوجہ گھروں سے بالکل نہ نکلیں۔

کاروبار کھولنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سندھ میں جہاں تک ہو سکتا ہے ایس او پیز پر عمل کرائیں گے۔ صنعتوں، تعمیرات اور دیگر شعبوں کو اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک اس معاملے میں ایس او پیز تیار نہ کرلی جائیں۔ جو بھی بلڈر ان ایس او پیز کو فالو نہیں کرے گا اسے کام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جب تک ایس اوپیز کو فالو نہیں کیا جائے گا کسی کاروبار کو کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ تاجروں اور علما سے بھی ملاقاتیں جاری ہیں اور ان سے ایس او پیز طے کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ہوٹلوں میں بھی بیٹھ کر کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکلوں پر ڈبل سواری اور کئی بچوں کے ساتھ سفر کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

مراد علی شاہ کے مطابق صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ درزی، پلمبر اور بجلی سے متعلق دکانیں بند ہی رہیں گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کورونا کے مرض کو ایک داغ بنا لیا گیا ہے، اس کے رشتہ دار بھی لاش نہیں لیتے۔ مراد علی شاہ نے ان الزامات کو سختی سے رد کیا کہ صوبے میں غریب اور مستحق افراد کو راشن کی فراہمی میں کوئی بدعنوانی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت 58 کروڑ روپے کی رقم جاری کی ہے جس کے تحت اب تک ڈھائی لاکھ راشن بیگز تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح کورونا ریلیف فنڈ میں سے تین ارب روپے جاری کیے جاچکے ہیں۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ مراد علی شاہ کا اختیار ہے کہ وہ سندھ میں لاک ڈاؤن کریں اور وہاں عوام کو گھروں سے نہ نکلنے دیں یا وہاں کرفیو لگا دیں۔ فیکٹریاں بند کر دیں اور ٹرانسپورٹ نہ چلنے دیں۔ لیکن اس کے ساتھ ان کی ذمہ داری ہے کہ غریبوں کو دو وقت کا کھانا فراہم کریں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ صوبے حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلے کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ کو کہا گیا ہے کہ وہ صوبے کے مفاد میں جو کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں۔