صدر ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کی امداد بند کردی

  • بدھ 15 / اپریل / 2020
  • 4420

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت  کو دی جانے والی امداد روکنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث بحران میں عالمی ادارے نے انتہائی بدنظمی کا مظاہرہ کیا اور اس کے پھیلاؤ کو چھپایا۔

منگل کو وائٹ ہاؤس میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ڈبلیو ایچ او کی نااہلی کی وجہ سے دنیا میں کورونا وائرس کے کیسز 20 گنا بڑھ گئے ہیں۔ ادارہ اپنی بنیادی ذمہ داری انجام دینے میں ناکام رہا اور اس لیے اس کا احتساب ہونا چاہیے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او نے چین پر سفری پابندیاں لگانے پر انہیں بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

رواں سال فروری تک ڈبلیو ایچ او کا موقف تھا کہ جن ملکوں میں کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، ان پر سفری پابندیاں لگانے کی ضرورت نہیں اور ایسا کرنا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کا مؤثر طریقہ نہیں ہے۔ منگل کو نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے نے چین کی یقین دہانیوں کو تسلیم کیا اور نہ صرف چینی حکومت کے اقدامات کا دفاع کیا بلکہ اس کی نام نہاد شفافیت کی تعریف بھی کی۔ یاد رہے کہ امریکہ ہر سال ڈبلیو ایچ او کو 50 کروڑ ڈالر امداد فراہم کرتا ہے جو ادارے کے کل بجٹ کا 15 فی صد ہے۔

نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ڈبلیو ایچ او کی امداد روک کر اس رقم کو ان مقامات پر خود خرچ کریں گے جہاں اس کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ الزام عائد کر چکے ہیں کہ ڈبلیو ایچ او نے غلط معلومات فراہم کیں اور اس کا جھکاؤ چین کی جانب ہے۔ البتہ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس گیبریاسس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ عالمی ادارۂ صحت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق تمام ملکوں کو تازہ ترین اعداد و شمار، درست معلومات اور شواہد فراہم کیے تھے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے امداد روکنے کے اعلان کے بعد اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ یہ وہ وقت نہیں جس میں عالمی ادارہ صحت کے وسائل میں کٹوتی کی جائے۔  ان کے بقول کورونا وائرس کا پھیلاؤ اور اس کے اثرات پر قابو پانے کے لیے بین الاقوامی برادری کو متحد ہو کر ایک دوسرے سے تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔  دوسری جانب آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی ڈبلیو ایچ او پر کی گئی تنقید سے کسی حد تک متفق ہیں۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کو خود بھی اس تنقید کا سامنا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کو روکنے کے لیے امریکہ میں جلد اور مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ امریکہ میں اب تک وائرس کے چھ لاکھ سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں اور 26 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔  صدر ٹرمپ اس تنقید کے جواب میں کہتے ہیں کہ انہوں نے بروقت اقدامات کیے تھے اور چین اور یورپ پر سفری پابندیاں لگانے کی وجہ سے ان پر اس وقت تنقید کی جارہی تھی لیکن انہوں نے وہی فیصلے کیے جن کی ضرورت تھی۔

چین نے عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روکنے پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے دنیا کے تمام ملک متاثر ہوں گے۔ خصوصاً اس وقت جب دنیا کورونا وائرس کی وبا کا سامنا کرتے ہوئے انتہائی اہم مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت پر تنقید کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ کووڈ-19 کا مقابلہ مل کر ہی کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں سب سے اچھی بات یہ ہو گی کہ اقوام متحدہ اور خاص طور پر عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ بڑھاتے ہوئے اسے تعاون فراہم کیا جائے۔ تاکہ وہ ٹیسٹس اور ویکسین کی سہولتیں فراہم کرنے پر کام جاری رکھ سکے۔

یورپین یونین کی خارجہ امور کی پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی خدمات کی اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے اور ان حالات میں صدر ٹرمپ کی ادارے پر تنقید بلا جواز ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم بہت سے ممالک میں ٹیسٹ کی سہولیات کی کمی کے باعث اس میں تیزی سے اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔