کورونا اور زوم میں مشترک قدر

کورونا کی وبا اور مقبول ترین ویڈیو کانفرنس پلیٹ فارم، زوم میں ایک قدر مشترک ہے۔ جیسے جیسے کورونا وبا کے اثرات نے دنیا کو اپنے جال میں جکڑنا شروع کیا، ویسے ویسے زوم بھی دنیا کو اپنے شکنجے میں دبوچنے لگا۔

اس وقت زوم وہ واحدسافٹ ویئر ہے جس نے سماجی دوری کاجواب برقی قربت کی صورت میں دیا۔ دفتر، میٹنگ، اسکول و کالج، وہ سب کچھ جو کورونا وبا کی وجہ سے یکسر ختم یا وقتی طور پر بند ہوجانے کے خطرات میں گھرا تھا، زوم کی مہر بانی سے ہوم آفس، ویڈیو میٹنگ اور کانفرنس، آن لائن اسکول و کالج اور کھیل کود، ورزش اور ادبی آن لائن تقریبات کی صورت میں سامنے آنے لگیں اور کاروبار زندگی کو چلانے کا سبب زوم ہی ٹھہرا۔

سلیکون ویلی سے نکلا یہ سافٹ ویئر اس وقت ساری دنیا کو جوکہ کورونا وبا کی زد میں مفلوج ہو جانے کے خطرات سے گھری ہوئی ہے، زوم کے ذریعہ متحرک رکھنے کا سامان بہم پہنچا رہا پے۔ اس وقت جبکہ کورونا وبا کی وجہ سے ہلاکتیں بے تحاشہ بڑھتی جارہی ہیں اور دنیا کے بیشتر تجارتی مراکز کو دیوالیہ کا خوف ہے، زوم کی حصص مارکیٹ میں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔  لیکن زوم کے سی اے او اریک یوان کو زوم میں موجود حفاظتی نقص کی وجہ سے سخت تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

زوم کی پائیداری اور اس کے محفوظ ہونے کی بابت چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ اور اس کی کانفرنسوں کے دوران بن بلائے مہمان یا کانفرنس کا چین میں ریکارڈنگ کا بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔  اس کے باوجو بقول یوان کے مارچ کے مہینے میں ان کے پلیٹ فارم کو 200 ملین صارفین نے استعمال کیا۔ اور نتیجتاً زوم کے حصص کی قیمت ایک دم سے بڑھ گئی ہے۔ سال گزشتہ کی آمدنی 650 ملین ڈالر سے بڑھ کر 35 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

کورونا اور زوم میں قدر مشترک، ان کا چین سے تعلق کا ہونا بھی ہے۔ سیلکون ویلی کی اس کمپنی کے مالک اپنے دفتر سے جب چینی لہجے میں کانفرنس کرتے ہوئے اپنی کمپنی کی دفاع میں گویا ہوئے تو بہت عجیب سا لگا۔ آپ پیدائشی چینی ہیں اور آپ نے شاندونگ سے تعلیم حاصل کی ہے اور ویبکس اور سسکو میں ملازمت کے بعد  سافٹ ویئر کی یہ کمپنی کھولی۔

زوم کے مالک یہ کہتے نہیں تھکتے کہ زوم کا استعمال نہایت سادہ ہے۔ زوم شادی بیاہ سے لے کر تجارت سب ہی شعبے میں دھڑلے سے استعمال ہورہا ہے اور ایسے میں اس پلیٹ فارم کا ہیکرز سے محفوظ ہونا بہت ضروری ہے۔کرونا اور زوم دونوں ہی غیر محفوظ ہیں۔۔۔