کورونا سے ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ، بعض ملکوں میں نرمی کا اعلان
- جمعرات 16 / اپریل / 2020
- 5120
دنیا میں کورونا متاثرین کی تعداد 20 لاکھ 75 ہزار اور اموات کی یاک لاکھ 38 ہزار تک پہنچ گئی ہیں۔ پاکستان میں اب تک 6 ہزار 865 افراد متاثر جبکہ 128 جاں بحق ہوچکے ہیں۔
پاکستان میں 26 فروری کو کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا اور ابتدا میں اس وائرس کا پھیلاؤ کم تھا تاہم گزشتہ 15 روز میں اس میں بہت زیادہ تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ملک میں وائرس کی روک تھام کے لیے مختلف نوعیت کی پابندیاں اور جزوی لاک ڈاؤن کو بھی 30 اپریل تک بڑھا دیا گیا ہے تاہم وائرس کے سبب اموات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
فرانس میں چند دن تک اموات میں کمی کے بعد ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں بدھ کو کورونا وائرس کے 1438 مریض ہلاک ہوگئے۔ اسپین، اٹلی اور ایران میں یومیہ اموات نسبتاً کم ہوئی ہیں، جبکہ برازیل، سویڈن اور کینیڈا میں ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، 210 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 20 لاکھ 75 ہزار اور اموات کی تعداد ایک لاکھ 38 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ 24 گھنٹوں کے دوران برطانیہ میں 761، اٹلی میں 578، اسپین میں 453، جرمنی میں 309، بیلجیم میں 283، برازیل میں 225، نیدرلینڈز میں 189، سویڈن میں 170، ترکی میں 115 اور کینیڈا میں 103 افراد دم توڑ گئے۔ ایران میں 94، میکسیکو میں 74 اور سوئزرلینڈ میں 65 افراد چل بسے۔
امریکہ میں بدھ کی شام تک 2400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے تھے جس کے بعد کل اموات کی تعداد تقریباً 28 ہزار سے زیادہ ہوگئی۔ ملک میں کیسز کی تعداد 6 لاکھ 43 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اٹلی میں ہلاکتوں کی کل تعداد 21645، اسپین میں 18708، فرانس میں 17167 اور برطانیہ میں 12868 ہوگئی ہے۔ مزید 10 ملکوں میں کم از کم ایک ہزار اموات ہو چکی ہیں۔ ایران میں 4777، بیلجیم میں 4440، جرمنی میں 3804، چین میں 3342، نیدرلینڈز میں 3134، برازیل میں 1757، ترکی میں 1518، سوئزرلینڈ میں 1239، سویڈن میں 1203 اور کینیڈا میں 1006 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
امریکہ کی پانچ ریاستوں میں ایک ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن میں صرف نیویارک میں 11586 اموات ہوئی ہیں۔ نیوجرسی میں 3156، مشی گن میں 1921، میساچوسیٹس میں 1108 اور لوزیانا میں 1103 افراد کا انتقال ہوچکا ہے۔
امریکہ کے بعد سب سے زیادہ کیسز اسپین میں سامنے آچکے ہیں جن کی تعداد ایک لاکھ 77 ہزار ہے۔ اٹلی میں یہ تعداد ایک لاکھ 65 ہزار، فرانس میں ایک لاکھ 47 ہزار، جرمنی میں ایک لاکھ 34 ہزار، برطانیہ میں 98 ہزار، چین میں 82 ہزار، ایران میں 76 ہزار اور ترکی میں 69 ہزار ہے۔
امریکہ میں بڑے پیمانے پر کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن کی تعداد اب ساڑھے 32 لاکھ ہو چکی ہے۔ جرمنی میں 17 لاکھ 28 ہزار، روس میں 15 لاکھ 17 ہزار اور اٹلی میں 11 لاکھ 17 ہزار ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔ ان کے بعد سب سے زیادہ ٹیسٹ متحدہ عرب امارات میں کیے گئے ہیں جن کی تعداد 7 لاکھ 67 ہزار ہے۔ ان میں صرف 5365 مریضوں کی تصدیق ہوئی اور اب تک 33 اموات ہو چکی ہیں۔
کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 5 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ان میں چین کے 77 ہزار، جرمنی کے 72 ہزار، اسپین کے 70 ہزار، ایران کے 50 ہزار، امریکہ کے 48 ہزار، اٹلی کے 38 ہزار اور فرانس کے 31 ہزار شہری شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ملک کی معیشت کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس حوالے سے جمعرات کو ایک منصوبہ بھی پیش کریں گے۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور نئے کیسز میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکہ کورونا وائرس سے دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔
کورونا وائرس کے شکار ہونے والے بعض یورپی ملک پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے معمولاتِ زندگی بحال کر رہے ہیں۔ ڈنمارک نے اسکولوں کی ایک ماہ کی بندش ختم کرتے ہوئے بڑے بچوں کے لیے اسکول کھول دیے جب کہ فن لینڈ نے دو ہفتوں کے بعد ٹرانسپورٹ پر عائد پابندی کو ختم کر دیا ہے۔ دیگر ملکوں نے بھی پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ ایران چھوٹے کاروبار کو کھول رہا ہے جب کہ بھارت نے دیہی علاقے کے لوگوں کو کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اسی طرح پاکستان نے بھی کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باوجود بعض صنعتوں کو کھول دیا ہے۔