کرونا وائرس اور نوجوان

کرونا وائرس سے نمٹنا ایک بڑا قومی چیلنج ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے میں ریاست یا حکومت تن تنہا کچھ نہیں کرسکتی۔ یہ جنگ ہمیں اگر جیتنی ہے تو اس میں معاشرے کے تمام فریقین کو ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

 یہ وقت سیاسی پوائینٹ اسکورنگ، مقابلہ بازی،الزام تراشی یا ایک دوسرے پر تنقید کا نہیں۔اگر ہم مثبت انداز میں جس بھی سطح پر موجود ہیں اورجتنا کچھ کرسکتے ہیں ہمیں کرنا چاہیے یہ ہمارا قومی فریضہ  و  ذمہ داری  ہے۔پاکستان خوش قسمتی سے ان معاشروں میں آتا ہے جہاں آبادی کا سب سے بڑا گروپ نوجوانوں  پر مشتمل ہے۔  جن کی عمریں 18تا 35برس ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم بطور ریاست، حکومت یا معاشرہ ان نوجوانوں کو ایک بڑی جنگ میں کیسے سفیر کے طور پر استعما ل کرسکتے ہیں۔

اس وقت کیونکہ پورا ملک کسی نہ کسی شکل میں لاک ڈاؤن ہے۔ ایسے میں دیگر طبقات کی طرح نوجوان بھی گھروں یا محلوں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ایک سوال گھر، خاندان او رسماج میں یہ موجود ہے کہ ہم ان نوجوانوں کو کیسے اس جنگ سے نمٹنے میں استعمال کریں اور کیسے ان کی مدد سے اس جنگ کا مقابلہ کیا جاسکتاہے۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستانی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دونوں سخت حالات کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں دیگر طبقات کے مقابلے میں کا م کرنے کاجذبہ، لگن، شوق اور محنت کا جذبہ  زیادہ ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی جب بھی ہمیں مختلف قومی بحرانوں مثلا ًسیلاب، زلزلہ یا کوئی دیگر آفات کا سامنا کرنا پڑا تو یہ ہی نوجوان طبقہ قومی خدمت کے جذبہ کے ساتھ ہمیں عملی طور پر میدان میں کام کرتا ہوا نظر آیا۔

 موجودہ صورتحال میں اگر ہم نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کو متحرک کرنا ہے تو ہمیں چند بنیادی  پہلوؤں پر توجہ دینی ہوگی۔ اول یہ نوجوان مالی وسائل تو نہیں رکھتے مگر مالی وسائل کو جمع کرنے  کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ نوجوانوں کا  فرض ہے کہ وہ اس مشکل مرحلے میں اپنے اپنے علاقوں میں  وسائل پیسے یا اشیا کی صورت میں جمع کریں او ربرا ہ راست مخیر حضرات سے رابطہ کرکے ان افراد کی مقامی سطح پر نشاندہی کریں جو واقعی ضرورت مند ہیں او رمعاشی بدحالی کے پیش نظر  مشکلات کا شکار ہیں۔ ان ضرورت مند لوگوں کے لئے  خوراک کا انتظام کرنا اور خاص طو رپر ایسے لوگ جو سفید پوش ہیں اور سب کے سامنے کھل کر ہاتھ نہیں پھیلاتے او رجن کی آمدنی کا واحد زریعہ روزمرہ سے جڑا کا م ہوتا ہے وہ ہماری توجہ کے زیادہ مستحق ہیں۔پاکستانی معاشرے میں  مدد کرنے کا  جذبہ موجود ہے۔جب آپ عملی طور پر محلہ یا علاقے کی سطح پر سرگرم  ہوں گے توبہت سے لوگ اس نیک کام میں حصہ ڈالیں گے۔

یہ نوجوانوں کا ہی مقامی سطح پر کام بنتا ہے کہ وہ اس عمل کی نگرانی کریں کہ  کس گھر میں امداد چلی گئی ہے او رکون ایسے ہیں جو ابھی تک اپنی سفید پوشی کی وجہ سے محروم ہیں۔ نگرانی کی شفافیت کا یہ عمل ان لوگوں تک بھی امداد کو پہنچانے کا کام کرسکے گا جو واقعی  ضرورت مند ہیں، مگر کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے لیے تیار نہیں۔اسی طرح مقامی نوجوان ان سماجی تنظیموں، اداروں، کاروباری طبقات، مخیر حضرات، سیاسی نمائندوں یا جماعتوں کے  کام کی نگرانی کریں کہ اگر وہ کچھ امداد کی صور ت میں کررہے ہیں کیا  یہ عمل  شفاف ہے۔ اسی طرح وہ ان تما م اہم لوگوں یا ادروں تک ان لوگوں کی نشاندہی بھی کرسکتے ہیں جو ضرورت مند ہیں تاکہ ان کی مدد سے وہ لوگ بھی مستفید ہوسکیں۔اس بات کا خاص دھیان رکھاجائے کہ امداد کے معاملے میں ہر طرح کے سیاسی،سماجی، برداری، فرقہ، علاقہ یا مذہب کے تعصب سے آزاد ہوکر مدد کی جائے۔کیونکہ کچھ واقعات ایسے سننے یا دیکھنے کو ملے ہیں جہاں غیر مسلموں کی مدد میں تفریق کی گئی ہے جو کہ مناسب عمل نہیں۔

 لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں میں ایک غیر یقینی، ڈر اور خو ف کی فضا قائم ہوگئی ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو خود بھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا اور دوسروں کو بھی یہ ترغیب دینی ہے کہ ہمیں مل کر اس وبا کا مقابلہ کرنا ہے او ریہ جنگ جیتنی ہے۔ہم ان لوگوں کی نشاندہی کریں جو بلاوجہ لوگوں میں خوف کو پیدا کرکے  غیر یقینی پیدا کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا میں ہمیں نوجوانوں کی سطح پر بھی معلومات کے تبادلہ کے تناظر میں ایک بڑی غیر ذمہ داری، غیر سنجیدگی  کی کیفیت نظر آتی ہے۔ یہ بیانیہ پیش کیا جارہا ہے کہ کچھ نہیں ہورہا حالانکہ اس وقت ہر سطح پر بہت کچھ اچھا بھی ہورہا ہے او راس کو بھی پیش کرکے ہم امیدیا بہتری کا پہلو پیدا کرسکتے ہیں۔یہ وقت الزام تراشیوں سے زیادہ عملی کام کا ہے۔

 جو نوجوان پڑھے لکھے ہیں ان کومقامی سطح پر لوگوں کو کرونا وائرس  سے  آگاہی دینی چاہیے او رجو بھی حکومت پاکستان یا عالمی ادارہ صحت کی معلومات یا گائڈ لائن ہیں اس کو بنیاد بنا کر ہم ایک بڑی سماجی مہم شروع کرسکتے ہیں جو نہ صرف لوگوں میں معلومات کا اضافہ  کرے بلکہ ان میں حفاظتی اقدامات کی اہمیت بھی  ہو۔ کیونکہ حفاظتی اقدامات حکومت ڈنڈے کے زورپر نہیں کرسکتی اس میں خود لوگوں کو اپنی جانب سے  سماجی ذمہ داری کو پورا  کرنا ہے۔ کیونکہ ابھی ہمیں ایسی بہت سی شکایات مل رہی ہیں جہاں لوگ حفاظتی اقدامات اور نقل و حمل کے تناظر میں حکومتی ہدایات پر عمل نہیں کررہے یا کرونا جیسے مرض کے بارے میں ان کا رویہ غیر سنجیدہ ہے۔سماجی آگاہی کے لیے نوجوان سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرسکتے ہیں۔

اگرچہ ان دنوں میں نوجوان لڑکیوں کی سماجی نقل و حمل بہت مشکل ہے اور وہ زیادہ تر گھرو ں تک ہی محدود ہیں۔ لیکن ان کا بھی جہاں رابطہ ہوتا ہے یا کسی سے ملاقات یا بات چیت ہوتی ہے تو وہ عورتو ں میں بھی آگاہی مہم کو چلاسکتی ہیں۔متوسط یا خوشحا ل طبقہ کی نوجوان لڑکیا ں خود بھی او راپنے گھروں کے بڑوں کو متحرک کرسکتی ہیں کہ وہ کمزور یا غریب لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔خاص طور پر گھریلو ملازمائیں جو کچھ وقت کے لیے آپ کے گھر کاکام کرتی تھیں، ان میں سے بیشتر کو کاموں سے فارغ کردیا گیا ہے، ان کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔نوجوانوں کی سطح پر لڑکوں او رلڑکیوں کو گلی محلہ کی درست صفائی اور خود کو صاف رکھنے کے حوالے سے بھی آگاہی مہم چلانی چاہیے تاکہ ہم بھی او رہمارا علاقہ بھی مختلف بیماریوں سے محفوظ رہ سکے۔اسی طرح لوگو ں میں یہ آگاہی بھی دینی چاہیے کہ اگر ان کے اردگرد کو ئی کرونا مریض سامنے آئے تو اس سے گھبرانے کی بجائے اس سے بہتر سلوک کرنا چاہیے۔ یہ سمجھنا کہ اب وہ قابل رحم ہے او ر اس کی بیماری پر خود کو خوف میں مبتلا کرکے اسے یہ احسا س دینا کہ وہ بڑا بوجھ ہے، درست حکمت عملی نہیں۔

 نوجوانوں کو سوشل میڈیا میں ایسے انفرادی یا گرو پ یا اداروں کی سطح پر لوگ نظر آرہے ہیں جو لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں ان سے  رابطہ کاری کو بڑھانا ہوگا او ران کی مدد سے اپنے علاقوں کے لوگوں کی مد دکرنا ہوگی۔ کیونکہ ہمیں بعض اوقات پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون سے حکومتی یا غیر حکومتی ادارے ہیں جو لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنی معلومات اورنگرانی کے عمل کو بھی موثر بنانا اور خود کو بھی باخبر رکھنا ہوگا۔ یہ بھی سیکھنا ہوگا کہ آج کی گلوبل دنیا میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے جو اہم اقدامات ہورہے ان سے سیکھ کر اپنے لیے بھی اصلاح کے پہلو پیدا کئے جائیں۔

یہ کام بھی نوجوانوں کو کرنا چاہیے کہ وہ مقامی سطح پر  قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان،مقامی نمائندے، حکومتی او رانتظامی اداروں کو بھی متحرک کریں کہ وہ ایک ذمہ دار کردار ادا کریں۔ان کی نگرانی اور جوابدہی کے نظام کو بھی مضبوط بنایا جائے کہ جب لوگ مشکل میں ہیں تو ان سیاسی و حکومتی نمائیندوں کو تو سب سے پہلے لوگوں میں موجود ہونا چاہیے۔حکومتوں پر دباؤ اس انداز سے ڈالنا چاہیے کہ ان کے کام بھی نظر آئیں او راس میں کمزور طبقہ کے لیے زیادہ سے زیادہ مراعات شامل ہوں۔